حضور ﷺ کے اخلاق (تقریر)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم، أما بعد!
اعوذباللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم ( لقد کان


لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ)

محترم سامعین کرام!
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، اور انسانوں میں سب سے افضل انبیاء کرام کو بنایا، اور انبیاء کرام میں سب سے افضل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا، آپ کی زندگی تمام انسانوں کے لئے نمونہ ہے، آپ کے اخلاق سب سے اعلیٰ ہیں، دشمن بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا اس دنیا میں کوئی نہیں آیا، اور آپ جیسے اخلاق کسی کے پاس نہیں تھے۔
ہوں لاکھوں سلام اس آقا پر دل لاکھوں جس نے جوڑ دیے
دنیا کو دیا پیغام سکوں ،طوفانوں کے رخ موڑ دیے

اس محسنِ انسان نے کیا کچھ نہ دیا انسانوں کو
دستور دیا منشور دیا کئی راہیں دیں کئی موڑ دئے

محترم حضرات! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قرآن آپ کی سیرت و اخلاق کا مجموعہ ہے، ارشاد باری ہے،(انک لعلی خلق عظیم) ایک مرتبہ آپ کسی غزوہ سے واپس ہورہے تھے، آپ اور آپ کے ساتھی دوپہر میں آرام کرنے کے لیے ٹھہرے، جب تمام لوگ سوگئے تو ایک کافر آپ کے پاس آتا ہے، آپ کی تلوار اٹھاتا ہے، آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا ہے، کہ اچانک آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے، کیا دیکھتے ہیں کہ دشمن ننگی تلوار لیے سامنے کھڑا ہے، وہ کہتا ہے کہ بتاؤ تم کو کون بچائے گا؟ آپ اطمینان سے جواب دیتے ہیں *اللہ*
آپ کا جواب سن کر وہ تھر تھر کانپنے لگتا ہے، اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے، آپ تلوار اٹھاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ بتا اب تجھے کون بچائے گا؟ وہ گڑگڑانے لگتا ہے، معافی مانگتا ہے، آپ اس کو معاف کر دیتے ہیں، یہ تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کہ آپ نے جانی دشمن کو معاف کر دیا، ایسے کئی واقعات ہیں جن سے سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں،

محترم حضرات! یاد کیجئے فتح مکہ کو! جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار صحابۂ کرام کی جماعت کے ساتھ مکہ میں داخل ہوتے ہیں، صحابہ اعلان کرتے ہیں: آج بدلے کا دن ہے، آج تلوار چلانے کا دن ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں سے جب یہ آواز ٹکراتی ہے تو آپ فرماتے ہیں: آج تو مہربانی کا دن ہے، آج تو معافی کا دن ہے، یہ کہہ کر آپ نے ان لوگوں کو معاف کردیا جنہوں نے آپ کو ستایا تھا، گھر سے بے گھر کیا تھا، وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا،

محترم سامعین!
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں، آپ کے اخلاق عالیہ اپنے اندر پیدا کریں، دنیا کے لئے نمونہ بنیں، تبھی ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی حاصل ہوگی،
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت