خدمت خلق کی فضیلت
قسط اول
محمد مظاہری ندوی
عن انس و عبد الله رضي الله تعالى عنهما قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم : الخلق عيال الله فاحب الخلق الى الله من احسن الى عياله( رواه البيهقي مشكوۃ رقم: ٤٩٨٨)
عن ابن عمر رضي الله تعالى عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه من كان في حاجة اخيه كان الله في حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من يوم القيامه ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامه(متفق عليه)
ترجمہ : حضرت انس اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ساری مخلوق اللہ کی کنبہ ہے۔ پس اللہ تعالی کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو (مشکوٰۃ رقم:٤٩٩٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعال عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو دشمن کے حوالے کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی تکلیف دور فرمائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے(عیب چھپاتا ہے) اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے (صحیح مسلم رقم:٢٥٨٠)
تشریح: اسلام نے تمام انسانوں کو خدا کی مخلوق اور خاندان بتلایا ہے اور مسلم و غیر مسلم کا کوئی فرق بیان نہیں فرمایا خدا کی اطاعت کرنے والا بھی اس کے خاندان سے ہے اور خدا کی نافرمانی کرنے والا بھی اس کے خاندان سے ہیں کیوں کہ تمام انسانوں کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام اور تمام انسانوں کے جدۂ ماجدہ حضرت حواء علیہا السلام ہیں اور جب تمام انسان ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہوئے تو سب کو اپنے اہل خاندان کی خوشی اور غم میں شریک ہونا چاہیے، مصیبت زدہ کی مصیبت کو دور کرنے میں سب کو متحد رہنا چاہیے، غم زدہ شخص کے غموں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے سب کو ہاتھ بٹانا چاہیے، یہی ایک انسان کی علامت اور پہچان ہے اور اللہ تبارک و تعالی کو وہی انسان پسند ہے جو اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے، اس کی مصیبتوں کے زمانہ میں اس کا سہارا بنتا ہے، ایک حدیث قدسی میں ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے، اے ابن آدم ! "میں بیمار ہوگیا تھا تو میری عیادت کے لئے نہیں آیا، بندہ کہے گا باری تعالی میں آپ کی عیادت کیسے کرتا آپ تو رب العالمین ہے، تو اللہ تعالی فرمائیں گے کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوگیا تھا اور تو اس کی عیادت کو نہیں گیا؟ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اس کی عیادت کو جاتا تو مجھے وہیں پاتا "اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا ؟! بندہ کہے گا باری تعالیٰ میں آپ کو کیسے کھلاتا آپ تو رب العالمین ہیں، ارشاد ہوگا کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا ؟ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اس کو کھلاتا تو اس کا اجر وثواب میرے پاس حاصل کرتا، اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا بندہ کہے گا میں آپ کو کیسے پانی پلاتا حالانکہ آپ تو رب العالمین ہیں، ارشاد ہو گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا اور تو نے اس کو پانی نہیں پلایا، کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو پانی پلاتا تو اس کا اجر وثواب میرے پاس موجود ہوتا ؟ (مسلم رقم:٢٥٦٩)
*خدمت خلق کسے کہتے ہیں؟*
خدمت خلق کا مفہوم بہت وسیع ہے اس میں ہر وہ عمل داخل ہے جو بلا کسی تفریق مذہب و ملت اللہ کی مخلوق کی بھلائی خیرخواہی اور ضرورت پورا کرنے کے لیے بلا معاوضہ اور بلا کسی غرض سے انجام دیا جائے، نیز یہ مالی اور جسمانی تعاون کی تمام شکلوں کو محیط ہے، اسلام نے خدمت خلق کو عبادت بتلایا ہیں ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ بیوہ عورت اور مسکین شخص کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا ( اور ان کی خدمت کرنے والا ) مجاہد فی سبیل اللہ کے مانند ثواب حاصل کرے گا، آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا "خدمت خلق کرنے والا اس شب بیدار بندے کی طرح ہیں جو رات بھر نماز پڑھتا ہے اور تھکتا نہیں، اور اس دائمی روزہ دار کی طرح ہیں جو کبھی بھی بےروزہ نہیں رہتا،(صحیح مسلم رقم:١٠٣٩ )
ظاہر ہے رات بھر نمازیں پڑھنا اور دن بھر روزے رکھنا یہ سب کسی کے بس کی بات نہیں ہے مگر خدمت خلق ایک ایسی آسان عبادت ہے جسے اپنی بساط کے مطابق انجام دے کر ہر شخص قائم اللیل اور صائم النہار کی فضیلت کا مستحق بن سکتا ہے۔
*ایک حیرت انگیز واقعہ*
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ایک خوش حال گھرانہ بلخ میں سکونت پذیر تھا تھا،اسی اثناء میں گھر کے ذمہ دار مرد کا انتقال ہو گیا، تو کچھ عرصہ کے بعد اس کی اس کی بیوہ بیوی اور یتیم بیٹیاں فقروفاقہ کا شکار ہوگئیں، وہ بیوہ اپنی بچیوں کے ساتھ دوسرے شہر کی غیر آباد مسجد میں اپنی یتیم اور معصوم بچیوں کو چھوڑ کر ان کے خورد و نوش کا انتظام کرنے چلی، اتفاق سے ایک دیندار مسلمان ملا ،وہ اس سے اپنا حال راز سنانے لگیں کہ میں علوی خاندان کی ایک بیوہ ہوں میرے ساتھ یتیم بچیاں ہیں جن کو اسی شہر کی غیر آباد مسجد میں چھوڑ کر مدد چاہنے آئی ہوں، وہ دیندار مسلمان کہنے لگا تم علوی خاندان کی مستحق بیوہ ہو اس پر کوئی پروف اور گواہ پیش کرو، عورت نے کہا کہ شہر میں اجنبی ہوں، کوئی جانتا نہیں اس صورت میں کیسے گواہ پیش کر سکتی ہوں،اس شخص نے منہ پھیر لیا اور مدد کرنے سے ہاتھ روک لیا، وہ بیوہ مایوس ہو کر جانے لگی کہ ایک مجوسی ملا، شکستہ دل بیوہ نے اسے بھی وہی حالات سنائے جو پہلے شخص کو سنائے تھے، اس پر وہ مجوسی بلا تحقیق اس کی مدد کے لئے تیار ہو گیا، اس بیوہ کو اپنی تین بچیوں سمیت گھر لایا اور گھر کی خواتین کو ہدایت دی کہ ان کے لیے خوراک اور پوشاک کا عمدہ انتظام کیا جائے اور عزت کے ساتھ اپنے گھر ٹھرایا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا، ادھر اسی رات پہلے والے مسلمان نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھا کہ گویا قیامت قائم ہوگی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، اور قریب ہی جنت کا ایک سبز زمرد کا ایک خوبصورت محل ہے، اس شخص نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ! یہ محل کس کا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مسلمان موحد کا ہے، اس نے عرض کیا، حضور ! الحمدللہ میں بھی مسلمان اور موحد ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پروف اور گواہ پیش کرو کہ تم مسلمان موحد ہو، وہ شخص حیران و پریشان ہوگیا، اس سے کہا گیا کہ جب تمہارے پاس ایک علوی خاندان کی شریف خاتون مدد کے لیے آئی تھی تو تم نے کہا تھا گواہ پیش کروں کہ تم علوی ہو، اور ضرورت مند ہو، اسی طرح اب تم بھی گواہ پیش کرو کہ تم مسلمان اور موحد ہو، بس اسی وقت گھبراہٹ سے آنکھ کھل گئی صبح ہوتے ہی وہ شخص اس بیوہ عورت کی تلاش میں نکل پڑا، تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ایک مجوسی کے گھر میں مقیم ہے جا کر مجوسی سے کہا براہ کرم اس یتیم اور بیوہ کو میری کفالت میں دے دو ، صاحب خانہ نے انکار کر دیا دیا کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو ان کی خدمت سے وہ برکتیں میسر آئیں کہ جو بیان سے باہر ہیں، الحمدللہ اللہ ہم نے اس خاتون کے ہاتھوں اسلام قبول کرلیا ہے، اور مزید سنو : کل رات جنت کے محل کا خواب جو تم نے دیکھا الحمدللہ اللہ وہ میں نے بھی دیکھا بلکہ مجھے اس کی بشارت دی گئی کہ کہ یہ اس بیوہ اور یتیم بچیوں کی مدد اور خدمت کا صلہ ہے۔(گلدستۂ احادیث ٣٠٠/٣)

0 تبصرے