میرے مشفق و مربی مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح

میرے مشفق و مربی

(حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاھری رح)



آپ کا شمار شمالی گجرات اور شہر احمدآباد کی معروف و مشہور شخصیات میں ہوتا ہے،ناچیز نے جب سے ہوش سنبھالا آپ کو پٹن کے بڑے مولانا اور والد مرحوم کے عزیز رفیق کی حیثیت سے جانا، آپ کے مجھ ناچیز پر عظیم احسانات ہیں، بلکہ یوں کہنا بجا ہوگا آج جو کچھ بھی ہیں آپ اور والد مرحوم کی شفقتوں اور توجہات کی برکت ہے، جامعۃ النور رختاواڑ پٹن میں ناظرہ قرآن کریم کی تکمیل کے بعد آپ ہی کے قائم کردہ *مدرسہ مفتاح العلوم* مکھات واڑہ میں حفظ قرآن کریم مکمل کیا، بعدہ آپ ہی کے زیر اہتمام جامعہ ابن عباس سرخیز احمدآباد میں از فارسی اول تا مشکوۃ تک تعلیم پائی،اس کے آپ کا قائم کردہ ادارہ *جامعہ کنز العلوم جمالپور* سے سند فراغت حاصل کی، اور یوں حفظ تا عالمیت مکمل علمی سفر آپ کے سایۂ عاطفت طے پایا، دوران تعلیم آپ نے خوب تربیت فرمائی، آپ روزانہ رات کو بلاتے اور آموختہ سنتے تھے، عدم پختگی پر تنبیہ فرماتے، ہمارے درجہ میں وقتاً فوقتاً حاضری دیتے اور ہماری تعلیمی نگرانی فرماتے، ناچیز کو آپ نے درجہ کے علاوہ خصوصی طور پر اردو خوشخطی کی تعلیم فرمائی، 

جامعہ کنز العلوم سے فراغت کے بعد آپ اور والد صاحب مرحوم نے جامعہ مظاہر علوم سہارنپور میں شعبۂ تخصص فی الحدیث میں تعلیم کے لئے بھیجا، بحمد اللہ آپ اور تمام اساتذہ کی دعاؤں کی برکت سے داخلہ نصیب ہوا، ایک مرتبہ آپ کی مظاہر آمد ہوئی آپ سے ملاقات پر آپ کے ساتھی نے معلوم کیا کہ یہ بچہ کون ہے؟ آپ کی شفقتوں پر قربان جاؤں آپ نے فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے؛

 جامعہ مظاہر علوم سہارنپور اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے ادارے اور مادر علمی جامعہ کنز العلوم میں بحیثیت مدرس مقرر کیا، اور سال اول ہی سے عربی پنجم تک کتابیں تدریس کے لیے عنایت فرمائیں، اور نگرانی بھی فرماتے رہے، اور اپنے پاس بلا کر مفید مراجع بتلاتے اور تدریس کا طریقہ سمجھاتے، پڑھانے کا انداز سکھاتے

جامعہ کنز العلوم میں آپ کے زیر سایہ گیارہ سال رہنے کا موقع ملا، آپ نے تفسیر،اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، عربی ادب، نحو، بلاغت، عقائد، علم کلام، فلسفہ، سیرت، تاریخ، ہر فن کی کتابیں تدریس کے لیے عنایت فرمائیں،اس کے علاوہ آپ نے بے شمار خدمات کے لئے قبول فرمایا، صحافت، انجمن،امتحان، وغیرہ الغرض آپ نے ہماری خوب تربیت فرمائی اور ہماری خوابیدہ صلاحیتوں کو پروان چڑھایا،

 اللّٰہ تعالیٰ استاذ محترم اور ہمارے مشفق و مربی کی بے انتہا مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، اور ہم شاگردوں کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


محمد بن مولانا شریف مظاھری

استاذ: جامعہ کنز العلوم احمد آباد

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت