*خدمت خلق کی فضیلت*
(دوسری و آخری قسط)
از: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد
خـدمـت خلق سے جنت ملتی ہے:
ایک روایت میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں: کہ ایک بدوی نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے وہ کام سکھائیے جو مجھے جنت میں لے جاۓ فرمایا: انسان کو غلامی سے آزاد کراؤ،انسان کی گردن کو قرض کے بندھن سے چھڑاؤ، اور ظالم رشتہ دار کا ہاتھ روکو،اگر یہ نہ ہو سکے تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ اور نیکی بتاؤ اور برائی سے روکو، اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو بھلائی کے سوا اپنی زبان کو روکے رکھو۔(سیرت النبی ١٨/٦ بحوالہ مشکل الآثار ٤/٢ )
اس حدیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو کوئی بندہ خلق خدا کی راحت رسانی کے کام کرتا ہے یا مصیبتوں سے نجات دلانے کی کوشش کرتا ہے ،مثلا کسی کو غلامی سے آزاد کرادیا ،قرض دار کا قرضہ ادا کر دیا، مظلوم کو ظالم سے بچالیا، بھوکے کو کھانا کھلایا ، پیاسے کو پانی پلایا، بے گھر کو ٹھکانہ دلایا، یا کسی کو نیکی کا راستہ بتلایا، کسی کو بدی سے بچالیا یہ سب وہ اعمال ہیں جو اللہ کو بے حد محبوب اور پسندیدہ ہیں اور باری تعالی نے اس پر جنت کا وعدہ فرمایا ہے، اسی لئے صحابہ کرام خدمت خلق میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتے تھے ۔
حضرات شیخین کا واقعہ بہت ہی مشہور ہے کہ مدینہ طیبہ کے باہر ایک بیوہ اندھی بوڑھی عورت رہتی تھی ،سیدنا فاروق اعظم روزانہ صبح صبح جا کر اس کی گھریلو ضروریات خاموشی اور خلوص دل کے ساتھ سر انجام دیتے تھے، کچھ دنوں کے بعد آپ نے محسوس کیا کہ کوئی شخص مجھ سے بھی پہلے آکر اس بوڑھی عورت کا سارا کام کاج کر جاتا ہے تو آپ کو بڑا تعجب ہوا، ایک روز تحقیق کے ارادہ سے نماز تہجد کے بعد فجر سے قبل اس بوڑھی عورت کے گھر آئے تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ سیدنا ابو بکر صدیق اس بوڑھی عورت کی خدمت گزاری سے فارغ ہوکر جھونپڑی سے باہر نکل رہے تھے ۔( گلدستہ احادیث ٣٠٦/٣)
خدمت خلق کرنے والوں پر الله کی رحمت برستی ہے
حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا: وہ لوگ اللہ کی رحمت خاص سے محروم رہتے ہیں جن کے دلوں میں دوسرے آدمیوں کے لئے رحم نہیں ہوتا اور جو دوسروں پر ترس نہیں کھاتے (بخاری ومسلم)
اس حدیث میں حضور نے’الناس“ کا لفظ ارشاد فرمایا جو مؤمن و کافر نیک و بد سب کو شامل ہے اور بلا شبہ یہ ایک انسان کا فریضہ ہے کہ وہ سب کے ساتھ مہربانی کا برتاؤ کرے، البتہ کافر و فاجر کے ساتھ سچی رحمدلی کا سب سے بڑا تقاضہ یہ ہونا چاہئے کہ اس کے کفر و فسق کے انجام کا درد ہمارے دل میں موجود ہو اور ہم اس سے اس کو بچانے کی کوشش کریں اس کے علاوہ اگر وہ کسی دنیاوی و جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوں تو ان کا تعاون کرنا بھی رحمدلی کا تقاضہ ہے۔
جانور کی خدمت بھی باعث اجر ہے :
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا: ایک آدمی راستہ میں چلا جارہا تھا اسے سخت پیاس لگی ، چلتے چلتے اسے ایک کنواں ملا، وہ اس کے اندر اترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا، کنویں کے اندر سے نکل کر اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہے جس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی اور پیاس کی شدت سے وہ کچڑ کھارہا ہے، اب اس آدمی نے دل میں کہا کہ اس کتے کو بھی ایسی ہی پیاس لگی ہے جیسی مجھے لگی تھی اور وہ اس کتے پر رحم کھا کر پھر اس کنویں میں اترا اور اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھر کر اس نے اس کو اپنے منہ سے تھاما اور کنویں سے نکل آیا اور اس کتے کو وہ پانی اس نے پلا دیا اللہ تعالی نے اس کی اس رحم دلی اور محنت کی قدر فرمائی اور اس کے اس عمل پر اس کی بخشش کا فیصلہ فرمایا، بعض صحابہ نے حضور ﷺ سے یہ واقعہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جانوروں کی تکلیف دور کرنے میں بھی ہمارے لئے اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ! ہر زندہ اور تر جگر رکھنے والے جانور کی تکلیف دور کرنے میں اجر ہے ۔ (مسلم رقم:٢٢٤٤) اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اللہ نے اس کے اس نیک عمل کی قدرفرمائی اور اس کی مغفرت کر دی اوراسکے لئے جنت کا فیصلہ فرمادیا (صحیح بخاری)

0 تبصرے