نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت

نماز کی سنتیں (اہمیت و فضیلت)


از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنزالعلوم جمالپور احمدآباد



عَنْ أَمْ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَي عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتُ فِي الْجَنَّةِ، اَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَ رَكَعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَ رَكَعَتَيْنِ بَعْدَ الْمُغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكَعَتَيْنِ قَبْلَ صَلوةِ الْفَجْرِ. (رواه الترمذي رقم: ٤١٥)

ام المؤمنین حضرت ام حبیبہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص دن رات میں بارہ رکعتیں (فرض نمازوں کے علاوہ) پڑھے، اُس کیلئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا، ٤/ ظہر سے پہلے، اور ٢/ظہر کے بعد، اور ٢/مغرب کے بعد، اور ٢/عشاء کے بعد، اور ٢/فجر سے پہلے۔ (جامع ترمذی)

اللہ تعالٰی نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور ان نمازوں سے پہلے اور بعد میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت، چار رکعت وغیرہ نمازیں ادا کی ہیں، پھر ان میں سے جن نمازوں کی ادائیگی کی خوب تاکید کی اور آپﷺ نے عملاً بہت زیادہ اہتمام فرمایا اور امت کو بھی ان نمازوں کے ادا کرنے کی ترغیب دی ہے ان کو سنت کہتے ہیں، اور ما بقیہ کو نوافل کہا جاتا ہے، پھر جن سنتوں یا نوافل کو فرض نماز سے پہلے ادا کرنے کی ترغیب دی ہے ان کی حکمت و مصلحت یہ ہے کہ فرض نماز جو اصل مقصود و مطلوب ہیں ان کی ادائیگی سے قبل ان سنن و نوافل کی ادائیگی سے دل دربارِ خداوندی سے مانوس ہوجائے، دل و دماغ باہر کے خیالات و تفکرات سے ہٹ کر فرض نماز کیلئے تیار ہوجائے،

اور ملأ اعلیٰ سے قرب و مناسبت پیدا ہوجائے، اور فرض نمازوں کے بعد جن سنن ونوافل کے ادا کرنے کی

ترغیب دی گئی ہے ان کی حکمت و مصلحت یہ معلوم ہوتی ہے کہ فرض نمازوں کے ادا کرنے میں جو کمی کوتاہی رہ گئی اور جس خشوع و خضوع اور سنن و آداب کی رعایت ہونی چاہیے وہ نہیں ہو سکی اس کی تلافی ہوجائے۔



لہذا ہمیں نماز سے پہلے اور بعد کی سنن و نوافل کا خوب اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ہمیں یہ فوائد حاصل ہوسکیں اور کمی کی تلافی ہوجائے، اور ہم ان فضائل کے مصداق بنیں جو ان سنتوں کو ادا کرنے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے منقول ہیں، جیسے مذکورہ بالا روایت میں ١٢/ رکعت سنتوں کے ادا کرنے پر جنت میں ایک محل کی تعمیر کی بشارت سنائی گئی ہے، اور یہ ١٢/ رکعتیں وہی ہیں جن کو ہم سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں، دیگر روایات میں ہر نماز سے قبل یا بعد کی سنتوں کے ادا کرنے پر دوسرے فضائل بھی وارد ہوئے ہیں، جن کو ہم ذیل کی سطور میں تحریر کر رہے ہیں۔

فجر کی دو رکعت سنت ادا کرنے کی فضیلت زبانِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان کی گئی ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت ادا کرنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح مسلم رقم: ۷۲۵) خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ادائیگی کا خوب اہتمام کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنت اور نفل نمازوں میں سے کسی نماز کا اتنا اہتمام نہیں فرماتے تھے جتنا فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کا اہتمام کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ١١٦٩) نیز ان سنتوں کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ "جس نے فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں اس کو چاہیے کہ وہ سورج نکلنے کے بعد ان کو پڑھ لے (جامع ترمذی: ٤٢٣)



اور ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کے بارے میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں - جس کے درمیان سلام نہ پھیرا جائے، یعنی مسلسل پڑھی جائیں- ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔(سنن ابی داؤد: ١٢٧٠) اور حضرت ام حبیبہؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو کوئی ظہر سے پہلے چار کعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں برابر پڑھا کرے، اللہ تعالٰی دوزخ کی آگ اس پر حرام کردیں گے۔(جامع ترمذی: ٤٢٨)

اور عصر سے پہلے چار رکعت نفل کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحمت نازل کرے جو جو عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھتا ہے۔(جامع ترمذی: ٤٣٠)

اور مغرب کے بعد دو رکعت تو سنتِ مؤکدہ ہیں جن کی فضیلت حضرت ام حبیبہؓ کی روایت میں بیان کی گئی ہے، ان کے علاوہ اگر چار رکعت

نفل اور پڑھی جائیں تو اس کیلئے گناہوں کی بخشش کا وعدہ ہے۔ حضرت محمد بن عمار بن یا سرؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد ماجد حضرت عمار بن یا سرؓ کو دیکھا کہ وہ مغرب کے بعد چھ رکھتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ: "جو بندہ مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھے اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ کثرت میں سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ (مجمع الزوائد ٢/٢٣٣)

اور عشاء کے بعد دورکعت تو سنتِ مؤکدہ ہیں، جس کا ذکر حضرت ام حبیبہؓ کی حدیث میں آچکا ہے، اس کے علاوہ بھی کبھی آپ ﷺ دو رکعت اور کبھی چار رکعت مزید نفل ادا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ: کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد میرے پاس تشریف لائے ہوں اور آپ نے چار یا چھ رکعتیں نہ پڑھی ہوں۔ (سنن ابی داؤد: ١٣٠٣ )



اور عشاء کی نماز کے بعد جو نمازیں پڑھی جاتی ہیں ان میں سے ایک وتر کی نماز بھی ہے جو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک صرف سنت ہی نہیں بلکہ واجب ہے، آپ کا استدلال حدیثِ بریدہ اسلمیؓ سے ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے کہ " نمازِ وتر حق ہے، جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے، و ترحق ہے جو وتر ادا نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے، وتر حق ہے جو وتر ادا نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد: ١٤١٩ )

اور اس بات کی تائید حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت سے بھی ہوتی ہے، وہ نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص وتر سے سوجائے (یعنی نیند کی وجہ سے اس کی نماز وتر قضا ہوجائے) یا بھول جائے تو جب یاد آئے، یا جب جاگے اسی وقت پڑھ لے۔ (جامع ترمذی: ٤٢٥)


اور و وتر کی فضیلت کے بارے میں حضرت خارجہ بن حذافہؓ سے منقول ہے کہ: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور ہم سے مخاطب ہوکر فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور نماز تمہیں مزید عطا فرمائی ہے وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، وہ نمازِ وتر ہے، اللہ تعالٰی نے اس کو تمہارے واسطے نمازِ عشاء کے بعد سے طلوعِ صبحِ صادق تک مقرر کیا ہے۔(یعنی یہ اس کی ادائیگی کا وقت ہے) (جامع ترمذی: ٤٥٢)

یہ تو ان سنن و نوافل نمازوں کے فضائل ہیں جو فرض نمازوں سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں، اس کے علاوہ اور بھی نفل نمازیں ہیں جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دن و رات کے مختلف اوقات میں ادا کی ہیں، ان کی ادائیگی سے بندہ خدا تعالی کا قرب حاصل کر لیتا ہے، مثلاً اشراق، چاشت، اوابین اور تہجد کی نماز ہے، ان کے فضائل کا تذکرہ -انشاء اللہ- ایک خاص مضمون میں کریں گے.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت