مولانا انعام الحسن صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ


مولانا انعام الحسن صاحب کاندھلوی(مختصر سوانح حیات)


از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد 


*نام*

محمد انعام الحسن بن مولانا اکرام الحسن صاحب،آپ کی والدہ ماجدہ کا نام امۃ العظیم تھا،آپ کے والد مولانا اکرام الحسن حضرت مولانا الیاس صاحب کے حقیقی بھائی اور حضرت شیخ زکریا کے پھوپھازاد بھائی تھے


*ولادت*

آپ کی ولادت ۸/ جمادی الاولی ١٣٣٦ھ مطابق ۲۰/ فروری ۱۹۱۸ء چہار شنبہ اپنے آبائی وطن قصبہ کاندھلہ ضلع مظفرنگر یوپی میں ہوئی


*تعلیم و تربیت*


آپ کے خاندان کا مزاج دینی تھا، حق سبحانہ و تعالی نے کمال فیاضی کے ساتھ اس پورے خاندان کو صفات حمیدہ و اخلاق حسنہ سے مالامال فرمایا تھا، چنانچہ شروع ہی سے آپ کی دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت پر پوری توجہ رکھی گئی، اسی کا اثر تھا کہ اپنی عمر کے دسویں سال میں آپ پورے کلام اللہ کے جیّد اور پختہ حافظ بن گئے تھے


       والد ماجد نے تربیت کے معاملہ میں شوق و رغبت والے پہلو کو ترجیح دی اور سختی سے احتراز فرمایا، چنانچہ نماز باجماعت کی تاکید کرتے ہوئےفرمایا کہ اگر اہتمام اور پابندی سے نماز پڑھوگےتو ماہانہ ایک روپیہ بطور انعام ملے گا


      تکمیل حفظ کے بعد آپ کی اردو اور فارسی تعلیم کا آغاز اپنے نانا مولانا حکیم عبد الحمید صاحب کے پاس ہوا، فارسی میں گلستاں بوستاں تک آپ نے ان سے تعلیم حاصل کی، 


*عربی تعلیم کا آغاز*


   فارسی نصاب کی تکمیل کے بعد حضرت مولانا الیاس صاحب آپ کو اپنے ہمراہ نظام الدین دہلی لے گئے، کاندھلہ سے نظام الدین کا یہ یادگار تاریخی سفر ۱۵/ ربیع الاول ۱٣٤۹ھ مطابق ۱۱ / اگست ۱۹۳۰ء میں ہوا، اس وقت آپ وقت آپ کی عمر تقریبًا تیرہ سال تھی، والد ماجد مولانا اکرام الحسن صاحب اس وقت کاندھلہ میں قیام پذیر تھے، اس علمی سفر میں ان کے جذبئہ عقیدت و محبت کو بھی دخل تھا جو حضرت مولانا الیاس صاحب سے ان کو تھا۔


         دہلی لے جاکر مولانا نے بڑی شفقت و محبت کے ساتھ آپ کو عربی پڑھانا شروع کیا، میزان الصرف سے لے کر ہدایۃ النحو تک آپ نے حضرت مولانا الیاس صاحب سے پڑھا،ذھانت اور شوق و لگن کے باعث آپ نے میزان الصرف تین دن میں اور منشعب پانچ دن میں ختم کر لی تھی۔ 


*جامعہ مظاہر علوم میں آمد*

 

شوال ۱۳۵۱ھ مطابق فروری ۱۹۳۳ء میں آپ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب کی معیت میں سہارنپور تشریف لائے، اور یہاں داخلہ لے کر میر قطبی،کنز الدقائق، قطبی تصدیقات، اصول الشاشی وغیرہ کتابیں پڑھی۔

           یہ تعلیمی سال پورا ہونے پر آپ پھر نظام الدین دہلی آ گئے، اور یہاں کے قیام میں مزید تعلیم حاصل کرتے ہوئے مشکوۃ شریف حضرت مولانا الیاس صاحب سے اور جلالین شریف مولانا احتشام الحسن صاحب کاندھلوی سے پڑھی۔

 

           شوال ١٣٥٤ھ میں آپ حضرت مولانا الیاس صاحب کے مشورہ پر دوسری مرتبہ جامعہ مظاہر علوم میں داخل ہوئے اور بخاری جلد اول اور ابو داؤد شریف حضرت شیخ سے بخاری جلد ثانی مولانا عبد اللطیف صاحب سےاور نسائی شریف مولانا منظور احمد خاں صاحب سے اور ترمذی و طحاوی شریف مولانا عبد الرحمن صاحب کامل پوری سے پڑھی۔


*علمی انہماک اور وسعت مطالعہ*


آپ کو شروع ہی سے علم کا انتہائ ذوق و شوق تھا، بچپن کا پسندیدہ اور محبوب مشغلہ کتابوں کی خریداری اور ان کا مطالعہ تھا، آپ کا ذاتی کتب خانہ بنیادی اور منتخب کتابوں پر مشتمل تھا، کتب حدیث شریف و سیرت و تاریخ پر آپ کی گہری نگاہ تھی، لیکن سب سے زائد مناسبت اور تعلق فن حدیث سے تھا۔ 


            علم و مطالعہ سے مولانا کا لگاؤ آخر تک قائم رہا، لیکن موھبت خداوندی سے مزاج و طبیعت پر دعوت و تبلیغ کا ذوق ہر ذوق پر غالب آ گیا تھا، اور مسلمانان عالم کا دینی زوال دور ہونے اور راہ ہدایت پر لانے کا جذبہ ہر جذبہ سے بڑھ گیا تھا۔


*تدریسی خدمات*


مرکز نظام الدین میں جامعہ کاشف العلوم کے نام سے ایک مدرسہ تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے، آپ مولانا یوسف صاحب کی حیاتی میں اس مدرسہ کر مہتمم تھے، نیز آپ نے مدرسہ ھذا میں کم و بیش بارہ سال تک بخاری شریف کا درس دیا، آپ کے درس بخاری کا شہرہ دور دور تک پہونچا ہوا تھا، بخاری شریف کے علاوہ مشکوۃ شریف، ہدایہ اولین، مختصر المعانی، قصیدہ بردہ، قصیدہ بانت سعاد، شرح جامی وغیرہ کتابیں متعدد مرتبہ پڑھائیں۔


*طرز تدریس بخاری*


         آپ کا طرز تدریس بخاری شریف میں یہ رہتا کہ آپ پہلے تراجم ابواب پر سیر حاصل بحث کرتے،پھر اسماء الرجال پر، اس کے بعد متن حدیث کے ایک ایک لفظ سے متعلق تمام شراح بخاری کے اقوال نقل فرماتے، اس کے بعد فرماتے (ایجاد بندہ گرچہ گندہ) بندہ کی رائے اس میں یہ ہے، اور پھر تفصیل سے دلائل کے ساتھ اپنی رائے بیان فرماتے۔


*بیعت و خلافت*


         آپ مولانا الیاس صاحب کے زیر تربیت تھے، اور بیعت کا تعلق بھی آپ ہی سے قائم کیا، حضرت مولانا نے بیعت کے بعد اسم ذات بارہ ہزار تلقین فرمایا،نیز اوراد مسنونہ، الحزب الاعظم اور حصن حصین پڑھنے کی تاکید کی، آپ نے اس راہ میں بڑی جانفشانی بلکہ جاں سوزی کا ثبوت دیا، ذکر اسم ذات جس کی ابتداء بارہ ہزار سے ہوئی تھی، آہستہ آہستہ بڑھا کر ستر ہزار کی مقدار تک پہونچا دیا تھا، ایک طویل عرصہ تک یہ معمول رہا کہ ہمایوں کے مقبرہ میں چلے جاتے، اور ایک گوشہ میں بیٹھ کر ذکر کرتے اور معمولات پورے کرتے، اور بسا اوقات یہ نشست سات سات گھنٹہ طویل ہوجاتی۔

           آپ حضرت مولانا الیاس صاحب کی صحبت میں متواتر پندرہ سال رہے، اور آپ کی توجہات کا مرکز بنے رہے، دعوتی اسفار اور تبلیغی اجتماعات میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے، نیز مولانا آپ کی خوش خطی کی وجہ سے خطوط کے جوابات بکثرت آپ سے لکھواتے۔


حضرت مولانا الیاس صاحب کے مرض وفات میں آپ کو خدمت اور تیمارداری کا پورا پورا موقع ملا یہاں تک کہ آخری لمحات میں حضرت نے جو گفتگو فرمائی ان میں سے ایک سوال مولانا انعام الحسن صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ مولوی انعام وہ دعاء کس طرح ہے ( اللھم ان مغفرتک) ؟

      اس پر مولانا انعام الحسن صاحب نے پوری دعاء سنائی ( اللّٰھم انّ مغفرتک اوسع من ذنوبی، و رحمتک ارجی عندی من عملی)

        نیز حضرت مولانا الیاس صاحب نے اپنی حیات کے آخری دن ۱۲/ جولائ ۱٩٤٢ء کو بیعت کی اجازت بھی دی

               حضرت مولانا الیاس صاحب کے سانحۂ ارتحال کے بعد اگرچہ آپ نے سلوک میں باقاعدہ کسی شیخ کی طرف رجوع نہیں فرمایا، لیکن حضرت شیخ زکریا سے استفادہ کرتے رہے، 


*نکاح و اولاد*


             ۳/ محرم الحرام ١٣٥٤ھ مظاہر علوم کا سالانہ جلسہ جامع مسجد سہارنپور میں منعقد ہوا، اس موقع پر حضرت شیخ زکریا کی صاحبزادی ذاکرہ خاتون سے آپ کا عقد مسنون ہوا، اس نکاح سے اللہ تعالی نے آپ کو تین بیٹے محمد انوار الحسن، محمد معاذ الحسن، مولانا زبیر الحسن اور دو بیٹیاں خولہ خاتون، صادقہ خاتون مرحمت فرمائیں۔


*امارت و جانشینی*


            مولانا یوسف صاحب کا آخری دعوتی سفر پاکستان کا ہوا، اور وہاں ۲۹/ ذی القعدہ ۱٣٨٤ھ مطابق ۱۲/ اپریل ١٩٥٤ء جمعہ کے دن آپ کا وصال ہوا، مولانا انعام الحسن صاحب ہمیشہ کے معمول کے مطابق اس آخری سفر میں بھی ہمراہ تھے، آپ کا جنازہ نظام الدین لایا گیا، اور مرکز کے ایک حصہ میں تدفین عمل میں آئی۔


              تجہیز و تکفین سے فراغت کے بعد حضرت شیخ زکریا نے اکابر اور جماعتی احباب سے مشورہ کے بعد مولانا انعام الحسن صاحب کو تبلیغی و دعوتی امور کا ذمہ دار اور امیر بنایا، اور پھر عمومی اعلان ہوا، اور بحیثیت جانشین آپ نے لوگوں کو بیعت کیا۔


           دعوت و تبلیغ کی ذمہ داریاں سپرد کئے جانے کے بعد آپ نے بڑی ہمت اور پامردی کے ساتھ ان تمام دعوتی تقاضوں کو پورا فرمایا جو ایک امیر اور جانشین کی حیثیت سے آپ کے کندھوں پر آگئے تھے، زیادہ سے زیادہ جماعتوں کی نقل و حرکت اور نئے اجتماعات کی تاریخیں طے کرنے کے ساتھ ان تمام اجماعات میں آپ نے شرکت فرمائی جس کو مولانا یوسف صاحب اپنی حیات میں طے فرماگئے تھے، اس معاملہ میں آپ نے اپنی طبیعت کے ضعف یا نت نئی مخالفتوں کی بھی پرواہ نہ کی۔


           اس پورے عرصہ میں حضرت شیخ زکریا رح نے نہ صرف آپ کی اور آپ کے ذریعہ ہونے والے کام کی نگرانی و سرپرستی فرمائی بلکہ اطراف ملک سے آنے والے جماعتی وفود اور مرکز کے خواص پر بھی گہری نگاہ رکھی، اور پوری طرح پشت پناہی کی، 


*انداز خطابت*


              آپ منصب امارت پر فائز ہونے تک وعظ و تقریر کی دنیا سے بہت دور مزاج میں خاموشی اور کم گوئ اپنی انتہاء کو پہونچی ہوئی تھی، حضرت مولانا یوسف صاحب کے دور میں شاید ہی کبھی تقریر فرمائی ہو، مولانا عمران خاں صاحب ندوی ظریفانہ لہجہ میں فرمایا کرتے تھے کہ اس دعوت کے بانی بھی اَلْکَنْ تھے اور مولانا انعام الحسن صاحب بھی قلیل الکلام ہیں، بیچ میں ابو الکلام ( مولانا یوسف صاحب ) آ گئے تھے


              ابتداءً جب تقریر شروع کی تو صرف احادیث اور ان کا ترجمہ و مطلب بیان کر دیتے، کیونکہ ساری عمر درس و تدریس کی تھی، بعد میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا، یہاں تک کہ دو دو گھنٹے آپ بلا تکلف تقریر فرما لیا کرتے تھے، اس کے بعد عوارض اور طبعی ضعف کی وجہ سے آہستہ آہستہ آپ کے بیانات پھر اتنے ہی مختصر اور محدود ہوگئے تھے جتنے ابتداء میں تھے۔


*حج اور عمرے*

 

مولانا انعام الحسن صاحب نے اپنی حیات میں سترہ حج اور چھ عمرے ادا فرمائے، پہلا حج ١٣٥٦ھ میں حضرت مولانا الیاس صاحب کی معیت میں ہوا، اس کے بعد ۱۳۷٤ھ کا حج شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی اور مولانا یوسف کے ساتھ ہوا، ۱۳۸۳ھ کے حج میں حضرت شیخ زکریا کی سرپرستی اور مولانا یوسف صاحب کی معیت و رفاقت رہی، اس کے بعد کے تمام حج اپنے دور امارت میں فرمائے، یہ تمام اسفار دعوتی و تبلیغی نطقۂ نظر سے کئے گئے تھے، اور عالم عرب اور بالخصوص حرمین شریفین میں کام کی وسعت اور اس کا تعارف بھی پیش نظر تھا۔


*آپ کی امارت میں دعوت کا فروغ*

 

               ۳۲/ سالوں میں آپ نے جماعت کے دائرہ کار کو اتنا وسیع کردیا کہ دنیا کا کوئی بڑا اور قابل ذکر ملک ایسا نہیں بچا جہاں جماعت کی سرگرمیاں نہ پائی جاتی ہوں، اتنی طویل مدت تک ایک ایسی عالمگیر دعوت و دینی جد و جہد کی قیادت کرنا، اور مسجد کے ایک حجرہ میں بیٹھ کر پوری دنیا کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ایسی تحریک کا نظام چلانا جو تنظیم کے تمام مروجہ طریقوں سے بے نیاز ہو، کوئ معمولی کارنامہ نہیں ہے، ان کے دور میں تبلیغی کام دنیا کے چپہ چپہ تک پہونچ گیا، اجتماعات میں شریک ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں گنی جانے لگی، روزانہ جماعتوں میں نکلنے والوں کی تعداد کا اوسط ہزاروں تک پہونچ گیا،

              بھارت سے باہر امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، سنگاپور، آسٹیرلیا، انڈونیشیا، ملیشیا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور پاکستان وغیرہ دنیا کے ہر ملک میں انہوں نے تبلیغ کی شمعیں روشن کیں، مذہب سے بیزار لوگوں کو مسجدوں میں لاکر کھڑا ہی نہیں کیا، بلکہ انہیں دوسروں کو مسجدوں میں لانے والا بنا دیا، جہاں جہاں بھی پہونچے خاموش انقلاب برپا کر دیا۔


*آخری سفر اور سانحہ وفات*


                 حضرت مولانا کی دینی و دعوتی جد و جہد سے بھر پور حیات طیبہ کا آخری دینی و دعوتی سفر ٦/ محرم الحرام ١٤١٦ھ ٦/ جون ۱۹۹۵ء میں کسیرہ ضلع مظفرنگر یوپی کا ہوا، ضعف و کمزوری کے ساتھ ساتھ ان ایام میں دل کی تکلیف اور سینہ کی چبھن بھی تھوڑے تھوڑے وقفہ کے ساتھ ہو رہی تھی، لیکن اپنے مزاج اور عادت کے مطابق اجتماع کے تمام معمولات بیان، دعاء، مصافحہ سب اسی اہتمام اور ذمہ داری کے ساتھ پورے فرمائے، پھر کاندھلہ روانہ ہو گئے ایک دن ٹھہر کر پھر دہلی روانہ ہو گئے۔


               حضرت مولانا نے ۹/ محرم ١٤٢٦ھ میں اپنی حیات کا آخری جمعہ ہمیشہ کے معمول کے مطابق بڑے اہتمام سے ادا کیا، اور نماز عشاء تک روز مرہ کے معمولات پورے فرمائے، جب آرام کیلئے لیٹے تو قلب میں تکلیف کا احساس ہوا جس نے تھوڑی ہی دیر میں نازک اور خطرناک شکل اختیار کر لی، فورًا ہسپتال لے جایا گیا، لیکن امر الہی غالب اور نافذ ہوکر رہا، اور حضرت مولانا عالم آخرت پر روانہ ہو گئے۔


              اگلے روز بعد نماز عشاء اعلان ہوا کہ نماز جنازہ بعد نمازعصر ہمایوں کے مقبرہ سے متصل وسیع پارک میں ادا کی جائیگی اور حضرت مولانا یوسف کے برابر میں تدفین ہوگی۔

            نماز فجر کے بعد سے عصر تک آخری دیدار کرنے والوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہا جیسے جیسے شام ہو رہی تھی مجمع متواتر اور مسلسل بڑھ رہا تھا، دہلی، میوات، یوپی، راجستھان یہاں تک کہ گجرات، بمبئ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور بہار وغیرہ تمام اطراف و جوانب سے مخلوق خدا ٹوٹ پڑی، نیز بیرون ملک سے بھی جمّ غفیر حاضر ہوا، مجمع کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ پانچ منٹ کا راستہ ایک گھنٹہ میں طے ہوا، چنانچہ محتاط اندازہ کے مطابق نماز جنازہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد چار لاکھ تھی، نماز جنازہ آپ کے فرزند مولانا زبیر الحسن صاحب نے پڑھائی۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون) 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت