تمباکو کی شرعی حیثیت

تمباکو کی شرعی حیثیت

از: محمد مظاہری ندوی


تمباکو کھانا یا پینا صحت کے لئے نقصان دہ ہے، لاکھوں انسان ہر سال تمباکونوشی کی وجہ سے مر رہے ہیں، جب کہ کروڑوں انسان اس کی وجہ سے کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوکر کرب اور اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

تمباکو نوشی سے لاحق ہونے والے مختلف امراض میں پھیپھڑے کا کینسر، گلے کا کینسر،اچانک موت،ہونٹ، منہ، گلے، نرخرے، معدے اور آنتوں کا کینسر۔ مثانے کے زخم اور کینسر،ناک، کان اور گلے کی بیماریاں، بلڈپریشر کے خطرات، شوگر، کولسٹرول کا اضافہ، موٹاپا وغیرہ شامل ہیں۔

 نیز تمباکو نوشی مال کی تباہی اور ضیاع کا ذریعہ ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا کہ اکثر نے مال کے ضیاع سے اسراف مراد لی ہے اور کچھ نے اس اسراف کو حرام چیز پر صرف کرنے تک کا مطلب لیا ہے۔ زیادہ قوی بات یہی ہے کہ جس دینی یا دنیاوی غرض کے لیے مال صرف کرنے کی شرعاً اجازت نہیں دی گئی وہ ممنوع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال بندوں کے مصالح کی تکمیل کا ذریعہ بنایا ہے اور فضول خرچی سے یہ مصالح ضائع ہوتے ہیں۔ (فتح الباری فی شرح صحیح بخاری، ج ۱۰، ص ۲۳۰)

مال کا اس سے زیادہ ضیاع اور کیا ہوگا کہ تمباکو خریدا جائے جو دھواں، راکھ اور بیماری کی شکل اختیار کرلے اور انسان کی زندگی کا چراغ گُل کردے۔

اور تمباکو خریدنا مال کا ضیاع ہے۔ سورۂ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ان کے لیے پاکیزہ چیزیں وہ حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے‘‘ (۷:۱۵۷)۔ کسی چیز کے ناپاک اور ناگوار ہونے کی وجہ سے اس کی حُرمت ہوتی ہے۔ گندی بو تو تمباکو کی سب سے ہلکی خرابی ہے ورنہ اس سے پیدا ہونے والی بیماریاں، خرابیاں تو حددرجہ خطرناک اور مہلک ہیں۔یوں تمباکو اپنے کڑوے مزے، شدید بدبو، سنگین نقصان، مہلک نتائج کی بناپر حددرجہ خطرناک اور مہلک ہے، اس لیے یہ حرام ہوگا۔

تمباکو نوشی پر مال کو خرچ کرنا بے موقع بھی ہے اور بلاضرورت بھی۔ اس لیے کہ اسراف حرام ہے۔ اس بنیاد پر تمباکو نوشی حرام ہے اور حددرجہ خطرناک ہے۔


[تمباکو کی حلت و حرمت]


تمباکو کی حلت و حرمت کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف رہا ہے، جبکہ سبھی علماء اس بات پر متفق ہیں کہ مضر صحت چیز سے انسان کو پرہیز کرنا چاہیے، لیکن اس قاعدہ کو تمباکو پر تطبیق دینے پر اتفاق نہیں ہو سکا، جس نے تمباکو مضر سمجھا اس نے حرام قرار دیا، جس نے اس میں فوائد دیکھے، یا اسے نقصان کا پتہ نہیں چلا، تو اسے مباح تصور کیا۔

مولانا حفظ الرحمن صاحب اعظمی نے اپنی کتاب "تمباکو اور اسلام"میں ص_١٦٣_ پر قول فیصل ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ"بہر کیف دلائل و تحقیقات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمباکو شراب کی طرح حرام اور نجس تو نہیں ہے، لیکن اسے مکروہ تحریمی کہا جاسکتا ہے، یہی قول میرے نزدیک أعدل الأقوال ہے، اس لیے تمباکو استعمال کرنا، اور خریدوفروخت کرنا شریعت کی روح کے منافی ہے، نہ خود استعمال کرنا چاہیے، اور نہ دوسروں کو پیش کرنا چاہیے، اس طرح ہم معاشرہ کو پاکیزہ بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت