تذکرہ دو رفیقوں کا (ایک مطالعہ)

تذکرہ دو رفیقوں کا

(ایک مطالعہ)


مولانا سعد چشتی ندوی

جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد



یہ کتاب ہمارے رفیقِ خاص محمد مظاہری ندوی کی پہلی تالیف ہے،جو ١١٢ صفحات پر مشتمل ہے،


 خوبصورت ٹائٹل اور عمدہ طباعت سے آراستہ یہ کتاب استاذِ محترم مولانا احمد حسین صاحب مظاہری اور استاذِ محترم مولانا محمد شریف صاحب مظاہری رحمۃ اللہ علیہما کی سوانح حیات، خدمات اور وفات کے وقت لکھے گئے مختلف تأثراتی مضامین کو جمع کرتی ہے۔


کتاب کی جمع و ترتیب کے سارے مراحل ہماری آنکھوں کے سامنے ہوئے ہیں جس کی وجہ یہ کہنے میں ہمیں کوئی باک نہیں ہے کہ صاحبِ کتاب نے بڑی عرق ریزی اور صبر و تحمل سے ساری معلومات جمع کی ہے، جس ناحیہ پر قلم اٹھایا پہلے اس ناحیہ کے اشخاص، اور دونوں شخصیات کے ساتھیوں سے رابطہ کیا، ان لوگوں سے معلومات جمع کیں، اور پھر اسے ترتیب دیا، یہی وجہ رہی کہ کتاب کو منظرِعام پر آنے میں تھوڑی تاخیر ہوئی۔


  اب سے پہلے ہمیں یہ گمان تھا کہ جمع و ترتیب آسان کام ہے، لیکن آنجناب کی کوششوں کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ یہ اتنا بھی آسان نہیں .....خدا خدا کر کے سارا مواد جمع ہوا تو پھر اسے ترتیب دینا مستقل ایک الگ کام .... ہر ایک کو اسکے مرتبہ کے حساب سے اپنا مقام دینا..... لیکن مؤلف کا کمال ہیکہ وہ اس میں بھی کامیاب رہے۔


کتاب میں سب سے پہلے حضرت مولانا رابع صاحب حسنی ندوی دامت برکاتہم العالیہ کے دعائیہ کلمات ہیں (جو کہ مولانا احمد حسین صاحب مظاہری کے پیر ومرشد ہیں) یہ چند کلمات اس کتاب کی وقعت و قیمت کو بڑھا دیتے ہیں.

     اس کے بعد مولانا احمد حسین صاحب مظاہری کے برادر صغیر اور جامعہ کنز العلوم کے مہتمم مولانا صدیق صاحب ندوی کا مقدمہ ہے، جس میں سب سے پہلے تو اپنے بھائی کے لئے دلی جذبات کی کیفیت میں ڈوبے ہوئے اور بڑے پر اثر انداز میں لکھے ہوئے کلمات ہیں، جس سے آپ کا اپنے بھائی سے والہانہ تعلق کا پتہ چلتا ہے اور جب دو بھائیوں کے درمیان مراسلت کا مقام آتا ہے اس وقت قاری بھی اثر میں ڈوب کر مغموم ہو جاتا ہے بعد ازیں مقدمہ نگار نے حضرت مولانا محمد شریف صاحب مظاہری کے صفات و کمالات اور دونوں کے ما بین تعلقات کے احوال کو بیان کیا ہے۔


اسکے بعد مولانا عبد القادر صاحب ندوی (نائب مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) اور حضرت مفتی یحیی صاحب (استاذِ حدیث جامعہ الفضل، جوہاپورا) کی تقریظات ہیں، اسکے بعد مؤلف کے پیش لفظ ہیں 


تقدیم و تقریظ اور پیش لفظ کے بعد صاحبِ کتاب نے دونوں رفیقوں میں سے مولانا احمد حسین صاحب کی سیرت و سوانح کو مقدم رکھا ہے جوکہ انکا حق ہے، جس میں سب سے پہلے آپ کی حیاتِ مستعار کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے، اس کے بعد مختلف میدانوں میں آپ کی مختلف خدمات پر روشنی ڈالی ہے اور کسی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے، خواہ مفتاح العلوم مکھات واڑہ پٹن ، جامعہ کنز العلوم احمد آباد ، یا جامعۃ الایمان ویرم گام جیسے اداروں کا قیام ہو ، جامعہ ابن عباس کا دور اہتمام ہو یا خانجہاں مسجد کے مکتب کا قیام ہو ، تدریسی خدمات ہوں ، دعوت و تبلیغ کا میدان ہو ، یا شہر احمدآباد کی محتلف تنظیمیں جیسے کہ تنظیم علماءِ احمدآباد یا تحفظ سنت احمد آباد یا پھر دار القضاء احمدآباد یا جمالپور کی اصلاحِ معاشرہ کیمٹی کی خدمات ہوں، ہر گوشہ پر روشنی ڈالی ہے.


 اسکے بعد آپ کی وفات حسرتِ آیات پر شائع ہونے والے مختلف تأثراتی مضامین ہیں، جن میں مولانا یاسین صاحب مظاہری (مہتمم جامعہ نذیریہ کاکوسی) قاری عبد الستار صاحب (شیخ الحدیث و صدر القراء امداد العلوم وڈالی) مولانا جنید صاحب ندوی (مہتمم جامعہ ابو الحسن کھڑیاسنہ) قابلِ ذکر ہیں، مولانا احمد حسین صاحب مظاہری کی سوانح حیات و خدمات اور تأثرات ٨٢/ صفحات پر مشتمل ہیں۔


اسکے بعد مؤلف کے والد اور مولانا احمد حسین صاحب مظاہری کے رفیقِ خاص مولانا محمد شریف صاحب مظاہری کی سوانح حیات کو بیان کیا ہے اور چونکہ خود بیٹا والد کے احوال بیان کر رہا ہے تو تحریر میں ایک بیٹے کے اپنے والد کے تئیں جذبات مکمل طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں پھر اسکے بعد آپ کی دینی خدمات کا باب ہے جیس کے ذیلی عناوین کچھ اس طرح ہیں : جامعہ کنز العلوم اور جامعۃ الایمان ویرمگام کے قیام میں آپ کی خدمات، جامعہ ابنِ عباس سرخیز کی ترقی میں آپ کا کردار، جامعہ دار السلام، پٹن کا قیام ،مکاتِب کی نگرانی ،دعوت و تبلیغ، اور تدریسی خدمات اور اسکے علاوہ دیگر مصروفیات


 اسکے بعد آپ کی وفات پر شائع ہونے والے تأثراتی مضامین ہیں، جس میں مولانا جنید صاحب ندوی، مولانا عمران صاحب پٹنی(مہتمم مدرسہ اسلامیہ کنز مرغوب ،پٹن) مولانا صلاح الدین صاحب مظاہری،(صدر مدرس جامعۃ الایمان ویرم گام ) اور فدوی کے مضامین قابل ذکر ہیں۔ 


مجموعی اعتبار سے کتاب دونوں شخصیات کی زندگی کے تمام تر گوشوں پر محیط ہے، یہ کتاب دونوں بزرگوں کے شاگرد اور وابستگی رکھنے والوں کے لئے قیمتی سرمایہ ہے، کتاب پڑھتے وقت جاننے والوں کے لئے انکی تصویر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ 


مضامین میں نہ طوالت ہے کہ اکتاہٹ پیدا ہو .... نہ اختصار ہیکہ تشنگی باقی رہے، کتابت و طباعت عمدہ ہے، پروف ریڈنگ کی غلطیاں نہ کہ برابر ہے۔ اس کتاب کو مولانا شریف صاحب مظاہری ہی کے قائم کردہ ادارہ جامعہ دارالسلام پٹن نے شائع کیا ہے اور مؤلف خود ہی فی الوقت اس ادارے کے اہتمام‌کے فرائض انجام دے رہے ہیں


اخیر میں ہم مؤلف کو انکی پہلی کاوش پر مبارک باد دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ انکی خدمات کو قبول فرمائے، اور بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت