سہارنپور کا یادگار سفر
از: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنزالعلوم جمالپور احمدآباد
مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے شعبۂ تخصص فی الحدیث کے قیام کے 25/ سال مکمل ہونے پر شعبۂ ہذا کے فارغین کو اربابِ مدرسہ نے مادر علمی میں مدعو کیا تھا، تاکہ ادارے کو یہ معلوم ہو کہ اس شعبہ سے تعلیم حاصل کرکے متخصصین کی علمی وتحقیقی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ نیز متخصصین کو تحقیق اور علمی وابستگی برقرار رکھنے کی ترغیب دی جائے، اسی طرح اگر متخصصین کو علمی وتحقیقی امور میں کوئی پریشانی ہے، کوئی الجھن ہے، تو اساتذہ سے سے اس کی رہنمائی حاصل کرلیں۔
اس عظیم اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے لیے 17/ فروری سنہ ٢٠٢٣ء مطابق ٢٥/رجب سنہ ١٤٤٤ھ بروز جمعہ احمدآباد سے سے بذریعے "یوگا ایکسپریس" سفر کیا، اس سفر میں تخصص فی الحدیث کے تین رفقاء مولانا معاذ کالیڑوی(استاذ: مدرسہ خلیلیہ ماہی) مولانا عبادہ ایلولوی (استاذ: مدرسہ شیخ المدارس، داحود،گجرات) مولانا ریاست اللہ ( استاذ: مدرسہ دینیات، احمدآباد) ہمراہ تھے، چاروں رفقاء کی ملاقات ایک طویل عرصے کے بعد ہورہی تھی، اس بناء پر ہر ساتھی اپنے ساتھی سے ملاقات کا مشتاق تھا، لہذا جب سفر شروع ہوا ہوا تو ہر ایک نے خوب جی بھر کر کر ایک دوسرے سے گفتگو کی، پرانی یادیں تازہ کیں،ایک دوسرے کی مصروفیات و خدمات کی معلومات دریافت کیں، باتوں باتوں میں یہ سفر کب مکمل ہوگیا، پتہ ہی نہیں چلا، ١٨/ فروری سنہ ٢٠٢٣ء بروز سنیچر صبح نو بجے دیوبند اسٹیشن پہونچ گئے، مظاہر علوم کے اجلاس اتوار کے روز تھا، اس لیے دیوبند رکنا مناسب معلوم ہوا، پورا دن دیوبند ٹھہر کر رات سہارنپور پہونچ گئے، صبح فجر کی نماز قاری صلاح الدین صاحب( استاذ تجوید و قرآت، مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور) کی امامت میں ادا کی، بعدہ حضرت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ کی خانقاہ میں حاضری دی، اور اللہ اللہ کی ضربیں لگاکر دل کی انگیٹھی کو خدا تعالیٰ کی یاد سے گرم کیا، واضح رہے کہ ابھی یہ خانقاہ مولانا سلمان صاحب مظاہریؒ کے فرزند مولانا محمد عثمان صاحب نے آباد کررکھی ہے۔اور پھر ناشتہ سے فراغت کے بعد احاطہ دارِ جدید میں اجلاس کے نظم و نسق کے لئے ایک اسٹال لگا ہوا تھا وہاں اپنا نام درج کرایا، اندراج کے ساتھ ہی کتابوں سے بھرا ہوا ایک تھیلا ہدیۃ عنایت ہوا، جس میں بہت سی قیمتی کتابوں کے ساتھ "القویم فی أحادیث النبی الکریمﷺ" اور "متخصصین مدرسہ مظاہر علوم" جس فضلاء تخصص فی الحدیث کے حالات وخدمات کا تذکرہ ہے، موصول ہوئیں۔
صبح نو بجے متخصصین حدیث کے اجلاس کا آغاز ہوا، اجلاس کی کل تین نشستیں ہوئیں، پورے اجلاس کی سر پرستی ادارہ کے ناظم اور شیخ الحدیث مولانا سیدمحمد عاقل نے کی جبکہ نظامت مجلس شوری کے اہم رکن مولانا مفتی معصوم ثاقب رائے چوٹی نے انجام دی۔ پہلی نشست کی صدارت کے فرائض دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین اور جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمد ارشد مدنی صاحب نے انجام دیے، اور مہمان خصوصی صدر مجلس شوری حضرت حکیم کلیم اللہ علی گڑھی کے صاحبزادہ مولانا سلیم الحق انس تھے، پہلی نشست کا آغاز مظاہر علوم کے استاذ تجوید و قرآت مولانا قاری صلاح الدین کی تلاوت کلام پاک اور مولوی محمد عامر متعلم مدرسہ کی نعت پاک سے ہوا ۔ بعدہ شعبۂ تخصص کے استاذ مولانا محمد اسرار سہارنپوری نے شعبۂ تخصص حدیث، امتیاز و خصوصیات عنوان سے اس شعبہ کی 25 سالہ خدمات اور طریقہ افادہ پر روشنی ڈالی، شعبہ کے متعلم مولوی محمد حذیفہ سہارنپوری، مولوی عبداللہ سہارنپوری نے بخاری شریف کی سند مسلسل اور أصح الأسانید حفظاً سنائیں۔ اس موقع پر صدر اجلاس مولانا سید محمد ارشد مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اسلام کی اصل بنیاد قرآن کریم کے ساتھ الفاظ قرآن کی تشریحات (احادیث شریفہ ) ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف قرآن کے الفاظ سے مسائل کا حل نکالنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ انہوں نے بطور مثال مسئلہ حجاب کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس مسئلہ میں جو کچھ پیچیدگی پیش آئی وہ صرف اس وجہ سے اسے صرف قرآن کریم سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ احادیث اور الفاظ قرآنی کی تشریح و توضیح جو صحابہ اور مفسرین سے ثابت ہے اسے نظر انداز کیا گیا۔ مولانا مدنی نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ احادیث رسول کو سمجھنا اور علوم حدیث کے فن کو زندہ رکھنا امت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں مظاہر علوم کو اولیت حاصل ہے۔اس کے بعد مدرسہ مظاہر علوم کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید محمد شاہد حسنی نے خطبۂ استقبالیہ میں پورے ملک سے تشریف لائے فضلاء مظاہر علوم کا شکریہ ادا کیا۔
اور کہا کہ دنیا بھر کے موجودہ حالات علمی زبوں حالی اور دینی بنیادوں میں پیدا ہونے والے اضمحلال نے ہمیشہ سے زیادہ قائدین ملت اسلامیہ کو مردم سازی اور افراد سازی کی اہمیت کی طرف لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ چنانچہ اب اس کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر علوم اسلامیہ کے ادارے اور جامعات مختلف میدانوں کے لئے رجال کار تیار نہیں کریں گے تو علمی اور تہذیبی میدانوں میں ایسا زبردست خلا پیدا ہوگا جس کی بھر پائی اور نقصان کی تلافی بہت مشکل ہوجائیگی، اس کے بعد منتخب متخصصین حدیث نے "میری علمی وتحقیقی زندگی پر شعبۂ تخصص کے اثرات" عنوان کے تحت اپنے تأثرات کا اظہار کیا، جن سے اس شعبہ کے کام کی نوعیت اور یہاں کے اساتذہ وفضلاء کے کام کرنے کا انداز کھل کر سامنے آیا، دریں اثناء مولانا سید محمد شاہد حسنی صاحب کی مرتب کردہ کتاب، "حدیث اور اس کے متخصصین" (اردو) اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب نوراللہ مرقدہ کی کتاب کا تعریب شدہ نسخۂ"الاختلاف بین الائمہ(عربی) کا اجراء علمائے کرام کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
دوسری نشست بعد ظہر تین بجے ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث مولانا عتیق صاحب بستوی دامت برکاتہم کی صدارت میں شروع ہوئی، مہمان خصوصی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی تھے، مجلس کا آغاز مظاہر علوم کے استاذ مولانا قاری محمد عمار کی تلاوت سے ہوا، اس موقع پر مظاہر علوم کی مرکزی لائبریری میں موجود نادر و نایاب مخطوطات کے تعارف پر مشتمل "تعارف مخطوطات" کی جلد اول کا تعارف مولانا محمد اطہر متخصص حدیث نے پیش کیا اور اس کتاب کا اجرا کیا گیا۔ بعدہ مہمان خصوصی مہتمم دار العلوم دیو بند مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مظاہر علوم کی تاریخ کا زریں دن ہے، حدیث شریف کی نسبت پر شکر گزاری اور تعارف اور شعبہ تخصص کی خدمات کو بار آور کرنے کے لئے یہ مجلس منعقد ہورہی ہے، مولانا نعمانی نے کہا کہ خدمات حدیث کے تعلق سے اولیت کا سہرا مظاہر علوم کے سر ہے، متخصصین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی فن کو زندہ رکھنے کے لئے اس کی مشق اور اس کی تمرین انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ علوم حدیث کے فن کو زندہ رکھنے میں مظاہر علوم بڑا کرادار رہا ہے، موجودہ دور میں تخصص حدیث کی اہمیت و ضرورت پر ندوۃ العلماء کے استاذ فقہ اور صدر مجلس مولانا عتیق احمد صاحب بستوی نے پر مغز خطاب کیا۔
تیسری نشست بعد مغرب مظاہر علوم کے ناظم اعلی مولانا سید محمد عاقل کی صدارت میں دارالحدیث میں منعقد ہوئی، مہمان خصوصی دار العلوم دیوبند کے شعبۂ تخصص فی الحدیث کے استاذ مولانا مفتی عبداللہ معروفی رہے۔ مولانا سید محمد عاقل نے تمام حاضرین کو اپنی سند سے اجازت حدیث بھی دی، یہ مجلس صرف متخصصینِ حدیث کے لئے مخصوص تھی، علماء کرام نے اپنے اپنے علاقوں میں دورانِ تدریس پیش آمدہ مسائل و مشکلات بیان کئے، اور داعئ اجلاس مولانا سید محمد شاہد حسنی اور مہمانِ خصوصی مولانا عبد اللہ معروفی صاحب نے ان سوالات کے اطمینان بخش جوابات دیے۔ اس موقع سے مولانا فیصل ندوی بھٹکلی نے بھی اپنے تأثرات بیان کئے، اور آخر میں رکنِ شوری مظاہر علوم سہارنپور مولانا مفتی سبیل احمد کے وعظ اور دعا پر اس اجلاس کا اختتام ہوا۔ اپنی نوعیت کے اس تاریخ ساز اجلاس کو کامیاب بنانے میں مولانا حفظ الرحمن ،نائب ناظم مولانا مفتی محمد صالح حسنی، مولانا محمد معاذ کاندھلوی، مولانا عبد اللہ خالد قاسمی خیر آبادی، مولانا محمد مجد مفتی شعیب، مولانا جمیل احمد، احمد قاری محمد اسلم ، قاری احمد ہاشمی ، قاری محمد معاذ ، قاری مسعود احمد، مفتی محمد جاوید، مولانا جابر میواتی، مولانا اسعد حقانی وغیرہ پیش پیش رہے۔
اجلاس کی رپورٹ شاہد زبیری صاحب کے مضمون سے اخذ کی ہے۔
اجلاس کے متعلق تأثرات:
اجلاس متخصصین حدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور منعقده ۲۷/ رجب ١٤٤٤ھ مطابق ١٩/ فروری بروز یکشنبہ الحمد للہ اپنے مقاصد میں بے حد کامیاب اور مفید تھا۔
اس اجلاس کے باعث متخصصین کو اپنے مادر علمی کی زیارت اور اساتذہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، نیز متخصصین کو ایک طویل عرصہ کے بعد باہم ملاقات کا موقع میسر ہوا، نیز جميع متخصصین کا ایک دوسرے سے تعارف ہوا، اسی طرح شعبہ کے کام کی کارگزاری معلوم ہوئی، اور فن حدیث شریف کے مطالعہ اور تحقیقی کام کرنے کے جذبات بیدار ہوئے، اور استاذ الاساتذہ حضرت مولانا سید محمد عاقل صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی جانب سے ان کی اسانید سے حدیث شریف کی اجازت حاصل ہوئی،نیز فضلاء مظاہر کو ایک دو دن مادر علمی کی پرنور فضاؤں میں رہ کر علمی و روحانی ماحول میسر ہوا، اور سب سے بڑھ کر قیمتی اور بیش بہا علمی تحفے کتابوں کی شکل میں حاصل ہوئے۔
ان سب کے لئے ہم مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کی انتظامیہ واساتذہ کی خدمت میں خصوصا حضرت مولانا سید محمد شاہد صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں ہدیۂ تشکر پیش کرتے ہیں کہ آپ نے ہم ابناء جامعہ کی ضیافت کا مکمل حق ادا کر دیا، اور ہمیں کسی طرح کی کوئی تکلیف پیش آنے نہیں دی، بلکہ آمد و رفت جتنی قیمت ہدیۃ عنایت فرماکر ضیافت کے حقوق سے بھی مزید احسان کیا، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو دارین میں بہترین بدلہ عنایت فرمائے، اور مدرسہ کو دن دونی رات چوگنی ترقیات سے نوازے۔ آمین
اجلاس کے اختتام کے بعد کھانا کھایا، اور پھر اساتذہ سے ملاقات کا پروگرام تھا، مولانا یوسف صاحب سورتی دامت برکاتہم( استاذ شعبۂ تخصص فی الحدیث) سے ملاقات تو عصر بعد ہی کرلی تھی، مولانا اپنی فیملی کے ساتھ مدرسہ سے کچھ فاصلہ پر رہتے ہیں، مولانا نے عگرم جوشی سے استقبال کیا، علیک سلیک کے بعد ہم ساتھیوں سے حال احوال معلوم کیے، اور پھر بتلایا کہ ابھی انہوں نے قریب کی مسجد میں تحفیظ القرآن کے دو کلاس شروع کیے ہیں، اور آئندہ مکتب کا منظم نظام شروع کرنا چاہتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ سہارنپور میں مکاتب کا کماحقہ انتظام نہیں ہے، اور اداروں میں تو قرآن کریم تجوید کی رعایت کے ساتھ سکھایا جاتا ہے، مگر مکاتب میں ایسا نہیں ہے، آپ نے اپنے اس بچے کا قرآن بھی ہم نے سنوایا جو اس درجۂ حفظ میں تعلیم حاصل کررہا تھا، ماشاءاللہ! آپ کے صاحبزادے نے قواعد تجوید کی رعایت کرتے ہوئے قرآن سنایا،
بہر حال! بعد العشاء اولا مولانا خالد سعید صاحب مبارک پوری دامت برکاتہم سے ملاقات کے لئے ان کے دولت کدہ جانا ہوا، مولانا سے ہم نے ان کے احوال معلوم کیے، مولانا نے بھی ہم سے مصروفیات معلوم کیں، مولانا بڑے خوش مزاج اور سادگی اختیار کرنے والے جید عالم دین ہیں، طلبہ مولانا کی تعلیم سے طلبہ خوب مطمئن رہتے ہیں، بعدہ استاذ محترم حضرت مولانا عبد العظیم صاحب بلیاوی فرزند حضرت مولانا عبیداللہ صاحب بلیاویؒ سے شعبۂ تخصص کے حجرے میں ملاقات ہوئی، جو اب زکریا منزل میں واقع ہے، مولانا نے اپنی کتاب "الملخص فی أصول الحدیث" اور اس کا ترجمہ "خلاصۂ اصول حدیث" ہدیۃ عنایت فرمائیں، اور فن حدیث شریف کا تحقیقی مطالعہ رکھنے کی نصیحت کی،
۲۰/ فروری سنہ۲۰۲۳ء بروز پیر کو اولا حضرت مولانا شاہد صاحب دامت برکاتہم(سکریٹری مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور) کے قائم کردہ مدرسۃ الشیخ کی زیارت کی، جو مظاہر علوم سے کچھ ہی فاصلہ پر واقع ہے، ماشااللہ! وسیع اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور ابتدائی تعلیم کا قیام و طعام کے ساتھ نظم ہے۔
اس کے بعد حاجی شاہ نامی قبرستان میں جانا ہوا، یہاں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی نور اللہ مرقدہ، آپ کے فروند پیر طلحہ صاحبؒ، سابق ناظم مظاہر علوم حضرت مولانا اسعد الله صاحب نوراللہ مرقدہ کی قبور پر فاتحہ خوانی کی اور ایصال ثواب کیا،
بعدہ سہارنپور کے لکڑی بازار جانا ہوا، واضح رہے کہ لکڑی کی صنعت میں سہارنپور ملک بھر میں مشہور ہے ، یہاں لکڑی سے ہر قسم کے برتن، کھلونے، کرسیاں صوفے، ممبر، کھڑکیاں اور دروازے بھی نقاشی کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں، ہم نے بھی شاہ جی بھائی کی دکان سے گھر کے لیے ضروری سامان، بچوں کے کھلونے، وغیرہ خریدے، شاہ جی بھائی نے مولانا یوسف کی نسبت سے خوب اکرام کا معاملہ کیا، اور مناسب قیمتوں پر ہمیں سامان مہیا کیا،وہاں سے واپسی ظہر کی نماز ادا کی، اور "جَنَک ہوٹل" 🏨 جس میں ہم زمانۂ طالب علمی میں کھانے کیلئے جایا کرتے تھے یادیں تازہ کرنے کیلئے وہیں جاکر کھانا کھایا، ماشاءاللہ! پہلے کے مقابلہ میں ہوٹل کو نیا اور مزین کردیا گیا ہے، اور مشروبات اور مٹھائیوں کی دکان بھی ساتھ ہی بڑھا لی ہے، اس کے بعد عصر کی نماز ادا کرکے ٹپری اسٹیشن کی جانب روانہ ہوئے اور واپسی کے لئے یوگا ایکسپریس میں سوار ہوگئے، جب ٹرین دیوبند پہونچی تو مولانا شفیق صاحب سلطانپوری(ناظم کتب خانہ دارالعلوم دیوبند) زاد سفر لے کر موجود تھے، رات کا کھانا لے کر آئے تھے، ہم نے شکریہ ادا کیا، اور نم آنکھوں کے ساتھ الوداع کیا، دوسرے دن دوپہر تک ہم الحمدللہ اپنی منزل مقصود پہونچ گئے۔

0 تبصرے