*الدکتور عبد الرحمن رافت الباشا صاحب*
از: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنز العلوم جمالپور،احمدآباد
آپ "صور من حیاۃ الصحابہ" کے مصنف ہیں، آپ کی ولادت ملک شام میں سنہ ١٩٢٠ء میں ہوئی، آپ نے ملک شام میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مصر کا سفر کیا، اور جامعہ ازھر سے کلیۃ أصول الدین سے ڈگری حاصل کی، بعدہ قاہرہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، پھر اپنے وطن واپس آگئے، اور دمشق یونیورسٹی میں کلیۃ الأدب میں استاذ مقرر ہوئے، آپنے یہاں رہ کر خوب محنت کی حتی کہ ملک شام کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں آپ کا شمار ہونے لگا اور آپ کی ملک وبیرون ملک خوب شہرت ہوئی، اسی کا نتیجہ تھا کہ جامعۃ الامام محمد بن سعود سے آپ کو دعوت دی گئی، اور شعبۂ ادب اسلامی کا صدر مقرر کیا گیا،
آپنے یہاں رہ کر ادب اسلامی کے لئے فروغ کے لئے خوب جد و جہد کی، اور اسی ضمن میں "صور من حیاۃ الصحابہ" اور "صور من حیاۃ التابعین" جیسی عظیم علمی و ادبی کتابیں تصنیف فرمائی، ادب اسلامی کے فروغ اور اس کی نشرواشاعت کے لئے آپ اور حضرت مولانا علی میاں صاحب ندوی رح نے مل کر "رابطۂ ادب اسلامی" تنظیم کی بنیاد رکھی، آپ اس کے نائب صدر مقرر کیے گئے، اور حضرت مولانا علی میاں صاحب ندوی کو اس کا صدر نامزد کیا گیا، اس تنظیم کے ذریعہ ادب کو اسلامی جامہ پہنانے کی کامیاب کوششیں کی گئیں، اللہ تعالیٰ آپ کی اور اس تنظیم میں خدمات انجام دینے والے تمام ہی علماء کی مساعی جمیلہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے آمین یارب العالمین
وفات: آپ کی وفات سنہ ١٩٨٦ء میں ترکی کے استنبول شہر میں ہوئی، اور الفاتح نامی قبرستان میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔
0 تبصرے