درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

.. . . . . . . درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو. . . . .   



طالب بشیر ندوی دوران سفر

آج 5شوال المکرم1443ھ مطابق 8مئی 2022ءبروز اتوار کل تحریک پیام انسانیت فورم شمالی ہند کا یک روزہ مشورہ سر زمین جھانسی میں ہوا صبح 10:30بجے مجلس کا آغاز ہوا مولانا جنید فارقی ندوی صاحب نے مجلس کا آغاز کیا اور استاذ محترم مولانا اصطفاءالحسن کاندھلوی صاحب استاذ دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنوء کو دعوت سخن پیش کی اب مولانانے وانک لعلی خلق عظیم کے عنوان کے تحت گفتگو کی مولانا نے فرمایا کہ اخلاق سے مراد مسلمان ہر میدان میں اپنا اعلی کردار پیش کریں مولانا کی گفتگو جاری تھی میر کارواں حضرت مولانا بلال عبدالحئی الحسنی الندوی دامت برکاتھم تشریف لائے حضرت کی تشریف آوری سے پورے مجمع کو خوشی ہوئی تھوڑی دیر بعد حضرت کا افتتاحی بیان ہوا حضرت کا بیان صرف بیان نہیں بلکہ درددل تھا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت کی باتوں کو سمجھنےکی توفیق عطاء فرمائے حضرت کے بیان کا ماحصل یہ تھا کہ حالات انتہائی نازک ہیں یہ صحیح ہے لیکن یہ گھبرانے کی بات نہیں ہے گھبرانے کی بات تویہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ حالات خراب ہیں اس کے باوجود ہم سوئے ہوئے ہیں آپ پیام انسانیت ک بینر تلے مذھب پر جمع نہ کریں بلکہ انسانیت کے نام پر لوگوں کو جمع کریں آپ بازار میں پانی پلائیں کھانا کھلائیں لکین کسی مذہبی پروگرام میں پانی تقسیم نہ کریں یا کھانا نہ کھلائیں یہ تعاونوا علی الاثم ہے اسکی تو ہر گز کوئی اجازت نہیں دے گا پتہ چلا آپ ان کو عید ملن پر بلارہے ہیں کل کو وہ آپ کو ہولی ملن پر بلائیں گے پھر تو ایمان ہی خطرے میں پڑ جائے گا یہ کام شیشہ وآہن کا کام ہے ایک طرف مضبوطی سے کا م کرنا ہے اور اپنے ہم وطنوں میں کرنا ہے لیکن دوسری جانب بہت نازک کام ہے کہیں اپنے ایمان کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس کے بارے میں بہت محتاط رہنا ہے اور کام کرتے رہنا ہے ہمارے عبدالرشید صاحب نے مجھ سے سوت یونین کے جو واقعات بیان کئے وہ حیرت میں ڈالتے ہیں کہ ہم سمجھتے تھے یہاں بڑے بڑے محدثیں رہے ہیں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ ہماری عورتوں کو پردہ کرنے نہیں دیں گے لیکن راتوں رات جب یہ واقعہ پیش آیا کہ ہماری خواتین رات کو پردہ میں گھر آئیں تو صبح پردہ پر پابندی لگ گئی اب بھی اگر ہم نہ جاگیں پھر ہمیں جگانے کے لیے ایسے واقعات وحادثات پیش آتے ہیں جو ہم نے کبھی سوچے بھی نہیں ہوتے ہیں حضرت کا بیان مکمل ہوا تو کارگزایوں کا سلسلہ شروع ہوا شمالی ہند کی اکثرریاستوں کی کار گزاری سامنے آئی آخر میں قاضی بھوپال حضرت قاضی مشتاق احمد ندوی صاحب کا بیان ہوا جنہوں نے سنت اللہ اور قدرت اللہ کی جانب توجہ مبذول کرائی اور فرمایا کہ قدرت اللہ کو اپنی جانب متوجہ کرانے کے لیے ہے کہ سنت اللہ کو لازم پکڑا جائے اور ان حالات میں اتنا کام کیا جائے جتنا ہم کر سکیں پھر قدرت اللہ پر نظر رکھی جائے اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جائے آخر میں پھر حضرت نے کام کی ترغیب دی اور مشورہ ہوا اس طرح آج دن میں شمالی ہند کا مشورہ مکمل ہوا پھر جدائی کا وقت آیا اور ہم اپنے میر کارواں ومحسن حضرت مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی دامت برکاتھم سے گلے ملتے ہوئے رخصت ہوئے حضرت کی زبان سے جس درد کا اظہار ہوا وہ زبان کا نہیں بلکہ درد دل تھا اللہ تعالی اس کارواں اور میر کارواں کی حفاظت فرمائے حضرت کے اختتامی بیان میں انسانیت کا غم نمایاں تھااور بار بار میرے دماغ میں یہ شعر گونج رہا تھا کہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھی کروبیاں 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت