حضرت مولانا محمد یونس صاحب کڑی کا خط

باسمہ سبحانہ 


٣/ محرم الحرام١٤٢٤ھ 

مکرمی و محترمی عزیزم مولوی احمد سلمہ اللہ تعالٰی


 السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

 خیریت طرفین مطلوب۔



پرسوں فون پر آپ کی نیک خواہشات اور خیر خواہانہ جذبات کا اندازہ ہوکر قلبی مسرت ہوئی۔اللہم زد فزد


 یعنی آپ کی خواہش ہے کہ مدرسے کے طلبہ و مدرسین صرف رسمی تعلیم و تعلم تک ہی نہ رہیں بلکہ مقصدِ علم(عملِ صالح واخلاص) بھی حاصل کریں، ظاہری ترقی کے ساتھ ساتھ باطنی ترقی بھی کما حقہ حاصل ہو، اور واقعی حقیقت بھی یہی ہے، علم کی خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسمیں ارشاد فرمائی ہیں، علم نافع اور علم لا ینفع، اول کو اللہ تعالٰی سے مانگا ہے، اور دوم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہی ہے۔ اللهم انى اسئلك علماً نافعاً و أعوذ بک من علم لا ینفع حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ باوجود جید عالم ہونے کے فرماتے ہیں۔


علم رسمی سربسر قیل ست وقال

نے ازو کیفیتے حاصل نہ حال


أیها القوم الذي فى المدرسة

کل ما حصّلتموه وسوسة



جملہ اوراق و کتب در نارکن

سینۂ را از نورِ حق گلزار کن


قال را بگداز مردِ حال شو

پیش مردِ کاملے پامال شو


علم را برتن زنی مارے بُوَد

علم را بر دل زنی یارے بُوَد


علم نافع وہ علم ہے جو قلب میں اللہ تعالیٰ کا ڈر پیدا کرے اور گناہوں سے بچائے۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء۔

وأما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى فان الجنة هى المأوی

علم غیر نافع وہ ہے جو غرورِ علم پیدا کرے، "وأضلہ الله علی علم"۔

لہذا آپ کے جذبات کی احقر کو بڑی قدر ہوئی، اللہ تعالٰی آپ کو اس کے برکات نصیب فرمائیں اور آپ کے اہل مدرسہ ظاہری ترقی کے ساتھ ساتھ باطنی ترقی سے بہرہ ور ہوں۔ آمین ثم آمین

مگر جس طرح جسم کو غذائے جسمانی کے لئے مسلسل غذا درکار ہوتی ہے، قلب و روح کے لئے بھی غذائے روحانی کا تسلسل چاہیے، سال میں ایک دو پروگرام کرلینا کافی نہیں ہے۔

ہمارے حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب قدس سرہ فرماتے تھے کہ باطنی ترقی اهل باطن کی صحبت سے ملتی ہے اور حال، اہلِ حال سے ملتا ہے، اور یہ بھی فرماتے تھے کہ اگر اھل اللہ کی محبت میسر نہ ہو تو اُن کی کتابیں اور ملفوظات اُن کے نائب ہوتے ہیں، چونکہ اُن کے الفاظ دل سے نکلے ہوئے ہوتے ہیں تو دل کو متاثر کرتے ہیں،۔چنانچہ احقر نے اپنے مدرسے میں یہ معمول بنالیا ہے کہ بعد عصر دس پندرہ منٹ اھل اللہ کے ملفوظات سناتا ہوں جس سے قلب کو غذا ملتی رہتی ہے، آپ کے مدرسہ میں بھی یہ سلسلہ ہونا چاہئے، احقر بعض کتب کی نشاندھی کر دیتا ہے جو انشاء الله انفع ہونگی۔



حضرت قاری صدیق صاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ کی "آداب المعلمين و المتعلمین"

حضرت مولانا محمد ابراهیم صاحب کالیڑه والے رحمۃ اللہ علیہ کی "تحفہ المتعلمین"

حضرت مولانا عبد الرحمن اعظمی صاحب رحمۃ الله علیہ (خلیفہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ) کی "رحمۃ للمتعلمين"

اور ہمارے حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی "علم کی ضرورت" اور وصیۃ الاحسان، وصیۃ الاخلاق، نسبت صوفیہ، توقیر العلماء، اخوت، وغیرہ۔

ہمارے حضرت رحمہ اللہ علیہ کی کتابیں زیادہ نہیں ہیں مگر جتنی بھی ہیں باطن میں بہت موثر ہیں، اگر آپ چاہیں تو اپنے مدرسہ کے لئے پورا سیٹ الہ آباد خانقاہ سے منگوا لیں۔

پتہ یہ ہے

"اداره تالیفات مصلح الامت۔ بخشی بازار۔ الہ آباد پن کوڈ 211003 یوپی


حضرت کی خانقاہ سے ایک ماہانہ رسالہ بھی "وصیۃ العرفان" نام سے نکلتا ہے، وہ بھی مدرسے کے لئے جاری کرالیں، روزانہ دس پندرہ منٹ اہل اللہ کی کتابیں سنانے کا نظم ضرور رکھیں، اس میں ناغہ نہ ہو، کوئی بھی صالح شخص پڑھ دیا کرے، انشاء اللہ روح کو غذا ملتی رہے گی، 



حضرت حاجی امداد اللہ صاحب قدس سرہ فرماتے تھے کہ اہل اللہ اور صالحین کی حکایات "نامرد کو مرد بنادیتی ہیں"۔ یعنی عمل میں چستی آجاتی ہے۔


فقط والسلام


دعاگو ودعا جو: محمد یونس عفی عنہ


نوٹ: یہ دوسرا خط ہے جو حضرت مولانا محمد یونس صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کڑی والوں نے حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کو تحریر فرمایا تھا، بندے کو والدِ محترم حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظاہری رح کے کتابی خزانہ میں ملا تھا، افادۂ عام کے لیے پیشِ خدمت ہے۔


از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد گجرات 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت