مولانا محمد شریف مظاہری پٹنیؒ (کچھ یادیں کچھ باتیں)
از قلم: حضرت مولانا عبد القادر صاحب ندوی مظاہری دامت برکاتہم
(نائب مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
مولانا محمد شریف صاحب مظاہری پٹنیؒ سابق صدرمدرس جامعہ کنزالعلوم، خان جہاں مسجد،جمالپور احمدآباد ان کم عمر دنیا سے رحلت کرنے والے علماء ربانیین میں سےہیں جنکو اللہ کی طرف سے عمر تو بظاہر کم ملی، لیکن وقت کی قدر کی توفیق بہت ملی، جس کی برکت سے وہ اپنی کم عمری میں وہ سب کام کرگئے جو اکثر بڑی عمر والے بھی وقت کی قدر و قیمت نہ جاننے کی وجہ سے نہیں کرپاتے۔
مولانا محمد شریف صاحبؒ کی پیدائش ٥/مارچ سنہ ١٩٦٢ء مطابق ٩/شوال سنہ ١٣٨١ھ کی ہے، اور وفات مؤرخہ ١٣/ مئی ٢٠١٧ء مطابق ١٦/ شعبان سنہ١٤٣٨ھ کی ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو عمر صرف ٥٤/ سال کی ہوئی، اس قلیل مدت میں ایک خاص انداز سے سینکڑوں طلبہ کی ایسی تربیت کی کہ انمیں سے بڑی تعداد صرف صحیح قر آن مجید پڑھنے اور اردو لکھنا پڑھنا جاننے پر رک نہیں گئے، بلکہ حافظ عالم داعی اور مدرسینِ علوم دینیہ میں بھی امتیازی شان کے مقام پر پہنچے،جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد میں وہ صرف ایک مدرس ہی نہیں تھے بلکے بانئ جامعہ مولانا احمد حسین صاحب مظاہریؒ کے ساتھ شانہ بہ شانہ اس جامعہ کو ترقی دینے میں بھی شریک رہے، اور نمبر دو کے بانی بھی بن گئے، بلکہ عوام کے ساتھ رابطہ رکھنے میں تو وہ نمبر ایک پر پہنچ گئے۔
مولوی محمد شریف کا مولد پٹن کا محلہ کالی بازار ہے، جو ایک زمانہ تک شہر کا جاہل ترین علاقہ سمجھا جاتا تھا، جہاں آج درجنوں حفاظ علماء اور دین کے داعی آباد ہیں، شرک بدعت گالی گلوچ بےپردگی، لڑائی جھگڑا جہاں کی پہنچان تھی، آج وہاں ایک نرالی شان ہے،جو کچھ بدعات اور جاہلانہ رسمیں باقی بھی ہیں وہ ماند پڑ گئی ہیں، اور بہت کچھ کی اصلاح بھی ہوگئی۔
سنہ ١٩٥٨ءکی بات ہے کہ ہمارے بڑے ماموں مفتی محمد حاجی عبد اللہ قائم نے جب وہاں کنز مرغوب کی شاخ مکتب کا افتتاح کیا تو بڑے تعجب کے ساتھ مسرت کا اظہار کیا، کہ الحمدللہ کالی بازار میں بھی مکتب شروع ہوگیا، جبکہ وہ ایک کمرہ اور غیر عالم مدرس پر مشتمل تھا، جہاں کا طالب علم اردو لکھنا تو دور کی بات ہے، ناظرہ قرآن صحیح پڑھ بھی لے تو ہونہار طالب علم سمجھا جاتا تھا،
مولوی محمد شریف صاحب کے والد صاحب کا اسمِ گرامی رسول میاں تھا اور دادا کا نام صلاح الدین تھا، رسول میاں اپنے خاص مزاج کی وجہ سے پٹھان سے مشہور تھے اور یہی ان کی پہچان بن گئی، مولوی محمد شریف صاحب کا نانیہال ہمارے محلہ وانیاواڑ کے قریب کا محلہ منلاں واڑ تھا، بلکہ منلاں واڑ باہر کے نام سے جانا جاتا تھا، ان کے نانا چھوٹو میاں کے نام سے معروف تھے، عامل بھی تھے ان کے پاس لوگوں کی آمد ورفت بھی بہت تھی۔
لفظِ "منلاں" مخفف ہے، پورا لفظ "من لا یجہل" یعنی ہر چیز سے واقف اور اس سے علامہ اور ڈاکٹر کے ہم معنی مراد ہوتا تھا، ناموں میں اس طرح کی تبدیلیاں عوام کی جہالت کی وجہ سے بہت سی جگہ پر ملتی ہیں، چنانچہ "وٹوا" کسی زمانہ میں احمد آباد کا مضافاتی قصبہ جو اپنی علمیت وللہیت کی وجہ سے عالمگیر شہرت رکھتا تھا، جہاں شاہ------اور اسکے اہلِ خانہ اور اس دور کے اکابر امراء کےمزارات ہیں، اس میں داخلہ سے قبل ایک مقبرہ ہے، جسمیں چند قبریں ہیں، شاندار گنبد بھی ہے، اور اس سے متصل پتھروں سے بنی ہوئی شاندار مسجد بھی ہے جو علامہ کی مسجد کہلاتی ہے،عوام نے اسکا نام اللہ میاں کی مسجد رکھدیا، اور اسی سے اسکی شہرت بھی ہوگئی۔
الغرض عامل چھوٹومیاں صاحب کے تین صاحبزادے تھے، ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام حسین میاں اور تیسرے کا نام جمال میاں تھا، جمال میاں احمدآباد کم عمری میں چلے گئے، جہاں کپڑے کی ملوں کی وجہ سے کمائی کے بڑے مواقع اور چانس تھے، مگر تعلیم و تربیت کا ماحول ان کو میسر نہیں ہوا۔
اور محمد بھائی ان کے بڑے ماموں مفتی محمد صاحب کے پاس بیٹھتے اور علم حاصل کرتے، دن میں سرکاری ملازمت اور رات کو اس شبینہ مدرسہ سے مستفیض ہوتے، دونوں بھائیوں کی شادی میرے سامنے ہوئی، بڑے بھائی باقاعدہ گھوڑے پر سسرال پہنچے، تو محمد بھائی بالکل سادہ لباس میں، یہ ہوتا ہے تربیت کا اثر۔
محمد بھائی کی شادی جس محلہ میں ہوئی وہ ہمارا نانیہال تھا، جس خاندان میں شادی ہوئی مرحوم قمرالدین صاحب کی صاحبزادی ان کا نام سکینہ تھا، دونوں بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے نرینہ اور زنانہ دونوں طرح کی اولاد سے نوازا، محمد بھائی کی نرینہ اولاد میں ماسٹر محمد اقبال مقیم آنند ہیں، جو احمدآباد بلکہ گجرات کے دعوت وتبلیغ کے اہم ذمہ دار-مولانا عبد الغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ- جو دیگر بڑے ذمہ دار قاضی عبد الوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہم پلہ بلکہ علم کی وجہ سے ایک قدم آگے(جو احمدآباد میں قاضی صاحب باوا کے لفظ سے مشہور تھے) اور مولانا عبد الغنی صاحب "مولانا" کے نام سے معروف تھے، (محمد اقبال ان کے داماد ہیں) آج نہ وہ ہیں نہ یہ، بلکہ ان کے قریبی رفقاء کار اور معاون حضرات بھی نہیں رہے، لیکن دونوں حضرات کے اعمالِ جلیلہ کے آثار نمایاں، کہ آج کااحمدآباد، عوام میں دین وعلمِ دین کی بیداری نے گذشتہ دور کی دین وعلمِ دین سے بیزاری کی جگہ لے لی، اور جہالت کو علم سے بدل دیا، اللہ تعالیٰ ان حضرات کی کوششوں اور قربانیوں کو قبول فرمائے، اور یہ سلسلہ تادیر بلکہ قیامت تک چلتا رہے۔آمین
محمد بھائی تارماسٹر نے بعد میں پوری بخاری شریف مجھ سے سنی، جسمیں بارہا ماسٹر محمد اقبال پٹنی بھی شریک رہے، اس لیے میں ان کو ماسٹر اقبال کے بجائے مولوی اقبال کہتا ہوں۔
منلاواڑ میں سوداگر برادری کے ایک مخیّر صدیق سیٹھ تھے، انہیں کے مکان میں تعلیم ہوتی تھی، پھر رات میں شبینہ مدرسہ شروع ہوا، جسمیں جملہ مدرسین فی سبیل اللہ پڑھاتے تھے، جن میں بھائی احمد پٹوا، میاں احمد میاں بن نادر حسین پیرزادہ اور سید نثار احمد امتیازی شان رکھتے تھے، اس مدرسہ میں خود میں نے بھی پڑھا ہے، ایک زمانہ تک یہ مسجد تبلیغی مرکز تھی، اللہ تعالیٰ ان میں سے مرحومین کی مغفرت فرمائے، اور زندہ حضرات کو عافیت اور نیک توفیق کے ساتھ عمرِ دراز عطاء فرمائے۔ آمین
عبد القادر غفرلہ
رات ساڑھے تین بجے شب ٢/ فروری سنہ ٢٠٢٣ء
مہمان خانہ جامعہ کنزالعلوم، مسجد میاں خان جہاں، جمالپور احمدآباد

0 تبصرے