از: محمد مظاہری ندوی
یہ کتاب سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل کتابوں میں ایک منفرد اور بے مثال کتاب ہے، اس کتاب کے مصنف اردو زبان و ادب کے مشہور اہل قلم نعیم صدیقی صاحب ہے، اس کتاب کو اہل علم کے درمیان بڑی مقبولیت حاصل رہی ہے،اور ایک اندازے کے مطابق اس کے اب تک تیس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، میں یہ تعارف اس لیے تحریر کررہا ہوں تاکہ میرے جن احباب کی رسائی اس کتاب تک نہیں ہوئی ہے، وہ اس سے واقف ہوجائیں، اور اس بے مثال کتاب کے مطالعہ سے اپنے علم میں اضافہ کرلیں، ورنہ اس کتاب سے اہل علم بخوبی واقف ہیں، اور تعارف کی چنداں ضرورت نہیں ہے،
کتاب کے آغاز میں علامہ مودودی رح نے دیباچہ تحریر کیا ہے، اور علامہ ماہر القادری رح نے تقریظ تحریر فرمائی ہے، کتاب پانچ ابواب اور تین ضمیموں پر مشتمل ہے، پانچ ابواب کے عناوین درج ذیل ہیں
1۔ مقدمہ، پیغام، نصب العین اور تاریخی مقام
2۔ محسن انسانیتﷺ، مکی دور۔۔۔ ( مدو جزر)
3۔ محسن انسانیتﷺ مدنی دور ۔۔۔ ( تاریخ موڑ مڑتی ہے)
4۔ تلواروں کی چھاؤں میں
5۔ اور اجالا پھیلتا ہی گیا۔
اس کے بعد پہلے ضمیمہ میں واقعات سیرت کی ترتیب زمانی کو، دوسرے ضمیمہ میں اولیات سیرت کو اور تیسرے ضمیمہ میں تحریک اسلامی کے عددی نشوونما کو بیان کیا گیا ہے۔
اس کتاب کے متعلق علامہ ماہر القادری رح تقریظ میں یوں تحریر فرماتے ہیں:کہ" محسن انسانیت لالہ وگل کی طرح رنگین، آبشاروں کے مانند مترنم، اور کہکشاں کی طرح روشن و تابناک ہے، اس کی زبان میں بڑی سلاست و روانی پائی جاتی ہے، اور اسلوب نگارش بہت دلکش اور بعض مقامات پر تو وجد آفریں ہے،
ایک اور جگہ یوں رقمطراز ہیں: " محسن انسانیت میں نعیم صدیقی کے قلم کی طہارت، فکرکی پاکیزگی،دل کا سوز،اور دینی شغف پوری طاقت کے ساتھ ابھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، ایک ایک سطر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کی خوشبو میں بسی ہوئی، اور ایک ایک ورق پر عقیدت کے لعل و گہر جگ مگ کرتے ہوئے" (ص-١٧-)
علامہ ماہر القادری رح کے کلمات سے اس کتاب کی بلندی وعظمت کا احساس ہوگیا ہوگا، اب میں اس کتاب کے متعلق اپنے احساسات کو درج کررہا ہوں،
"واقعۃ یہ کتاب سیرت کی کتابوں میں ایک جداگانہ اور منفرد شان رکھتی ہے، اس کتاب میں مصنف نے واقعات سیرت کو دیگر مصنفین کے مانند صرف سردا تحریر نہیں کردیا ہے، بلکہ ہر ہر واقعہ کا غائرانہ مطالعہ کیا، اور واقعات سیرت سے حاصل ہونے والے اسباق کو بخوبی پیش کیا ہے، اور واقعات سیرت کی اس انداز سے تبصرہ نگاری کی ہےکہ قاری اس واقعہ کی روح تک رسائی حاصل کرلیتا ہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی نظر اور بلند ہمتی اور تائید غیبی کی گواہی دینے لگتا ہے، نیز اس کتاب میں حضور صلی اللہُ علیہِ وسلم کی انسانیت نوازی اور انسان سازی کے کردار کو بڑی وضاحت سے تحریر کیا ہے کہ آپ صلی اللہُ علیہِ وسلم نے ظلمت و جہالت کی کھائی میں گری ہوئی انسانیت کو عزت و رفعت کے بلند مقام پر پہونچا دیا،اور یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ آپ کوئی ماوراء الفطرت مخلوق نہیں تھے، بلکہ انسان تھے، اور انسانیت کے اعلی مقام پر فائز تھے، نیز اس کتاب میں آپ صلی اللہُ علیہِ وسلم کے ہمہ جہتی کردار کو واشگاف کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر مصلحین کے مانند زندگی کے کسی ایک پہلو پر ہی محنت نہیں کی، بلکہ زندگی کے ہر ہر شعبہ میں اصلاحی کارنامے انجام دیے ہیں، اسی طرح اس کتاب میں مستشرقین اور ملحدین کی جانب سے کیے جانے والے اعترضات کا دندان شکن جواب دیا گیا ہے، اور باطل نظریات کی تردید کی گئی ہے،
0 تبصرے