*مسجد کو بنانے کے پلان میں اہم چیزیں*
● کھڑکیاں بڑی رکھیں۔
● زمین سے کھڑکی ایک فٹ اوپر ہو۔
● چھت اونچی رکھیں تاکہ کل کو HVAC سسٹم لگانے کا رواج عام ہوگا تو ڈکٹنگ کروانے میں دشواری نہیں ہوگی۔
● دوسری منزل کے لیے درمیان سے چھت کو مت کھولیں۔
● پرانے زمانے میں اسپیکر اور پنکھے AC نہ ہونے کی وجہ سے چھت کو کھولا جاتا تھا مگر اب جدید دور ہے سب موجود ہے لہذا چھت درمیان سے بند رکھیے۔
● تبلیغی جماعت کےٹھہرنے کے کیے الگ کمرے بنانے کی کوشش ہو اگر نہیں تو کم از کم ان کے رہن سہن کا الگ بندوبست ہو یا کم سے کم الماریوں کے خانے اتنے بڑے ہوں کہ جماعت والے بآسانی بستر نمازیوں سے چھپا سکیں۔
● کوشش ہو کہ داخلی دروازہ کے ساتھ پہلے باتھ روم بعد میں وضو خانہ اور پھر مسجد کی حدود میں داخلہ ہو یو پاکی زیادہ برقرار رہے گی۔
● باتھ روم اور مسجد والے جوتے آپس میں مکس نہ ہوں۔
● سیڑھیوں کی چوڑائی کم سے کم پانچ فٹ ہو کیوں کہ ایک نمازی آئے اور ایک آسانی سے جائے۔
● مسجد کے ہال میں ہوا کراس ضرور ہو۔
● مسجد میں ایگزازسٹ فین ضرور ہوں۔
● ایگزازسٹ فین AC کے مخالف دور ہوں قریب نہ ہوں۔
● روم کولر کے مخالف سمت میں ایگزازسٹ فین لگانے سے ہوا بہت بہترین کراس ہوگی۔
جب جمعہ کی طرح نمازی زیادہ ہوں تو بھلے زیادہ AC بھی کیوں نہ چل رہے ہوں تب بھی ایگزازسٹ فین چلانا نہایت ضروری ہیں ورنہ ایک وقت کے بعد AC کام کرنا چھوڑ دیں گے اور نمازیوں بے ہوش بھی ہوسکتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ کمزور نمازی کی موت بھی واقع ہو جائے تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے مگر اس کا احتمال ضرورہے۔
● اگر مسجد بڑی ہے تو تبلیغ والوں کے کچن اور باتھ کا الگ بندوبست رکھیں۔
● مسجد میں فائبر گلاس کے کام میں رنگ دار فائبر ہرگز استعمال نہ کریں اس سے ٹینشن بڑھتی ہے ایک رنگ کا فائبر ہو سفید یا گرے یا پھر ہلکا مٹی والا لائٹ رنگ۔
مسجد میں سیلنگ کروانی ہو تو سفید رنگ ایک ہی سیلنگ جس میں حسب ضرورت لائٹس کے علاوہ کوئی رنگ دار لائے ہو کیوں کہ یہ کلب نہیں مسجد (خدا کا گھر) ہے۔
● محراب میں شیشہ کاری کا کام کروانا ایسا ہی ہے جیسا کسی جاسوس کو اگلوانے کے لے ذہنی ٹینشن دی جا رہی ہو۔
● محراب اتنا ہو کہ امام کا منبر الگ اور اذان کی جگہ کے علاوہ مصلی بھی جدا جدا ہوں جس کی معیاری چوڑائی 10 فٹ بنتی ہے۔
● محراب میں فرنٹ کھڑکی اتنی ہو کہ وہ دروازے کا کام کرے اگر کسی نے مسجد میں جنازہ ادا کرنا ہو تو فرنٹ سے جنازہ لاکر باہر رکھا جا سکے۔
● وضو خانہ کھلا اور ہوا دار ہونا ضروری ہے۔
● واش روم کا تنگ رکھنے کی بجائے تھوڑے کم رکھ دیے جائیں مگر تنگی کسی صورت نہیں کرنی چاہیے۔
● واش روم کے دروازے مسجد کے نمازیوں کو نہیں دکھنے چاہیں یعنی وہ ذرا الگ ہوں اور ان کے سامنے ایک دیوار ضرور ہو۔
● مسجد کا داخلی دروازہ کھلا رکھنے سے نمازیوں کو گزرنے میں تکلیف نہیں ہوگی اور کسی نے رات کو موٹر سائیکل کھڑا کرنا ہو تو آرام سے کر سکے۔
امام صاحب کا گھر مسجد کے الگ رکھا جائے کیوں کہ امام صاحب کا حق ہے کہ وہ نجی زندگی باقیوں کی طرح الگ تھلگ گزار سکیں۔
● بورنگ ایسی جگہ رکھوائیں جہاں کل کو بور خراب ہونے کی صورت میں مشین اسی طرح دوبارہ فٹ کی جاسکے یعنی بور لنٹر کی زد میں نہ آئے تھوڑا ہٹ کے ہو۔
● کوشش ہو کہ درس گاہ نمازیوں سے جدا ہو۔
● درس گاہ کا اپنا الگ واش روم ہونے سے طلباء کو نمازیوں کے ساتھ انتظار نہ کرنا پڑے۔
● برآمدے میں کم سے کم صفیں ہوں۔
● ہال میں صفوں کے آگے اتنی جگہ رکھنی چاہیے جس سے نمازی رحل رکھ کر قرآن پڑھ سکے۔
● قرآنی الماری ہال کے دائیں بائیں ہونے سے قرآن اٹھانے کے لیے قبلہ ہو کر تلاوت کرنے والوں کو بار بار الماری کھولنے سے خلل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
● ہال کی صفوں کے پیچھے اتنی جگہ چھوڑنی چاہیے کہ رکوع میں جانے والے نمازی کے پیچھے سے ایک بندہ آرام سے گزر سکے اور یہی کام برآمدے میں ہو اور یہی چیز صحن کے آخر میں بھی کیوں رش کی صورت میں نمازیوں کی گزر گاہ نمازیوں ہی کی وجہ سے سے متاثر نہ ہو۔
● مینار ہمیشہ سادہ رکھیں جو کہ پرکشش لگتا ہے۔
● گنبد بنانے کی چنداں ضرورت نہیں اگر بنانا ہے تو اونچا بنایا جائے تاکہ باہر سے نظر بھی آ سکے۔
*نوٹ: ان ۔معلومات کو شیئر ضرور کیجیے*

0 تبصرے