لدی عمر (نظم) کا ترجمہ قسط دوم

 *عمر بن الخطاب وأم البنین*

دوسری وآخری قسط 

ترجمہ از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد



٣٨۔ وہ چلے اور میں بھی ان کے نقش قدم پر چلا، گویا ہم خوشی خوشی ایک ایک ضرورت کی طرف جا رہے ہوں۔


٣٩-رات کی تاریکی میں میں ان کے پیچھے چل رہا تھا، اور کتے ہمیں بھونک رہے تھے اور پیچھا کر رہے تھے۔


٤٠- بیت المال پہونچے، جہاں وہ مدفون خزانہ تلاش کرنے لگے۔


٤١- اور تھوڑی دیر بھی نہ ہوئی تھی کہ میں نے گھی اٹھایا اور آپ نے آٹا اٹھایا۔


٤٢- ہم وہاں سے اس حال میں لوٹےکہ آٹا ان پر گر رہا تھا، اور ان کے دونوں رخسار اور پیشانی کو آٹے نے گرد آلود کر دیا تھا۔


٤٣- قریب تھا کہ بوجھ کے نیچے دب جائیں، لیکن راستہ بھر انکساری کے ساتھ چلتے رہے۔


٤٤- جب میں نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا تو یوں محسوس ہوا گویا میں نے ایسی چٹان پر ہاتھ مارا جو نرم ہونے والی نہیں ہے۔


٤٥- فرمایا : خاموش رہو تم اس دن میرے گنا ہوں کا بوجھ نہیں اٹھاؤگے جس دن گنہ گاروں کو سزا دی جائے گی۔


٤٦- اے عباس! مجھے ان بچوں کی طرف لے چلو، میں ان کی پریشانی دور کرنے کیلئے اپنا ہاتھ بڑھانا چاہتا ہوں۔


٤٧- کیا ہم ہر دن طرح طرح کے کھانے کھائیں، اور وہ بھوک سے بلبلاتے رہیں۔


٤٨- اور ہم ہمیشہ عمدہ محلات میں سیر کریں ، اور وہ اپنی جھونپڑیوں میں تڑپتے رہیں۔


٤٩- اور ہم مصیبتوں کی پرواہ کیے بغیر سو جائیں، اور وہ پریشانیوں کے شکار ہوتے رہیں۔


٥٠- ان کی پریشانی کو دیکھ کر میری نیند اڑ گئی ہے، اور مسلسل ایسا دردسر ہورہا ہے جو دور نہ ہوگا۔


٥١- مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ زمین ڈانواڈول ہو رہی ہے، اور قریب ہے کہ رات کا اندھیرا ہمیں نگل لے۔


٥٢- اے عباس! بچوں کے پاس لےچلو، تاکہ میں اپنی غلطیوں کو مٹاؤں اور کھلی عار کو دھو ڈالوں۔


۵۳- قسم بخدا ! مضبوط پہاڑوں کو اٹھانا اتنا دشوار نہیں ہے جتنا کمزوروں کی فریاد اٹھانا دشورا ہے۔


٥٤- ہم اطمینان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ لمبے میدان کا سفر طے کیا۔


٥٥- ہم نے خاردار درخت کے پاس اس حال میں پایا کہ وہ تو تھکان کی وجہ سے  آنکھیں بند کرچکی تھی۔


٥٦- اور بانڈی چولہے پر سوکھ چکی تھی، اور اس کا تلچھٹ گدلی مٹی میں تبدیل ہو چکا تھا۔



٥٧- آپ نے اس کو خالی کردیا اور کے اندر آٹا اور گھی بھردیا۔


٥٨- اور قریب تھا کہ ہانڈی کے نیچے کی آگ بجھ جاتی، تو آپ نے بقیہ آگ میں ٹہنیاں داخل کردیں۔


٥٩- آپ مسلسل لگے رہے، دھواں آپ کیلئے مانع نہیں ہو رہا تھا، جو دھواں آپ کی ناک اور آنکھوں میں جارہا تھا۔


٦٠- آپ ہلا کر اور جوش دے کر اس عمدہ طریقے سے پکا رہے تھے، گویا کہ تم کسی ماہر باورچی کو دیکھ رہے ہو۔


٦١- آپ نے پکایا جبکہ ہم آپ کے قریب ہی موجود تھے، آپ کے اصرار نے مدد طلب کرنے سے باز رکھا۔


٦٢- اور جلدی سے بھوک سے بد حال چھوٹے بچوں کو کھلایا، اس حال میں کہ ان کے چہرے پر بشاشت تھی۔


٦٣۔ وہ ایسے یتیم ہیں کہ کسی نے ان پر شفقت نہیں کی اور انہوں نے ان کے سوا کسی کو اپنا مشفق باپ نہیں جانا۔


٦٤- اور امیر المؤمنین بڑھیا کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ٹھہر جاؤ، ملامت کم کرو اور اطمینان رکھو۔ 


٦٥- عنقریب ہم آپ کی مصیبتوں کو امیرالمومنین کے سامنے پیش کریں گے، کیوں کہ ہم تخت خلافت سے منسلک ہیں۔


٦٦- وہ تمہارے غم بھوک اور بےخوابی کی طرف سے کفایت کریں گے، لہذا اب تم آرام سے سوجاؤ، اور صبح ہمارے پاس آؤ۔


٦٧- اور دوسرے دن حضرت عمر رض کے پاس حاضر ہوئی اورجب اسے یقین ہو گیا کہ وہ عمر رض کے سامنے ہے تو وہ خوفزدہ ہوئی۔


٦٨- کیونکہ وہ لعنت و ملامت کے تیر چلا چکی تھی، اور رات میں طعن وتشنیع کر چکی تھی۔


٦٩- ہائے! یہ کیسا نازک موقع ہے؟! اس نے شدت خوف کی وجہ سے یہ تمنا کی کہ یہ موقع ہی نہ آتا۔


٧٠۔ لیکن اس کو حضرت عمر رض کی نظرِ کرم کی حاصل ہوئی، جس نے اس کی گھبراہٹ اور غم کو دور کردیا۔

٧١- حضرت عمر رض نے معذرت کے بعد خوب عطیات سے نوازا، اوراس کی پریشان حال زندگی کو خوشحالی میں تبدیل کردیا۔


٧٢۔حضرت عمر رض کے پاس سے بڑھیا اس حال میں واپسی ہوئی کہ حضرت عمر رض کے عدل و انصاف، احسان، تقوی اور دینداری کو بیان کرنے لگی۔


٧٣۔ زمانۂ قدیم کے ایسے خلفاء، نیک بادشاہوں کے لئے مثال اور نمونہ ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت