حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کی دینی خدمات قسط(6)

 [حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کی دینی خدمات]

(قسط سادس)


از: محمد مظاہری ندوی



*اصلاح معاشرہ کمیٹی ( جمالپور)*


یہ کمیٹی تنظیم علماء احمدآباد کی نگرانی میں کام کرتی ہے، حضرت مولانا رح اس کمیٹی کے سرپرست تھے، اور حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب پالن پوری اس کے ذمہ دار ہیں، ان کے علاوہ مفتی طاہر صاحب چھیپا، مولانا زبیر صاحب اور ائمہ جمالپور اور دیگر فکر مند حضرات اس کمیٹی سے وابستہ ہیں، یہ کمیٹی اصلاحی بیانات کے پروگرام منعقد کراتی ہے، جمعہ کے بیانات کے ذریعہ معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کو روکنے کی کوشش کرتی ہے، انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ راہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کرتی ہے، بنجر علاقوں میں مکاتب قائم کرنے کے عزائم رکھتی ہے،

اسی طرح اس کمیٹی کے ماہانہ مشورہ میں کام کی کارگذاری پیش کی جاتی ہے، اور آئندہ کام کرنے کے نئے طریقے اور عزائم کیے جاتے ہیں، اس کمیٹی کے اکثر و بیشتر مشورے جامعہ کنزالعلوم میں ہی منعقد ہوتے تھے، اور اس کی محنتوں کے عمدہ نتائج سامنے آرہے ہیں


*دار القضاء احمدآباد*


دار القضاء احمدآباد کا قیام سنہ ٢٠٠٤ء میں ہوا، یہ صوبۂ گجرات کا پہلا دار القضاء ہے، حضرت مولانا رح اس کی مجلسِ شوریٰ کے اہم رکن تھے، آپ کا قیام چونکہ شہر احمدآباد میں تھا، اس لیے آپ ہی حضرت مفتی احمد دیولا صاحب کی نیابت میں اس کی نگرانی فرمایا کرتے تھے،ایک مدت تک آپ اور حضرت مفتی یحییٰ صاحب مدظلہ العالی اور مفتی رضوان صاحب سوداگر کی نظر ثانی کے بعد ہی فیصلے نافذ ہوا کرتے تھے، آپ اس کے مشوروں میں شرکت فرمایا کرتے تھے، بلکہ بارہا اس کی میٹینگ جامعہ کنزالعلوم میں آپ کے دفتر میں ہوا کرتی تھی،اور آپ ہی اکثر فیصل ہوا کرتے تھے، اور دار القضاء احمدآباد کے عمومی پروگرام جو دار القضاء کے تعارف کے لئے منعقد ہوتے تھے، متعدد پروگرام جامعہ کنزالعلوم میں ہونا راقم الحروف کو بھی یاد ہے، جس میں ایک مرتبہ حضرت مفتی احمد صاحب خانپوری دامت برکاتہم العالیہ اور ایک مرتبہ حضرت مفتی خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی کی حاضری ہوئی تھی، 

دار القضاء احمدآباد کے موجودہ قاضی مفتی نعیم صاحب کا کہنا ہے کہ مولانا رح کے مشوروں اور رہنمائی سے مجھے بہت فائدہ ہوا، در اصل مولانا رح بڑے تجربہ کار اور اصولی شخص تھے، جب کسی حساس مسئلہ میں آپ کی رہنمائی طلب کی جاتی تو آپ بہت عمدہ رہنمائی فرماتے تھے، آپ کی بہت سی باتوں سے میں ابھی تک فائدہ اٹھا رہا ہوں، 


ان سب کے علاوہ مولانا رح انفرادی طور پر بھی لوگوں کے جھگڑے قضیے چکایا کرتے تھے، لوگ مولانا کے گھر پر یا مدرسہ میں آتے، اپنے مسائل پیش کرتے، اور مولانا حل فرماتے، آپ کی اس خدمت سے کئی خاندان کے گنجلک مسائل حل ہوئے، اور جھگڑے ختم ہوئے،


*جمیعت علمائے ہند*


آپ جمیعت علمائے احمدآباد ( مولانا ارشد مدنی) سے بھی وابستہ رہے ہیں، اور فروری سنہ ٢٠١٨ء میں آپ کو اس کا صدر نامزد کیا گیا، اور آپ تاحیات اس عہدہ پر فائز رہے، حضرت مفتی عبد القیوم صاحب منصوری دامت برکاتہم آپ کی جمیعت میں خدمات کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ " الحمدللہ آپ کی صدارت میں آپ کی توجہ واخلاص کی برکت سے جمعیت کو پروان چڑھنا نصیب ہوا.اپنی مصروفیات کی وجہ سے جمعیت کے عمومی مشوروں میں چاہے آپکی شرکت کم ہوتی ہو، لیکن الحمدللہ تمام کاموں پر آپ کی اصلاحی نظر رہتی. پوری توجہات اور دعائیں ساتھ رہتیں . علاوہ ازیں جمعیت کی اہم تقریبات اور جمعیت کے ذیلی رفاہی شعبہ جات کے افتتاح و دعائیہ پروگراموں میں بڑے اہتمام سے شرکت فرماتے تھے.


اللہ تعالیٰ مولانا رح کی تمام دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، جنت الفردوس اعلی مقام نصیب فرمائے، آمین یارب العالمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت