*{عمربن الخطاب وأم البنين}*
قسط اول
ترجمہ از: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد
١- امیر المومنین حضرت عمر کے سامنے ایک باادب شخص کے کھڑے
رھنے کے مانند میرے ساتھ کھڑے رہو
٢-وہ ایسے روشن کارناموں والا بادشاہ ہے جس کی انتہاء تک پہونچنے سے پہلے کے لوگ عاجز ہیں۔
۳- ایسے لازوال کارنامے ہیں جو کہنگی کے باوجود نہیں مٹے ، اور اس کے تذکرے کی مہک صدیوں کو
معطر کر دیتی ہے۔
٤-کون ہے جو ان کے ایک کارنامے کو بیان کرے
میں تو ان کی مدح ایک قیمتی ہار پرو دیا ہے۔
٥- سنو اس واقعہ کو جو حضرت عباس (خادم حضرت عمر رض) سے
منقول ہے ، میں تمہیں اس سے باخبر کرنا مناسب سمجھتا ہوں
٦-وہ ہمارے درمیان موجود غربت کی منظر کشی کرتا ہے اور حاکموں کو عبرت کا سامان فراہم کرتا ہے۔
۷- حضرت عباس فرماتے ہیں: بادشاہ نے آدھی رات کے بعد بلایا، اور میں ان کے گشت میں ان کا ساتھی بنا۔
۸- قوم کی محبت نے ان کو بے چین کر دیا تھا، اور ایک دن بھی غفلت برتنا ان پر شاق گزرتا تھا۔
-۹- رات میں بھیس بدل کر چلے، اس حال میں رات کا تہائی حصہ گزرچکا تھا۔ حالات کا جائزہ لینے کیلئے۔
١٠ - خیموں میں چکرو لگا رہے تھے اس امید میں کہ اس کے گوشوں میں غمگین لوگ مل جائیں۔
١١- تب وہاں ایک ایسی بڑھیا کے پاس سے گزر ہوا، جس کے اردگرد چھوٹے بچے شور مچا رہے تھے۔
١٢- اور ایک ایسی دیگچی دیکھی جو اس نے چولہے پر چڑھا رکھی تھی، اور بچوں کو بہلانے کے لئے یونہی ابل رہی تھی۔
۱۳- وہ کہہ رہی تھی اس حال میں کہ مسلسل پھونک ماررہی تھی کہ میرے بچو! صبر کرو، تمہیں کھانا ملے گا اور پیٹ بھر جائےگا۔
١٤- تو بادشاہ اپنی دونوں آنکھیں جمائے ہوئے کبھی اس کو دیکھتا اور بھی بچوں کو دیکھتا۔
۱۵- محلہ میں ان کا قیام طویل ہوگیا حتی کہ انہیں ڈر ہوا کہ ان کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوگی۔
١٦- میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ وہاں سے جدا ہونا نہیں چاہتے تھے یہاں تک کہ وہ بچوں کو پیٹ بھرا ہونے کی حالت میں دیکھ لیں۔
١٧- وہ اسی حال میں کچھ عرصہ کھڑے رہے کہ وہ ایندھن میں پھونک مار رہی تھی اور وہ چلا رہے تھے۔
۱۸- ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس کے قریب گئے اور سلام کرتے ہوئے کہا : تم کیا کر رہی ہو؟
١٩- اور تیرے کیوں واویلا مچا رہے ہیں؟ اس نے کہا: بھوکے ہیں، کہا: انہوں نے کیوں نہیں کھایا؟
٢٠- اس نے جواب دیا اس حال میں کہ آنکھیں اشکبار تھیں، کیا میں اپنے بچوں کو گرم پانی کھلاؤں گی ؟!
٢١- کیونکہ ہانڈی میں کنکر اور پانی کے سوا کچھ نہیں ہے، میں تو ان کو بہلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔
٢٢-شایدوہ میراانتظار کرکے اکتاجائیں،اور نیند غالب آجائے تو سوجائیں۔
٢٣- اس سے کہا: تم نے غلط رائے قائم کی، اور تم نے اپنے بچوں کو کمزوری اور لاغری کے حوالے کردیا۔
٢٤- تم نے اپنی فریاد کسی دن امیر المو منین حضرت عمر رض کے سامنے پیش کیوں نہیں کی؟
٢٥- تمہاری تلخ زندگی کیلئے ان کی بخشش کافی ہو جاتی، اور حضرت عمر رض بخیل بھی نہیں ہے۔
٢٦- تو اس نے کہا: برسنے والے بادل عمر کو سیراب نہ کرے، اور دنیا جہاں میں ان کا پرچم سرنگوں ہوجائے۔
٢٧- ان کی دونوں آنکھوں نے مجھ پر ظلم کو روا رکھا ، اور میری تنگ دستی اور آہ وبکاء سے دوچار ہونے کو گوارا کر لیا ہے۔
٢٨- تو حضرت عمر رض کا دل اس کی باتوں سے ڈر گیا تو اس سے کہا:
تمہیں خدا کا واسطہ تم ہمیں اپنے حالات بتاؤ!
٢٩-اس نے کہا: انہوں اپنی نگاہیں ہم سے پھیر رکھی ہے۔ اور جو مصیبت ہم پر آئی ہے انہیں اس کی پرواہ نہیں ہے۔
٣٠- کیا ایسا بادشاہ کبھی اپنی رعایا سے غافل رہ سکتا ہے؟! جو اپنے آپ کو امانت دار حکمراں کہتا ہو۔
٣١- اس پر تو ضروری ہے کہ اپنی رعایا کی خبر گیری کرے، اور وہ میدانی علاقوں اور پہاڑی علاقوں میں تلاشی لے۔
٣٢۔ ہو سکتا ہے کہ ہے میری طرح بوڑھی عورت دکھائی دے جو موت کا انتظار کرتے ہوئے رات گزار رہی ہو-
٣٣- تاکہ وہ اسے اپنے خزانےسےکوئی ایسی چیز عطا کرے جس کے ذریعہ وہ اپنے جاں بلب بیٹوں کی پرورش کرے۔
٣٤- کتنے ہی ایسے ضرورت مند ہیں جنہیں حیا روکتی ہے، لہذا وہ بھیک مانگنے والوں کے ساتھ دوڑتے نہیں ہے۔
٣٥۔ قریب ہے کہ وہ بھوک و پیاس سے مرجائیں اور وہ احسان کرنے والوں کے تعاون کے خواہاں نہیں ہوتے۔
٣٦- جب کوئی بادشاہ اپنے ماتحتوں سے چشم پوشی کرتا ہے تو اس کا شمار ظالموں کی فہرست میں ہوتا ہے۔
٣٧- تو آپ نے اس سے کہا: تو نے سچ بات کہی، تھوڑی دیر ہمیں مہلت دو، ہمیں جو میسر ہوتا ہے وہ لےکرحاضر ہوتے ہیں۔



0 تبصرے