#سید_شیخ_بن_عبد_اللہ_عیدروس_حضرمی_گجراتی (حیات وخدمات)
از: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد
آپ کا نام سید شیخ اور آپ کے والد کا نام عبد اللہ بن شیخ عبد اللہ عیدروسی حسینی تھا،
آپ کی ولادت باسعادت ۹۱۹ھ مطابق ۱۵۸۲ء شہر "تریم" میں ہوئی، جو جزیرۃ العرب کے مشرقی علاقہ کا ایک مردم خیز خطہ ہے، جہاں سے بے شمار علماء دین مغربی اور جنوبی ہند اور خصوصا گجرات تشریف لا کر اس کو علوم دینیہ کی روشنی سے طویل عرصہ تک معمور رکھا۔
آپ کا تذکرہ کرتے ہوۓ ابوبکر شلی نے "المشرع الروی" میں لکھا ہے، شـيـخ بـن عبـدالـلـه شيـخ الـعـصـر حـالا وعلماً، وإمام الدهر حقيقة ورسماً، إن نظم أتى بـعـقـود الـجـواهـر فـي نـحـور الـحـور وإن نثر نثر الزهر المنثور في الروض الـمـمـطـور، أفـصـح اقرانه لساناً وقلماً، ولد سنة تسعة عشر وتسعمأة بمدينة تريم ونشأ بسوحها العظيم في اعظم نعیم ( المشرع الروی ۱۹٫۲)
آپ عید روسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں آپ کا وطن "حضرموت" میں تریم نامی علاقہ تھا ، آپ کے خاندان کو عید روسی کہنے کی وجہ یہ نقل کی جاتی ہے جیسا کہ ملفوظات ومناقب عید روسیہ میں مرقوم ہے کہ جب آپ کے جد امجد سید ابو بکر سکران بن عبد الرحمن سقاف کے گھر میں سید عبداللہ کی ولادت ہوئی تو انہوں نے فرمایا: ”اليـوم عـيــدروس" عید روس کے معنی صوفئ کبیر کے ہیں، اس وقت سے یہ خاندان عید روس کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ آپ کی خاندانی خصوصیات کا تذکرہ کر تے ہوۓ دکتور محمد حسن عید روس اپنی کتاب” تاریخ الجزیرۃ العربیۃ والحدیث المعاصر" میں رقم طراز ہیں: "عیدروسی خاندان یمن کے معروف وممتاز خاندان میں سے ہے، اس خاندان کے افراد مذہب شافعی سے منسلک ہیں، اس خاندان کے امتیازات میں صغر سنی میں قرآن کریم حفظ کر لینا، علوم اسلامیہ کی تدریسی خدمت انجام دینا، اعمال خیر میں سبقت اور تصوف سے وابستگی اور عربی اشعار کہنے کی قدرت ہے، آپ کا خاندان علوم اسلامیہ کی تاریخ میں بڑی شہرت رکھتا ہے، ہندوستان میں اس خاندان کی شاخیں احمد آباد، سورت، اور حیدرآباد (دکن) میں پروان چڑھیں جو سادات عید روسیه کہلاتی ہیں"، خاندان عیدروسیہ میں آپ ہی وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے ہندوستان کی جانب ہجرت کی، اور یہاں کی فضاء کو علم وفن سے معمور کیا۔
آپ کے نام "شیخ" کی توجیہ
صاحب"النور السافر" ص ٤٨٩ پر لکھتے ہیں کہ "آپ اسم بامسمی شیخ تھے، اور بعض صلحاء کے قول کے مطابق شیخ دوراں وعارف زمان تھے، گویا اللہ تعالی نے آپ کے افراد خاندان کو مستقبل کا الہام کیا تھا، اس لئے لوگوں نے آپ کا نام "شیخ" تجویز فرمایا، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آپ کے گھرانے والوں نے آپ کی صفات حمیدہ کے ظہور پانے سے قبل ہی"محمد" رکھ دیا تھا آپ کا نام "شیخ" چار حیثیتوں سے درست قرار پاتا ہے، ایک یہ کہ اسم ذاتی ہے، دوم یہ کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہونچے، سوم یہ کہ آپ اپنے زمانے کے اہل تصوف کے شیخ تھے، چہارم یہ کہ علوم ظاہری میں بھی آپ طلبہ کے شیخ تھے (النورالسافر یص ۔۴۸۹)
تعلیم وتربیت
آپ نے اپنے خاندانی رواج کے مطابق صغر سنی ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا، آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ عبداللہ عید روسی اور امام شہاب الدین بن عبدالرحمن اور عبداللہ بن محمد باقشیر وغیرہ سے حاصل کی، اس کے بعد آپ نے یمن کا رخ کیا، اور شیخ محمد بن عمر باقضام وغیرہ سے علم حاصل کیا، پھر آپ نے اپنے پہلے سفر حجاز میں حج سے فراغت کے بعد شیخ ابوالحسن البکری سے استفادہ کیا، کچھ ہی عرصہ بعد اپنے والد کی حیات ہی میں ٩٤١ھ میں جب دوبارہ حجاز کا سفر کیا تو حصول تعلیم و عبادت الہی کی غرض سے تین سال مقیم رہ کر شیخ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی مکی، علامہ عبداللہ بن احمد فاکہی، علامہ عبدالقادر بن احمد فاکہی، علامہ عبدالرؤوف بن یحیی، علامہ محمد خطاب مالکی جیسے جلیل القدر عظیم المرتبت علماء ربانیین سے فیض حاصل کیا۔
اور تفسیر،حدیث،فقہ،لغت،حساب وفرائض ممتاز و ماہر بن کر آۓ، تاہم ابھی تک علم کی پیاس بجھی نہ تھی، لہذا تحصیل علم کی خاطر آپ نے "زبید" کی راہ اختیار کی، اور علامہ عبدالرحمن بن دیبع شیبانی سے اکتساب فیض کیا، آپ کو تمام اساتذہ کی جانب سے اجازت حدیث اور خرقۂ خلافت حاصل ہوا۔ (نزھۃ الخواطر١٢٨/٤)
گجرات کی جانب رحلت اور علمی ودینی خدمات
جب آپ ظاہری و باطنی علوم سے بہرہ ور ہوگئے تو اپنے وطن"تریم" واپس لوٹ آۓ، ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا کہ ٩٤٤ھ میں آپ کے والد کی وفات ہوگئی، آپ کے والد نہایت عقلمند، خوش خلق، شریف الأوصاف اور عوام وخواص میں یکساں مقبول تھے، علاقۂ یمن میں آپ کا بڑارتبہ تھا، آپ نے اپنے والد کی وفات کے چند سال بعد ۹۵۸ ھ مطابق ۱۵۵۱ء میں ہندوستان کی جانب ہجرت کی، جب آپ شہر احمد آباد آئے تو احمدآباد کے سلطان محمود بن لطیف خاں نے آپ کا پر تپاک استقبال کیا، اور آپ کا معتقد ہوگیا، آپ نے گجرات میں قیام کے دوران تدریسی خدمات انجام دی، اور ایک خلق کثیر نے آپ کے درس سے استفادہ کیا، شہراحمد آباد میں آپ کا حلقۂ درس بڑا مقبول تھا۔ ”حقیقت السورت" ص ۸۹ پر لکھا ہے کہ آپ ۹۵۸ھ میں احمد آبادتشریف لاۓ اور ۹٦۰ھ میں آپ کے بڑے فرزند سید عبداللہ نے ہندوستان آکر آپ سے خرقۂ خلافت حاصل کیا اور تریم واپس لوٹ گئے۔
علامہ کے اشعار
علامہ اپنے دور کے اچھے شعراء میں تھے، چنانچہ مصنف "المشرع الروی"( ۱۲۱/۲) پر لکھتے ہیں: "وله ديوان شـعـر نـفـث فيه السحر الحلال بكلامه، وأكثر القول في فـنـون الـمـقـاصـد، وقـرب الـمـقصودللقاصد، ولطف معناه فحفظه الفضلاء و الأديبون وحسن لفظه فاستجـاده السامعون" یعنی آپ کا شعری دیوان ہے، آپ نے شعری کلام میں جادو بھر دیا ہے، اور آپ کے اشعار کے معانی لطیف ہیں، لہذا آپ کے اشعار فضلاء وادباء نے یاد کئے اور سامعین نے بھی خوب پسند کیے۔
آپ نے اپنے نسب کی بلندی بیان کرتے ہوۓ کہا ہے۔
لنا بالرسول المصطفى خير نسبة
مسلسلة تعلو على كل رتبة
أئمة علم الله جو هر سره
زواهر حلم قدوة للطريقة
شموس تجلت والبدور طوالع
نجوم لنا بالسّعد منه استمدّت
شموس بدت في عالم الغيب
بدور أضت أبدال أوتاد صفوة
(النورالسافر:٤٩٣)
حضرت سید شیخ بن عبداللہ نے ٩٧١ھ میں سورت میں مسجد عیدروس کی بنیاد رکھی، رسالۂ ملفوظات عید روسیہ میں لکھا ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نشان دہی کے مطابق اس
مسجد کی بنیا درکھی گئی تھی،
سنہ ۹۸۹ھ میں حضرت شیخ کے پوتے سید محمد بن عبد اللہ بن شیخ العیدروس اپنے دادا کے اشارے پر تریم سے کھمبایت کے راستے احمد آباد تشریف لاۓ، حضرت سید شیخ نے اپنے پوتے کی آمد پر تہنیت کے طور پر قصیدہ کہا ہے وہ حسب ذیل ہے،
ألا يا مرحباً بالعيدروس
جمال الدين محي للنفوس
محمد بن عبدالله جئتم
إلينا مرحباً شمس الشموس
(النور السافر ۔٤٨٧)
سید شیخ کی مدح میں عبدالمعطی بن حسن با کثیر کے اشعار
ما نلت يابن العيدروس ولاية
ومواهباً في رتبة السلطـــان
إلا بلـطـف عـنـايـة وعــبادة ومجاهدات في رضا الرحمن
ليس المعالي بالتّماني يا فتى
لو لا المشقة شاهدي وكفاني
سید شیخ کی مدح میں ادیب عبداللطیف دبیر کے اشعار
شيخ الأنام مفيد كل محقق
بحر العلوم العارف الرباني
إبن العفيف أبو الشهاب المجتبى
قطب الزمان العيدروس الثاني
شرف السيادة والزهادة والتقى
فخر الحماة الغر من عدنان
هو كالسفينة من تولاه نجا
وسواه لم يأمن من الطوفان
شیخ بن عبد اللہ عیدروسی کی تالیفات
شیخ بن عبداللہ عید روسی نے توحید، رسالت، عقائد، تصوف، اور اوراد و وظائف، عربی اشعار وغیرہ مختلف علوم وفنون پر طبع آزمائی کی ہے، لیکن آپ کی اکثر تالیفات حوادث زمانہ کی نذر ہوچکی ہیں۔
آپ کی تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:
١- "العقد النبي والسر المصطفوى" یہ "أبيات الوسيلة" کی شرح ہے
٢. تحفة المريد
٣- "حقائق التوحید“ یہ "تحفۃ المرید" کی مطول شرح ہے
٤- "سراج التوحید" یہ تحفۃ المرید کی مختصر شرح ہے
ه- "مولِدان في السيرة النبوية" ایک مختصر اور ایک مطول ہے۔
٦- رسالة في المعراج
٧-الحزب النفيس
٨- نفحات الحكم على لامية العجم
٩- رسالۃ فی العدل
١٠- دیوان الشعر
١١- "الفوز والبشری" یہ کتاب آپ نے ٩٨٣ھ میں "الـعـقـيـدۃ الزهری" کی شرح کرتے ہوئے لکھی ہے، یہ کتاب عقائد کے فن میں بلند پایہ حیثیت رکھتی ہے،اس کتاب کے متعلق مشائخ علماء کا خیال ہے کہ ہم نے اعتقادات کے باب میں بہت سی کتابیں دیکھی ہیں لیکن یہ کتاب امام غزالی و یافعی کی کتابوں سے زیادہ تشفی بخش ہے۔( النور السافر:٤٦٩۔ نزھۃ الخواطر ١٣٢/٤ معجم المؤلفین۸۲۲/۱ )
وفات: آپ کی وفات ۲۵/رمضان المبارک ۹۹۰ھ مطابق ١٤/اکتوبر ۱۵۸۲ء میں احمدآباد میں ہوئی، عبداللہ بن احمد فلاح حضرمی نے آپ کی یہ منظوم تاریخِ وفات نکالی ہے۔
أرّخت نقَلة سيدى
شمس الشموش العيدروس
فانظر تجد تاريخه
القطب هو شمس الشموس
اس سانحۂ ارتحال پر بہت سے علماء و فضلاء نے رنج وغم کا اظہار کیا، عجیب اتفاق ہے کہ آپ نے وفات سے دوماہ قبل مناقب امام نووی منگوائی اور اس کو اپنے سامنے پڑھوایا، اس رسالہ میں مؤلف نے امام نووی کی وفات پر لکھے گئے مرثیے بھی شامل کر دیے ہیں، آپ نے فرمایا کہ یہ مرثیے پڑھے جانے کے بعد ضرور کوئی مرے گا، چنانچہ اس کے بعد آپ ہی نے انتقال فرمایا اور اس سانحہ پر اتنے مراثی لکھے گئے جتنے کہ مناقب امام نووی میں تھے ۔(النورالسافرص ۔٤٨٨)
مدفن : آپ کی تدفین گھر کے صحن میں ہوئی جہاں آپ کے بیٹے شیخ محی الدین عبد القادر نے ۹۹۹ھ مطابق ۱۵۹۰ء میں شاندار گنبد والا مقبرہ تعمیر کیا، اسے بڑے عید روس کا مقبرہ کہا جا تا ہے، آپ کا مزاراحمدآباد میں تلک مارگ (ریلیف روڈ) پر جوہری واڑ (جھویری واڑ) میں واقع ہے.(گجرات کے علما وحدیث وتفسیرص: ٦۷)



0 تبصرے