*حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کی دینی خدمات*
از: محمد مظاہری ندوی
(قسط ثانی)
*تصنیف و تالیف*
تصنیف و تالیف میں آپ کی کتاب سنن نسائی کی عربی شرح "المکتفی بحل المجتبی" واحد اور مایۂ ناز تصنیف ہے،المکتفی نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ سنن نسائی کا اصل نام "المجتبی"ہے،آپ نے اسی وزن پر شرح کا نام "المکتفی" رکھا، آپ نے اس شرح کی تصنیف اس وقت فرمائی جب دار العلوم چھاپی میں آپ کے ذمہ یہ کتاب تدریس کے لئے تفویض ہوئی، آپ نے مطالعہ کے لئے جب مراجع تلاش کیے تو سنن نسائی کے سلسلہ میں حضرت شیخ زکریا نور اللہ مرقدہ کے افادات، جو حضرت شیخ عاقل صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے قلمبند فرمائے ہیں، "الفیض السمائی" کے نام سے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا مرجع نہیں ملا،آپ کو احساس ہوا کہ اس کتاب پر کام کی ضرورت ہے،جس سے یہ کتاب حل کرنا آسان ہو، کیونکہ الفیض السمائی بہت مختصر ہے، آپ نے پھر حل کتاب کے لئے سنن ترمذی اور سنن ابی داؤد کی شروحات نکالیں، اور حاصل مطالعہ ایک کاپی میں تحریر فرماتے رہے، آپ کے ساتھیوں نے جب کاپی دیکھی تو خوب سراہا، اور مشورہ دیا کہ اس کو باقاعدہ شرح کے انداز میں مرتب کردیا جائے،اور عربی زبان میں تحریر کیا جائے،(واضح رہے کہ مولانا نے یہ کاپی اردو زبان میں لکھی تھی) مولانا اپنے ساتھی اساتذہ کے مشورہ کو قبول فرمایا، اور توکلا علی اللہ کام شروع کردیا، البتہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ سنن نسائی کی تدریس کے دوسرے سال ہی کتاب تبدیل ہوگئی، اور سنن ابی داؤد کی تدریس آپ کے ذمہ سپرد ہوئی، لیکن آپ نے کام جاری رکھا، اور پانچ سال کے اندر کتاب الطھارۃ تک کام مکمل ہوا، جامعہ ابنِ عباس سرخیز آنے کے بعد آپ نے مسودہ کی تصحیح و تنقیح کا کام کیا، اور کتاب کی جلد اول شائع ہوئی، اہل علم نے اس شرح کو پسند فرمایا اور آگے کام جاری رکھنے اور مکمل کتاب کی شرح لکھنے کا مطالبہ فرمایا، البتہ جلد اول کی طباعت کے بعد دوسری جلدوں کی طباعت میں بہت وقت گذر گیا،
جامعہ کنز العلوم جمالپور آنے کے بعد پھر اس کام کی رفتار میں اضافہ ہوا، مولانا احمد صاحب اپنے آخری مضمون میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ "جامعہ کنز العلوم آنے کے بعد اللہ کی توفیق سے "المکتفی بحل المجتبی" کا کام اچھی رفتار سے ہوا،اسباب بھی مہیا ہوئے، اور ذہنی سکون بھی حاصل ہوا، محسنین اور متعلقین کی دعا کی برکت سے الحمدللہ پانچ جلدیں چھپ چکی ہیں،اور چھٹی جلد زیرِ طباعت ہے،اور چھ جلدوں میں کتاب الجنائز تک کام ہوچکا ہے، اور ساتویں جلد کا کام جاری ہے، فللہ الحمد"
(اب آپ کی وفات کے بعد چھٹی جلد طبع ہو کر آچکی ہے)
*طرز تصنیف*
حضرت مولانا رح کتاب کے مقدمہ میں طرز تصنیف ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں " میں نے اس شرح میں تراجم ابواب پر مفصل کلام کیا ہے، خصوصاً جہاں ترجمۃ الباب اور حدیث کے درمیان کوئی مناسبت نہ ہو، اور اس کی مثال "باب الوضوء فی الثلج" اور اس میں مذکور دعا 'اللہم باعد بینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب' سے دی ہے، نیز ترجمۃ الباب میں جو مسائل مذکور ہیں ان کی وضاحت پیش کی ہے، اور اگر کسی مسئلہ میں ائمۂ اربعہ کے مابین اختلاف ہو تو ان کے مسالک دلیل کے ساتھ پیش کرتا ہوں، اور اس کے بعد حنفی مسلک کی ترجیح پر دلائل پیش کرتا ہوں، اور احادیث کی تشریح میں ائمہ کے اقوال ذکر کرتا ہوں، اور حدیث میں غریب الفاظ کی تشریح اس فن کے ماہرین ائمہ کی کتابوں سے تحریر کرتا ہوں، نیز اس شرح میں روات حدیث پر تفصیلی کلام کیا گیا ہے۔( المکتفی،ج-١- ص-١٣-)
خلاصۂ کلام یہ کہ آپ نے اس کتاب میں حدیث کی شرح، مسائل مستنبطہ بالحدیث کی تشریح، اور اختلاف ائمۂ اربعہ مع دلائل بیان کیے ہیں، اور اسماء الرجال پر سیر حاصل بحث کی ہے، نیز ترجمۃ الباب پر تفصیلی بحث کی ہے،خصوصا وہ تراجم جو بظاہر حدیث الباب سے مناسبت نہیں رکھتے، اور الفاظ غریبہ فی الحدیث کو مستند کتابوں کے حوالے کے ساتھ تحریر کیا ہے۔
*المکتفی کے سلسلہ میں معاصر بزرگوں کی آراء*
آپ کے شیخ حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم العالیہ(ناظم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)تحریر فرماتے ہیں" حضرت مولانا احمد حسین پٹنی صاحب نے سنن نسائی کی شرح کی تصنیف میں کتب حدیث کی خوب مراجعت فرمائی ہے، اور عمدہ و مفید مطالب اخذ کیے ہیں، نیز کتاب کی شروع میں اصول حدیث کے متعلق عمدہ مقدمہ تحریر فرمایا ہے"۔
حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری رح( سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) فرماتے ہیں " ہمارے ساتھی نے مفید اور جامع شرح تصنیف فرمائی ہے"۔
حضرت مولانا زین العابدین اعظمی رح( سابق صدر تخصص فی الحدیث،جامعہ مظاہر علوم سہارنپور ) لکھتے ہیں "یہ شرح طلبہ و اساتذہ دونوں کے لیے یکساں مفید ہے، اور سنن نسائی کی احادیث کی تشریح اور روات کے حالات معلوم کرنے کے لئے کافی و شافی ہے"۔
حضرت مولانا عبد القادر صاحب پٹنی دامت برکاتہم العالیہ ( استاذ حدیث دار العلوم ندوۃ العلماء،لکھنؤ) رقمطراز ہیں "یہ شرح، سنن نسائی پڑھانے والوں کو دیگر شروحات سے بے نیاز کردیگی"
حضرت مولانا مفتی ابراہیم صاحب آچھودوی دامت برکاتہم ( شیخ الحدیث، دار العلوم رحمانیہ،گودھرا) فرماتے ہیں "قدیم وجدید محدثین نے سنن نسائی پر کام کیا ہے، اور ان خوش نصیب حضرات میں ہمارے برادر عزیز شیخ احمد حسین پٹنی صاحب بھی ہیں جنہوں نے شروحات حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے یہ مفید شرح تصنیف کی ہے"
نوٹ: یہ اقوال کتاب کی تقریظات سے منقول ہیں، ان اقوال عربی زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے
*معاونین*
اس کتاب کی تصنیف میں جن لوگوں کا تعاون شاملِ حال رہا، اور جن کا شکریہ حضرت نے اپنے مقدمہ میں تحریر کیا ہے، انکے اسماء گرامی درج ذیل ہیں،
مولانا غلام رسول خاموش صاحب رح،مولانا ایوب صاحب مہتا، مولانا صدیق صاحب ندوی (حال مہتمم، جامعہ کنز العلوم جمالپور)، مولانا افضل حسین صاحب ندوی، مفتی ہدایت اللہ صاحب قاسمی، مولانا معین الدین ندوی، مولانا محمد بن مولانا احمد حسین صاحب، مولانا زبیر صاحب پالن پوری، ولی خان صاحب، فرقان بھائی احمدآبادی،
اسی طرح اس کتاب کی تصنیف میں حضرت کو تخریج وغیرہ کاموں میں تعاون کرنے میں مولانا صلاح الدین صاحب سیدھپوری، مولانا سلمان صاحب بیس نگری شامل رہے ہیں، نیز اس کتاب کی پروف ریڈنگ میں مولانا قاسم صاحب گودھروی، مولانا سعد صاحب ندوی،اور بندۂ ناچیز بھی شامل رہا ہے۔

0 تبصرے