حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظاہری رح (مختصر سوانح حیات)

حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظاہری پٹنی رح

(مختصر سوانح حیات) 


از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد 



*ولادت و تعلیم*

 

آپ کی ولادت ٧/ شوال ۱۳۸۱ ھ مطابق ۱۵/ مارچ ١٩٦٢ ء میں پٹن کے کالی بازار محلہ میں ہوئی، آپ کے والد محترم غلام رسول خان صاحب پیشہ سے پلمبر تھے، معمولی آمدنی تھی اور اسی میں گزر بسر ہوتا تھا، آپ نے قرآن مجید ناظرہ اپنے حقیقی ماموں مولانا محمد میاں(تار ماسٹر) سے پڑھا، اور اس کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسہ کنز مرغوب فیض صفا(پٹن) میں داخلہ لیا، اور فارسی اور عربی کے ابتدائی درجات کی تعلیم وہیں حاصل کی، آپ بڑی محنت و لگن کے ساتھ علم حاصل کرتے تھے، اسی کا ثمرہ تھا کہ اساتذہ آپ سے خوب محبت کیا کرتے تھے، اس وقت کے اساتذہ میں حضرت مولانا عبد القادر صاحب ندوی دامت برکاتہم (حال نائب مہتم دار العلوم ندوۃ العلماء) مولانا امین صاحب (استاذ حدیث و فقہ دارالعلوم دیوبند) اور حضرت مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی ( شارح قدوری وہدایہ، حال مقیم مانچسٹر، انگلینڈ ) قابل ذکر ہیں، اور حضرت مولانا ثمیر الدین صاحب ہی نے آپ کے والد محترم اور اہل خانہ سے آپ کو مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور بھیجنے کی ترغیب دی، آپ کے والد اور اہل خانہ اس پر راضی نہ تھے لیکن آپ کے بار بار سمجھانے پر راضی ہو گئے۔


*مـدرسـه مـظاهر العلوم میں داخله:*


 ۱۳۹۷ھ مطابق ۱۹۷۷ء میں آپ نے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں عربی چہارم میں داخلہ لیا، اس زمانے میں مظاہر علوم کے ناظم حضرت مولانا مفتی مظفرحسین صاحب تھے، آپ نے وہاں اس وقت کے اساطین علم وادب سے کسب فیض کیا، جن میں سے حضرت مولانا سلمان صاحب مظاہری رح (سابق ناظم مدرسہ مظاہر العلوم ) سے مشکوۃ المصابیح ، مقدمۃ الشیخ ، شرح نخبہ، اور حضرت مولانا مفتی عبد القیوم صاحب راۓ پوری دامت برکاتہم العالیہ سے ہدایہ ثالث اور صحاح ستہ میں صحیحین شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس صاحب جونپوری نور اللہ مرقدہ سے ، اور سنن ترمذی حضرت مولانا مفتی مظفر حسین صاحب سے پڑھی ، آپ نے یہاں رہ کر بڑی محنت اور قربانی کے ساتھ علم حاصل کیا اور یہاں بھی آپ اپنے اساتذہ کی شفقت وعنایت کے زیر سایہ رہے ،اور ١٤٠١ھ مطابق ۱۹۸۱ء میں سند فضیلت حاصل کی ۔ 


*مـدرسـه کنز مرغوب میں تقرر:*


 فراغت کے بعد آپ کے مادر علمی مدرسہ کنز مرغوب پٹن میں بحیثیت مدرس دینیات آپ کا تقرر ہوا، اس دوران ابتدائی کتب زیر تدریس رہیں، آپ ان کتابوں کی تدریس میں طلبہ پر خوب محنت کرتے تھے، اور آپ کے لیل ونہار طلبہ کو بہتر سے بہتر بنانے میں صرف ہوتے تھے، اور تدریس کے ساتھ آپ رختاواڑ کی مسجد میں امامت کے فرائض بھی بخوبی انجام دیا کرتے تھے، اور اہل محلہ کی دینی حالت بہتر بنانے میں کوشاں رہتے تھے، ان کی ملاقاتیں کرتے ،گشت کرتے اور ان کو راہ خدا میں لگانے کی خوب سعی فرماتے ، اور خدا کے حضور میں ان کے لئے دعائیں کرتے ۔


*دعوت وتبلیغ میں ایک سال:* 


مدرسہ کنز مرغوب میں دو سال تدریسی خدمت انجام دینے کے بعد ۱۹۸۳ء میں ایک سال کی تعطیل پر راہ خدا میں عازم سفر ہوۓ، اور ملک کے مختلف گوشوں میں گھوم گھوم کر خدا کے بندوں تک خدا کی باتیں پہنچائیں اور ان کی ایمانی کمزوری کا مطالعہ کیا جس کے نتیجہ میں امت کا درد و غم پیدا ہوا، اور ابھی راہ خدا ہی میں تھے کہ ۳۱/ دسمبر ۱۹۸۳ء میں آپ کے والد صاحب کی وفات کا روح فرسا حادثہ پیش آیا ، آپ نے تقدیر الہی پر راضی رہتے ہوۓ اس پر صبر کیا۔


*مدرسه کنزمرغوب میں واپسی :* 


دعوت و تبلیغ میں ایک سال لگانے کے بعد آپ دوبارہ مدرسہ کنز مرغوب میں تدریسی خدمات میں مشغول ہو گئے ، آپ نے اس دوران صرف تدریسی خدمات ہی انجام نہیں دی بلکہ دعوت و تبلیغ میں بھی خوب محنت کی، اور پڑھائی کے علاوہ اوقات میں آپ کا کام لوگون کی ملاقات کرنا، ان کو ایمان ویقین کی دعوت دینا اور راہ خدا میں نکالنے کے لئے محنت کرنا تھا ۔


*جامعة النور:* 


١٩٨٤ء میں مدرسہ کنز مرغوب میں جدید داخلہ کے لئے یہ قانون پاس ہوا کہ داخلہ اس طالب علم کو دیا جائے گا جس کو ناظرہ قرآن مجید اور اردو لکھنا پڑھنا آتا ہو، اور اس وقت شہر میں مکاتب کا خاطر خواہ نظم نہ تھا لہذا مقامی بچے عربی اور دینی علوم میں ترقی حاصل کرنے سے محروم ہو گئے، اس کے پیش نظر جامعۃ النور کی بنیاد رکھی گئی اور ۱۹۸۹ء میں حافظ غلام رسول صاحب رنگریز کے مکان پر مکتب شروع کیا گیا اور اس میں آپ کو تعلیم کی ذمہ داری سپرد کی گئی ، آپ نے اس ذمہ داری کو بحسن خوبی نبھایا، اس وقت شہر میں جو نوجوان نسل میں دینداری کے آثار نظر آرہے ہیں وہ آپ ہی کی محنتوں اور کاوشوں کا ثمرہ ہے، اور اس وقت اس ادارے سے سو سے زائد حفاظ فارغ ہو چکے ہیں اور دینی خدمات میں مشغول ہیں ، آپ نے کئی سال اس ادارے میں خدمات دیں اور اس کے بعد تاحیات آپ اس ادارے کی مجلس شوری کے رکن رہے۔


*مـكـاتـب قرآنیه کی نگرانی* 


اسی طرح آپ نے حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری دامت برکاتہم ( سابق مہتمم جامعہ کنز العلوم و جامعۃ الایمان ویرمگام) کی معیت میں پٹن اور اس کے اطراف میں مکاتب قرآنیہ کی توسیع اور اس کے نظم و نسق کے لئے بھی خوب محنت فرمائی ، اور بقول مولانا احمد حسین صاحب مظاہری دامت برکاتم آج شہر پٹن میں جودینداری نظر آرہی ہے اور علماء وحفاظ کی جو کثرت ہے اس کے پیچھے حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظاہری کی محنتوں اور کاوشوں کا بڑا حصہ ہے ۔


*جـامـعـه دار السلام کا قیام :*


 ”کالی بازار‘ شہر پٹن کا سب سے بڑا محلہ ہے اور اسی محلہ میں مدرسہ کنز مرغوب واقع ہے لیکن جیسا کہ اوپر معلوم ہو چکا کہ مدرسہ کنز مرغوب میں ۱۹۸٤ء سے اسی بچہ کو داخلہ دیا جاتا تھا جو ناظرہ قرآن مجید اور اردو پڑھنا سیکھ چکا ہو، نیز دیگر مکاتب اس محلہ سے دوری پر واقع تھے، اس وجہ سے بہت سے بچے مکتب کی تعلیم سے محروم رہ جاتے تھے ، اس ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر محلہ کی مسجد میں جو بڑی مسجد کے نام سے موسوم ہے اس میں ایک استاذ اور چند بچوں کے ساتھ ایک مکتب کی بنیاد ڈالی ، پھر جب ضرورت بڑھی تو مسجد سے متصل زمین پر مرحوم کے رفیق کار ، ہم دم و ہم ساز حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری کے ہاتھوں جامعہ کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا، اب یہ عمارت مکمل ہو چکی ہے اور اب اس مدرسے میں ۳٦٠ کے قریب طلبہ قرآن مجید اور دین کا بنیادی علم حاصل کر رہے ہیں ،اور اب تک اس مدرسہ سے 40 کے قریب حفاظ فارغ ہو چکے ہیں، نیز اس مدرسہ میں مدرسۃ البنات بھی قائم ہے اور اس شعبہ سے محلہ اور اطراف کی چھوٹی بڑی ہر عمر کی تقریبا 100 سے زیادہ طالبات اپنی علمی پیاس بجھا رہی ہیں اور اپنے آپ کو اور اہل خانہ کو علم دین سے منور کر رہی ہیں ۔


*جامعه ابن عباس میں:* 


۱۹۹۷ء میں احمد آباد کے سرخیز علاقہ میں حضرت مولانا عبداللہ صاحب تاراپوری نے جامعہ ابن عباس کے نام ایک ادارے کی بنیاد رکھی تھی لیکن اس مدرسے کو چلانے کے لئے انہیں جید علمائے کرام کی تلاش تھی ، انہوں نے اس سلسلہ میں حضرت مولانا عبدالقادر صاحب ندوی دامت بر کاتہم سے مذاکرہ کیا، حضرت مولانا عبدالقادر صاحب نے پٹن آ کر اپنے دونوں شاگردوں حضرت مولانا احمد حسین صاحب پٹنی مظاہری دامت برکاتھم اور حضرت مولانا شریف صاحب مظاہری سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا، آپ دونوں نے استاذ گرامی کے مشورہ کو قبول فرمالیا، اس کے بعد مولانا عبد القادر صاحب نے مولانا عبد اللہ صاحب تاراپوری کے روبرو آپ دونوں کے اسماۓ گرامی پیش فرمائے ،مولانا نے بخوشی منظور فرما لیے، اس طرح سے حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری دامت رح اور حضرت مولانا شریف صاحب مظاہری رح کو جامعہ ابن عباس کی ذمہ داری سپرد کی گئی ، آپ دونوں حضرات نے بہت کم عرصہ میں اس جامعہ میں چار چاند لگا دئے اور یہ جامعہ شہر احمد آباد کے اہم جامعات میں شمار ہونے لگا ،اور اس جامعہ سے علمائے کرام سند فضیلت حاصل کر کے دینی خدمات میں مشغول ہو گئے ، آپ دونوں حضرات نے سات سال تک دن رات ایک کر کے اس کو خوب ترقی تک پہنچایا۔


*جامعه کنز العلوم کا قیام:* 


سات سال کے بعد بعض وجوہات کی بنیاد پر جامعہ ابن عباس سے علیحدہ ہوکر دونوں حضرات نے شہر احمد آباد کے قلب میں واقع علاقۂ جمالپور میں جامعہ کنز العلوم کے نام سے ١٧/ رمضان المبارک ۱٤٢٦ھ مطابق یکم نومبر ۲٠٠٤ءکو بنیاد رکھی ، یہ جامعہ لب دریائے سابرمتی واقع ہے اور اس سے متصل ایک شاہی مسجد بھی ہے جسے خان جہان مسجد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ شوال ١٤٢٦ھ میں اسی شاہی مسجد میں تعلیم کا آغاز ہوا کیونکہ ابھی جامعہ کی عمارت ناقص تھی،

لیکن آپ دونوں حضرات اور اہل مسجد کی قربانیوں کے باعث مدرسہ کی عمارت کا کام برق رفتاری کے ساتھ جاری رہا اور دو مہینے کی قلیل مدت میں ۱۳/کمروں پر مشتمل ایک عمارت مکمل ہوگئی اور اسی عمارت میں تعلیم کا آغاز بھی ہو گیا، حضرت مولانا شریف صاحب مظاہری اپنے رفیق کار مولانا احمد حسین مظاہری کے ساتھ مل کر تدریسی و انتظامی امور انجام دیتے رہے اور طلبہ کی تربیت کرتے رہے ، آپ نے ابتداء سے لے کر منتہی کتابوں تک کا درس دیا، خصوصا اخیر عمر میں ایک عرصہ تک تفسیر جلالین ( نصف اول ) اور سنن ابی داؤد کا درس آپ سے معلق رہا، آپ کے درس کی خصوصیت میں سے ایک بات یہ تھی کہ آپ طلبۂ کرام کو دوران درس اولیاء اور اسلاف کے واقعات سنا کر ان کے اندر خدمت دین کا جذبہ بیدار فرمایا کرتے تھے، اور مثالوں کے ذریعہ سبق سمجھایا کرتے تھے، نیز دوران سبق زندگی میں حاصل کئے ہوئے تجربات سے بھی طلبہ عزیز کو واقف کیا کرتے تھے ۔ تاکہ مستقبل کی زندگی میں وہ تجربات ان کے لئے مشعل راہ ہوں ۔ آپ اس جامعہ کے تاحیات رکن شوری رہے، اور نائب مہتم اور صدرالمدرسین کی ذمہ داریاں بھی بحسن وخوبی انجام دیتے رہے ۔


*جـامـعة الايمان ويرمگام (شاخ جامعہ کنز العلوم ) :*


 ویرم گام شہر احمد آباد کے مغربی جانب ساٹھ کیلومیٹر کی دوری پر واقع ایک قدیم بستی ہے، اس بستی میں مسلم آبادی تقریبا پچیس ہزار ہے لیکن صرف پانچ مسجدوں میں ہی دعوت و تبلیغ کا کام ہوتا ہے، اور اس کے قریب ' نل سرور ‘ کے دیہات میں قادیانی لوگوں کی جانب سے اہل ایمان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی ناپاک کوششوں کی خبر آتی رہتی تھی، ضرورت تھی کہ اس آبادی میں ایک دینی ادارہ قائم ہو تاکہ اس بستی اور اس کے اطراف کے لوگوں کے دین و ایمان کی حفاظت ہو سکے، چنانچہ اسی غرض سے یہاں ایک ادارہ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا نام'' جامعۃ الایمان'' تجویز کیا گیا ، اس ادارے کا سنگ بنیاد ۳٠/ربیع الآخر ١٤٣٣ھ مطابق ٢٤/مارچ ۲۰۱۲ ء کو حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب کاکوسی (صدر المدرسین جامعہ نذیریہ کاکوسی ) کے ہاتھوں رکھا گیا، نیز اس مبارک موقع پر شہر احمد آباد و پٹن کی معزز شخصیات حاضر رہیں، جن میں حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح ، حضرت مولانا یسین صاحب (مہتمم جامعہ نذریہ کاکوسی دامت برکاتہم ) مفتی یحیی صاحب دامت بر کاتہم ( استاذ حدیث مدرسه الفضل ) مفتی رضوان صاحب (مہتمم مدرسہ شاہ ولی اللہ ، لال مسجد کالوپور ) اور حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب قابل ذکر ہیں ، اس ادارے کی عمارت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری دامت رح اور حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظاہری رح نے خوب محنتیں کیں اور خوب قربانیاں دیں ، اسی کا ثمرہ تھا کہ تین سال کی قلیل مدت میں اس کی عمارت کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ گیا، اور اس میں تعلیم کا آغاز بھی ہو گیا، ابھی اس ادارے میں تعلیم کے دو سال مکمل ہو کر تیسرے سال کا آغاز ہو چکا ہے اور عربی سون تک کے درجات ہیں ، نیز عصری تعلیم میں بھی دسویں کلاس تک پڑھایا جاتا ہے تقریبا تین سو طلبہ زیرتعلیم ہیں ۔


*اخلاق وعادات:*


آپ کے متعلق ہر جاننے اور ملنے والے کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ آپ کا صرف نام شریف نہیں تھا بلکہ آپ اسم بامسمی تھے، اور شرافت آپ کے ہر قول وعمل سے جھلکتی تھی ، آپ ہرشخص سے انتہائی محبت اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرتے ، ہر ملنے والے کا یہ تأثر ہوتا کہ مولانا اس سے بہت محبت اور تعلق رکھتے ہیں ، اسی بناء پر ہر ملنے والا اپنے سکھ دکھ کی باتیں مولانا سے عرض کرتا ، مولانا اس کے مسائل کا حل پیش فرماتے اور اس کو خوب دعاؤں سے نوازتے ، یہاں تک کہ آپ 'دعاؤں والے مولانا‘ کے نام سے مشہور تھے ، جس کسی کو بھی پریشانی لاحق ہوتی وہ مولانا سے ملاقات کرتا اپنے مسائل پیش کرتا اور مولانا اس کو دعاؤں سے نوازتے ،تواضع و فروتنی آپ کی فطرت میں داخل تھی ، حب کہ جاہ اور حب مال سے آپ کوسوں دور تھے، آپ اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھی عزت و احترام کا معاملہ فرماتے تھے اور ان کے ساتھ بھی اس قدر تواضع سے پیش آتے تھے کہ جتنا احترام و تواضع آج کل لوگ اپنے اساتذہ اور مشائخ کے ساتھ بھی نہیں کرتے ۔


 *دعوت وتبلیغ کی محنت:*


 آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ مدارس میں گزرا اور اس کے قیام اور استحکام کی تگ و دو میں رہے ، البتہ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو حضرت مولانا الیاس صاحب کی تبلیغی تحریک سے بھی گہری وابستگی تھی ، درس و تدریس کے بعد یہ آپ کا سب سے دلچسپ مشغلہ تھا، جب تک آپ کا پٹن میں قیام رہا، بڑی سرگرمی کے ساتھ اس میں حصہ لیتے ، بہت سے بندگان خدا آپ کی محنت اور دعوت کی برکت سے گمراہیوں کے عمیق غار سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آۓ ،احمد آباد آنے کے بعد آپ نے یہ مشغلہ برابر جاری رکھا ، آپ ہر اتوار کو پابندی کے ساتھ گشت والے عمل میں شرکت فرمایا کرتے تھے ، اور ہر ملنے والے کو اس مبارک محنت میں مشغول ہونے اور اس کی فکر کرنے کی دعوت دیا کرتے تھے۔


*امراض:* 


آپ تقریبا پندرہ سال سے ذیابیطس جیسے مہلک مرض میں مبتلا تھے، اور اخیر عمر میں پھیپھڑے کمزور ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے آپ کو دم (سانس) کی تکلیف ہوگئی تھی ، اور اس بیماری میں اضافہ ہوتا چلا گیا حتی کہ چند قدم چلنا بھی دشوار ہو گیا تھا ،اور اخیر کے ایک ڈیڑھ سال تک رات کو لیٹ کر سونا مشکل ہو گیا تھا ، جس کی وجہ سے بہت جلد کمزوری میں اضافہ ہوتا گیا، اور اس سے جانبر نہ ہوسکے۔


وفات:


١٦/شعبان ١٤٣٨ھ مطابق ۱۳/مئی ۲۰۱۷ء کا دن اہل پٹن و احمد آباد کے لئے بڑا رنج و الم کا دن تھا، اور کیوں نہ ہو جبکہ اس دن اہل پٹن و احمد آباد کی ہر دل عزیز شخصیت، نمونۂ اسلاف حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظاہری سب کو غمزدہ چھوڑ کر دار فناء سے دار بقاء کی جانب رحلت فرما گئے تھے،اسی دن مولانا کے قائم کردہ مکتب "جامعہ دار السلام" پٹن کا ختم حفظ اور تقسیم اسناد و انعامات کا اجلاس منعقد ہونے والا تھا ، اور اہل محلہ فجر بعد ہی سے اس کی تیاریوں میں مصروف تھے ، اور اسی غرض سے پورے محلے اور اطراف کی صفائی میں جٹے ہوئے تھے لیکن کسی کو کیا معلوم کہ یہ صفائی اجلاس کے لئے نہیں بلکہ اللہ کے محبوب بندے کو لینے آنے والی فرشتوں کی جماعت کے لئے ہورہی تھی ،مولانا تقریبا ایک ہفتہ سے دم (سانس) اور پیٹ کی سخت تکلیف میں مبتلا تھے، صبح بیدار ہوئے اس وقت کافی کمزوری تھی ، پانی مانگا تو آپ کو آب زمزم پیش کیا گیا، پانی پینے کے بعد بھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ کلمہ شہادت پڑھتے ہوۓ آپ کی روح قفص عنصری سے پرواز کر گئی اور''الـمـبـطـون شهید'' والی حدیث کے مطابق آپ نے شہادت کا درجہ حاصل کیا۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔


آپ کی نماز جنازہ مدرسہ کنز مرغوب پٹن میں ادا کی گئی، نماز جنازہ آپ کے رفیق حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح نے پڑھائی، آپ کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، آپ کی تدفین آبائی قبرستان بابا دہلوی پٹن میں ہوئی۔

اخیر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ آپ کی مغفرت فرماۓ اور جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرماۓ ، اور ہمیں موت تک دین کی خدمت کے لئے قبول فرمائے ۔آمین 

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. سوانح نگار نے شخصیت سے زیادہ اداروں کے تعارف میں قلم چلائی ویسے یہ مولانا شریف صاحب اپنے ماموں کی نگرانی میں ہی علمی پرواز حاصل کئے۔مزید برآں ماموں کے داماد بھی تھے۔ آپ کے ماموں مولانا محمد میاں تار ماسٹر نے بھی صحاح ستہ تقریبات نو سال تک کنز مرغوب میں درس میں بیٹھ کر پڑھی جب انکی عم۵۵

    جواب دیںحذف کریں

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت