*حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کی دینی خدمات*
(قسط اول)
از: محمد مظاہری ندوی
حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح نے اپنی زندگی دینی خدمات کے لئے وقف کر رکھی تھی، دین کی خدمت اور نشر واشاعت کو آپ نے اوڑھنا بچھونا بنالیا تھا، آپ نے مختلف میدانوں میں دینی خدمات انجام دیں ہیں، آپ نے مکاتب کا قیام فرمایا، آپ نے دینی اداروں کی بنیاد رکھی، آپ نے دینی اداروں میں قرآن وحدیث وفقہ کی تعلیم دی، آپ نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے، آپ نے باطل فرقوں سے نمٹنے کے لئے مختلف تنظیموں کی بنیاد رکھی، اور ان کی سرپرستی فرمائی، الغرض آپ نے دین کے مختلف میدانوں میں خدمات انجام دیں ہیں، اس مضمون میں ہم مولانا کی ان دینی خدمات پر مختصراً روشنی ڈالیں گے، تاکہ قارئین خصوصاً شاگردان آپ کی دینی خدمات سے واقف ہوں، اور اپنی صلاحیتیں ان میدانوں میں لگائیں، اور مولانا جن کاموں کو شروع فرما گئے ہیں ان کو آگے بڑھائیں، سب سے پہلے ہم آپ کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالیں گے، جس میں آپ کی زندگی کا وافر حصہ صرف ہوا۔
*تدریسی خدمات*
آپ نے تدریسی خدمات کی ابتدا سنہ ١٩٨١ء میں مدرسہ کنز مرغوب فیض صفا پٹن سے کی، یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت مولانا عبد القادر صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ کنز مرغوب کے مہتمم تھے، آپ نے یہاں صرف، نحو، فقہ، ادب وغیرہ فنون پر مشتمل کتابیں پڑھائیں، مولانا عبد القادر صاحب کے انگلینڈ تشریف لے جانے کے بعد اہتمام کی ذمہ داری آپ کے سپرد ہوئی، آپ دو سال مدرسہ کنز مرغوب کے مہتمم رہے، بعدہ سنہ ١٩٨٧ء میں دار العلوم چھاپی تشریف لے گئے، یہاں فقہ و حدیث کی اہم کتابیں آپ کے زیرِ تدریس رہیں، آپ نے یہاں نور الانوار، ہدایہ، مشکوٰۃ المصابیح، سنن نسائی، سنن ابی داؤد وغیرہ کتب کا درس دیا، نیز آپ نے سنن نسائی کی عربی شرح لکھنے کا کام بھی یہیں رہ کر شروع فرمایا(جس کی چھ جلدیں طبع ہو چکی ہیں) سنہ ١٩٩٢ء میں والد صاحب کی علالت کی وجہ سے دار العلوم چھاپی سے سبکدوش ہوکر پٹن تشریف لے آئے، اس کے بعد سنہ ١٩٩٢ ء تا سنہ ١٩٩٧ء حضرت مولانا شریف صاحب کے ساتھ مل کر مکاتب کی نگرانی فرمائی۔
بعدہ جامعہ ابنِ عباس سرخیز احمدآباد تشریف لائے، اور یہاں ابتدائی کتابوں سے لیکر آخری درجات تک کی کتابیں پڑھائی، جس میں صحیح بخاری، مشکوٰۃ المصابیح، اور ھدایہ سر فہرست ہیں، واضح رہے کہ احمدآباد میں دورۂ حدیث کی ابتدا جامعہ ابنِ عباس سرخیز سے ہی ہوئی ہے، آپ نے سنہ ٢٠٠٢ء تا سنہ ٢٠٢٠ء انیس سال تک صحیح بخاری کا درس دیا، جامعہ ابنِ عباس سرخیز سے سنہ ٢٠٠٤ء میں آپ جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد تشریف لے آئے، جس کے بانی و مہتمم آپ ہی تھے، جامعہ کنز العلوم میں اولا صحیح بخاری و ہدایہ زیر تدریس رہیں، کچھ سالوں بعد آپ نے صرف صحیح بخاری کی تدریس اپنے ذمہ رکھی تھی، جس کی وجہ آپ کی ذمہ داریوں کا اضافہ تھا۔
آپ رحمہ اللہ نے اپنی زندگی میں جن کتابوں کی تدریس فرمائی ان کی فہرست درج ذیل ہیں:
ترجمۂ قرآن مجید، صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، مشکوٰۃ المصابیح، ریاض الصالحین، ھدایہ،قدوری،شرح وقایہ،نور الایضاح، نور الانوار، أصول الشاشی، شرح عقائد، شرح تہذیب، مختارات، منثورات، کلیلہ و دمنہ، قصص النبیین، القراءۃ الراشدہ، نحومیر، علم التصریف، شذاالعرف،
واضح رہے کہ ان کتابوں کی تدریس کا تذکرہ آپ نے خود اپنے آخری مضمون فرمایا ہے۔
آپ کی تدریس کا انداز اپنے اساتذہ و اسلاف کے طرز کے موافق تھا، یعنی آپ اولا آموختہ سنتے، اس کے بعد طالب علم سے عبارت خوانی کراتے، اگر طالب علم نحوی صرفی غلطی کرتا تو ناراضگی کا اظہار کرتے، مناسب تنبیہ فرماتے، مطالعہ کی ترغیب دیتے،حواشی کے مطالعہ پر بہت زور دیتے، اس کے بعد سبق پڑھاتے، اور حل عبارت اور ضروری تشریح پر اکتفاء کرتے، بیجا اور لایعنی بحثوں سے پرہیز کرتے، سادہ انداز سے سمجھاتے، بھاری بھرکم اور مشکل الفاظ کے استعمال سے پرہیز فرماتے، جس سے ہر طالب علم نفس کتاب سمجھ جاتا، نیز آپ دوران سبق تربیت پر بھی توجہ فرماتے،اسلاف کے واقعات سناتے، طلبہ میں جو برائی دیکھتے اس پر نکیر فرماتے، اسی طرح آپ درجہ میں باوقار رہتے، طلبہ سے مذاق کرنے سے پرہیز فرماتے، نیز ابتدائی درجات کی کتابوں میں آپ مشق کو بہت ضروری خیال فرماتے تھے اور اساتذۂ کرام کو بھی اس جانب بار بار توجہ دلاتے تھے۔ ( جاری)

0 تبصرے