حضورِ اکرم ﷺ کی تین نصیحتیں

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین نصیحتیں 


از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنزالعلوم جمالپور احمدآباد



عن أبي ذرّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم. إتّقِ الله حيثُما كُنتَ، وأتبعِ السيّئَةَ الحَسَنَةَ تَمحْهَا، وَخَالِقِ النّاسَ بِخُلُقٍ حسن.


(رواه الترمذي في أبواب البر والصلة رقم : ١٩٨٤)


ترجمہ: حضرت ابو ذر غفاري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ "جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور برائی کے بعد نیکی کرو، وہ نیکی برائی کو مٹادیگی، اور لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آؤ. (سنن ترمذی)


 *تشریح:*

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساری انسانیت کیلئے رھبر و رهنما بنا کر مبعوث کیے گئے تھے آپ نے پوری انسانیت کو ایسی تعلیم دی کہ اس پر عمل کرکے انسان دنیا وآخرت میں سرخروئی حاصل کرسکتا ہے، آپ کا کمال یہ تھا کہ آپ جھوٹے چھوٹے جملوں میں ایسی بڑی نصیحتیں ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ جس میں معانی کا سمندر موجزن ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ایسی فصاحت عطا فرمائی تھی کہ اس کے بعد فصاحت کا کوئی درجہ باقی نہیں رہا، اور آپ کی باتوں میں ایسی حکمت تھی کہ اس بعد حکمت کا کوئی درجہ باقی نہیں رہا۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین نصیحتوں میں سے ایک نصیحت وہ ہے جو آ پ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو تلقین کی تھی، یہ نصیحت تین چھوٹے چھوٹے جملوں پر مشتمل ہے، مگر ان پر عمل کرنے والا دنیا و آخرت کی سرخروئی حاصل کر سکتا ہے۔


١- اتّق الله حیثما کُنتَ: جہاں کہیں رہو، خدا سے ڈر کر زندگی گزارو، یعنی جہاں بھی ہوں، جس حال میں بھی ہوں، ہمیشہ اس بات کا احساس رکھنا ہے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے، اللہ تعالی میرے تمام اعمال و احوال و کردار سے باخبر ہے، اور اللہ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کی جائے، حضرت اقدس مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری نوّر اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں کہ "اللہ سے ڈرنا دشمن سے یا سانپ سے ڈرنے کی طرح نہیں ہے، دشمن اور سانپ سے ڈرنا خوف اور دہشت کی وجہ سے ہوتا ہے، اور اللہ سے ڈرنا محبت کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے استاذ سے، پیر سے اور باپ سے ڈرنا محبت کی وجہ سے ہوتا ہے، شاگرد مرید اور فرماں بردار بیٹا یہ کوشش کرتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے کہ استاد پیر اور باپ ناراض ہو جائے اسی طرح مومن بندے کو بھی چونکہ اللہ تعالی سے غایت درجہ محبت ہے اس لیے وہ یہ سوچتا ہے کہ مجھ سے کوئی ایسا کام نہیں نہ ہوجائے کہ اللہ تعالٰی ناراض ہو جائیں، اور مؤمن کی یہ کوشش ہر حال میں ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔ (تحفۃ الالمعی ٥/٣٢٤)


٢- وَأتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا یعنی گناہ ہوجائے تو نیکی کرلو، یہ نیکی اس گناہ کو مٹادیگی، یہی مضمون قرآن کریم میں بھی ہے "إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ" یقینا نیک کام برے کاموں کو مٹادیتے ہیں۔ نیز انسان بشر ہے، اس کی فطرت میں خیر و شر دونوں مادے ودیعت کیے گئے ہیں، اس لیے اس سے گناہ سرزد ہونگے، ہاں! انبیاء اس اصول سے مستثنیٰ ہیں، اس لیے کہ انہیں من جانب اللہ معصوم رکھا گیا ہے، البتہ ہمیں زبانِ رسالتِ مآب علیہ افضل الصلوات وأزکی التحیات کی جانب سے یہ رہنمائی کی گئی ہے کہ برائی کا ارتکاب ہوجائے تو نیکی کرلو، اس سے وہ گناہ دھل جائیگا، نیز ایسے بہت سے اعمالِ خیر کی جانب رہنمائی بھی کی ہے جس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے۔ جو انسان بہترین وضو کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے یہاں تک کہ ناخن کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ (مسلم: ٢٤٥) ایک دوسری حدیث میں ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جو گناہوں کو مٹانے والی ہے؟ صحابہ نے کہا ضرور! ارشاد ہوا: مشقت کے باوجود (یعنی سردی کے موسم میں) اچھی طرح وضو کرنا، اعضاء وضو پر اچھی طرح پانی بہانا، پھر مسجد کی طرف چل کر آنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ گناہوں کو مٹادینے والی چیز ہے۔( صحیح مسلم: ٢٥١)

ایک روایت میں ہے: "مَن قَالَ سُبحانَ اللهِ وَبحَمْدِهِ حُطّت خطاياه وإن كانت مثل زبد البحر" جو شخص روزانہ یہ کلمہ سو مرتبہ پابندی سے پڑھیگا اللہ تعالی اس کے گناہوں کو مٹادیگا، چاہے اس کے گناہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔(صحیح بخاری:٦٠٤٠٥) عمرہ کے بارے میں ارشاد فرمایا: الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَابَيْنَهُمَا (صحیح بخاری:١٧٧٣ ) ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک جو گناہ ہو جاتے ہیں، درمیان کے سارے گناہ کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے۔


٣- وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ۔ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ، نیز احادیثِ مبارکہ میں ایمان کے بعد جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ اخلاق حسنہ ہیں، اگر انسان کے اخلاق اچھے ہونگے تو اس کو قلبی سکون حاصل ہوگا، اور زندگی خوشگوار گزرےگی، اس کا وجود دوسروں کے لئے رحمت ہوگا، اور اگر انسان کے اخلاق برے ہوں گے تو وہ خود بھی زندگی کے لطف سے محروم رہے گا، اور دوسروں کی زندگیوں کو بھی کِرکِرا کر دے گا۔

ایک حدیث میں ہے: ما من شئ يُوضَعُ فى الميزان أَثْقَلُ مِن حُسْنِ الخُلُقِ: میزانِ عمل میں کوئی چیز اخلاق حسنہ سے زیادہ وزنی نہیں رکھی جائے گی، وإِنَّ صَاحِبَ حُسْنِ الخُلُقِ لَيَبْلُغُ بِهِ درجةَ صَاحِبِ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ: اور بیشک اخلاق حسنہ والا اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ دار اور نفل نمازیں پڑھنے والے کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے، یعنی جس سچے مؤمن کو حسن اخلاق کی دولت مل گئی وہ حسن اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور شب بیداری کرنے والے کے درجہ کو پالیتا ہے۔(سنن ترمذی: ٢٠٠٠)

حضرت عبد الله بن المبارک رحمہ اللہ نے اخلاق حسنہ کی تفسیر کی ہے کہ اخلاق حسنہ تین چیزوں کا

نام ہے: (۱) لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنا (۲) لوگوں کے ساتھ حسن سلوک برتنا خواہ جان سے ہو یا مال سے (۳) تکلیف دینے سے بچنا یعنی یہ کوشش کرنا کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔(سنن ترمذی: ٢٠٠٢)

الغرض یہ مختصر سے تین جملے بڑے معنی خیز ہیں، اس میں دنیا و آخرت دونوں بھلائیوں کو سمیٹ دیا گیا ہے، نیز اس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے، اللہ تعالٰی سے ڈرنا، توبہ کرنا، اور برائیوں سے پرہیز کرنا، نیکیوں کی طرف سبقت کرنا یہ حقوق اللہ کی ادائیگی ہے، اور خوش اخلاقی سے پیش آنا یہ حقوق العباد کی ادائیگی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس جوامع الکلم پر عمل درآمد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت