سخاوت کی اہمیت وفضیلت

سخاوت کی اهمیت و فضیلت


از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنزالعلوم جمالپور احمدآباد



عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: السخي قريب من الله،قریب من الجنة، قريب من الناس، بعيد من النار، والبخيل بعيد من الله، بعيد من الجنة، بعيد من الناس، قريب من النار، والجاهل السخي أحب إلى الله من عابد بخيل.

(رواه الترمذى في أبواب البر والصلة رقم: ١٩٥٨)


ترجمه: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بھی اللہ تعالی کے نزدیک ہے، جنت سے نزدیک ہے، لوگوں سے قریب ہے (یعنی لوگ اس سے محبت کرتے ہیں ) اور دوزخ سے دور ہے (یعنی وہ دوزخ میں نہیں جائے گا) اور بخیل اللہ تعالی سے دور ہے، جنت سے دور ہے (یعنی جنت اس کو نصیب نہیں ہوگی) لوگوں سے دور (لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں) اور دوزخ سے قریب ہے، اور جاہل سخی، عبادت گزار بخیل کے مقابلہ میں خدا تعالی کو زیادہ پسند ہے۔ (سنن ترمذی)


تشریح: سخاوت ایک محمود اور پسندیدہ صفت ہے، سخاوت انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے سخاوت انسان کو محبوبیت عطا کرتی ہے۔ سخاوت جنت کا مستحق بناتی ہے۔ اور دوزخ سے بچنے کا سامان فراہم کرتی ہے، سخاوت سے معاشرہ رونق پکڑتا ہے اور بخیلی سے معاشرہ پژمردہ ہو جاتا ہے، اگر معاشرہ کے افراد سخی اور حاتم دل ہوں تو لوگ ان سے قریب ہوتے ہیں، اور ان کا شہرہ دور تک پھیلتا ہے، سخاوت انبیاء اوران کے اصحاب کی صفت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام انتہائی سخی اور خدا کی مخلوق پر خوب خرچ کرنے والے تھے، آپ کے متعلق منقول ہے کہ آپ کبھی اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے، بلکہ جب کبھی کھانا کھاتے کسی کو بلا کر اور اکٹھے مل کر کھاتے، حضور صلی اللہ علیہ بھی خوب سخاوت کرنے والے تھے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا حال بیان کرتے ہوئے ہوں فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سائل کو "نہیں" کہہ کر واپس نہیں کیا، (بخاری: ۶۰۳۴) آپ کی سخاوت تو اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ اگر آپ کے پاس دینے کو نہ ہوتا تو قرض لے کر بھی سائل کی ضرورت پوری کر دیا کرتے تھے، ایک حدیث میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام اپنا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میری خوشی اسی میں ہوگی کہ تین راتیں گزرنے سے پہلے اس کو تقسیم کر دوں اور قرضہ کی ادائیگی جتنی رقم بچا کر سب کا سب ضرورتمندوں میں خرچ کردوں ( بخاری: ۲۳۸۹)


سخاوت مومن کی صفت ہے


سخاوت مومن کی صفت ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخل اور ایمان کبھی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے (سنن نسائی: ۳۱۱۰) واضح بات ہے کہ جو بندہ اللہ تعالی کی ذات وصفات پر کامل ایمان اور یقین رکھنے والا ہو، جو خدا کو رازق اور معطی تصور کرتا ہو، جسے "يُربي الصَّدَقَاتِ "(سورة بقره - ۲۷۲) پریقین ہو جسے :" أنفِقُ أُنفِقُ عليك" ( بخاری:۴۶۸۴ ) ( خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا) پر اطمینان ہو، اس کے دل میں بخل اور کنجوسی جیسی صفت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔


سخاوت جنت میں ایک درخت ہے :


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سخاوت جنت میں ایک درخت ہے، جو شخص دنیا میں سخی ہوگا، وہ اس درخت کی ایک شاخ کو پکڑے گا، وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کر دیگی۔ اور بخل جہنم میں ایک درخت ہے جو شخص دنیا میں بخیل ہوگا وہ اس درخت کی ایک شاخ کو پکڑے گا ، تو وہ شاخ اس کو پکڑلے گی ، اور دوزخ میں ڈال دیگی۔(مشکوۃ المصابیح بحوالہ بیہقی رقم : ۱۸۲۶)


سخی کیلئے فرشتے دعا کرتے ہیں:


حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر صبح (آسمان سے) دو فرشتے اترتے ہیں اور ان میں سے ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما، اور دوسرا دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! بخل کرنے والے کے مال کو ضائع کر دے۔ ( صحیح بخاری: ۱۴۴۲)


مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سخاوت مطلوب اور محمود ہے اور اس سے دنیوی فوائد کے ساتھ ساتھ بے شمار اخروی فوائد بھی حاصل ہونگے ، ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ سخاوت و فیاضی اور خلق خدا پر خرچ کرنے سے انسان کے جملہ عیوب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور ان سب کی جگہ سخاوت و فیاضی والی اچھائی لے لیتی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو صفت سخاوت سے متصف فرمائے ، اور بخیلی سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین


(شائع شدہ: ماہنامہ "ندائے حرم" احمدآباد

اگست ٢٠٢٣ء)

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت