(سوانح حیات وصفات)
آپ کا اسم گرامی احمد حسین بن داؤد بن دوست محمد ہے،
آپ کی ولادت بروز بدھ ٢٥/ ربیع الثانی سنہ ١٣٧٦ھ مطابق ٢٨/نومبر سنہ ١٩٥٦ء صوبۂ گجرات کے معروف ومشہور شہر پٹن کے محلہ کھٹکی واڑ میں ہوئی۔
پٹن بڑا معروف ومشہور شہر ہے، اولیاء اللہ کا مسکن رہا ہے،دنیا کے مختلف علاقوں کے بزرگان دین یہاں تشریف لائے، دین کی نشرواشاعت کی،اور یہیں پیوند خاک ہوئے خصوصاً ملک المحدثین علامہ محمد بن طاہر الفتنی رحمہ اللہ اسی شہر کے مکین تھے، اور حضرت کا مزار بھی اسی شہر میں ہے۔
تعلیم و تربیت*
آپ نے ابتدائی تعلیم شہر پٹن کے مشہور و معروف ادارے مدرسہ اسلامیہ کنز مرغوب میں حاصل کی، یہاں آپ کے اساتذہ میں مولانا محفوظ الرحمن بجنوری اور مولانا عبد اللہ پٹنی ثم مانگرولی قابل ذکر ہیں، اس کے بعد آپ کے والد صاحب نے سنہ ١٩٦٩/١٩٧٠ء میں پٹن کے قریب ایک گاؤں "کاکوسی" کے معروف ادارے جامعہ دار العلوم نذیریہ میں داخلہ دلوایا، عربی اول ودوم مکمل کرنے کے بعد حضرت مولانا عبد القادر صاحب ندوی کے مشورے سے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ گئے، وہاں پانچ چھ ماہ قیام کرنے کے بعد کسی پریشانی کی وجہ سے گھر واپس آگئے، درمیانی سال ہونے کی وجہ سے کسی ادارے میں داخلہ ممکن نہیں تھا، بنا بریں والد صاحب نے گھر کے کاروبار میں شامل کرلیا، دوسال کاروبار میں مصروف رہے، فرصت کے اوقات میں حضرت مولانا عبدالقادر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور ان سے استفادہ فرماتے،اسی دوران آپ سے کافیہ و قدوری پڑھی، دو سال بعد والد صاحب نے عشرہ کی جماعت میں بھیجا، جس کے امیر حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب کھریاسنوی (حال رکن شوری دعوت وتبلیغ گجرات) تھے، جماعت میں وقت لگانے کے بعد آپ کے دل میں دوبارہ تعلیم جاری کرنے کا شوق پیدا ہوا، والدہ سے ذکر کیا، آپ کی والدہ نے والد صاحب سے سفارش کی، کیونکہ اب والد صاحب انکار فرما رہے تھے، لیکن والدہ کی سفارش پر اجازت دیدی، آپ نے جامعہ نذیریہ کاکوسی میں تعلیم جاری رکھنے کو ترجیح دی، کاکوسی میں درجۂ عربی سوم میں داخلہ منظور کرلیا گیا، آپ نے عربی پنجم تک وہاں تعلیم حاصل کی، آپ خودنوشت سوانح میں تحریر فرماتے ہیں کہ " جامعہ نذیریہ کاکوسی کے تین سال کے عرصہ میں کئی اساتذۂ کرام سے استفادہ کا موقع ملا، خصوصاً مولانا عبد الرحمن کھریاسنوی دامت برکاتہم سے تعلیمی و تربیتی اعتبار سے بڑا فائدہ حاصل ہوا،اس لئے کہ حضرت کا افہام و تفہیم کا انداز بہت سیدھا سادہ تھا، آپ کی عادت تھی کہ جب تک طلبہ مطمئن نہ ہوجاتے آگے نہیں بڑھتے تھے، مولانا افضل حسین صاحب رحمہ اللہ سے ادب عربی میں کافی استفادہ کا موقع ملا، حضرت کو معقولات میں بھی کافی دسترس حاصل تھی، اس فن میں بھی آپ سے خوب فائدہ حاصل ہوا،ملا مبین بھی حضرت ہی سے پڑھی، جامعہ نذیریہ کاکوسی میں تین سالہ قیام کے دوران الحمدللہ کافی محنت سے پڑھا"۔
چونکہ جامعہ نذیریہ کاکوسی میں عربی پنجم تک ہی تعلیم تھی، اس لئے اساتذہ کے مشورے سے تکمیل کی غرض سے آپ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور تشریف لے گئے، مظاہر علوم میں مشکوۃ کے سال میں داخلہ منظور کیا گیا، آپ نے مشکوۃ المصابیح مکمل حضرت مولانا سلمان صاحب مظاہری(ناظم جامعہ مظاہر علوم) سے پڑھی، ہدایہ ثالث شیخ محمد یونس صاحب جونپوری رح سے، ہدایہ رابع اور بیضاوی مولانا وقار علی صاحب رح سے پڑھی،
پھر دورۂ حدیث شریف کے سال میں صحیحین، مؤطین، ابنِ ماجہ شیخ محمد یونس صاحب جونپوری رح سے، ترمذی شریف حضرت مفتی مظفر حسین صاحب رح سے، ابوداؤد شریف مولانا عاقل صاحب دامت برکاتہم سے، نسائی شریف مفتی عبد العزیز صاحب رح سے پڑھی، واضح رہے کہ بخاری شریف کی ابتداء حضرت شیخ محمد زکریا صاحب رح فرمائی، اور آپ نے حضرت شیخ سے ہی مسلسلات بھی پڑھی، اور سنہ١٣٩٨ھ مطابق ١٩٧٨ء میں مدرسہ ہذا سے سند فضیلت حاصل کی۔
*اساتذۂ گرامی قدر*
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس صاحب جونپوری رح
مفتی مظفر حسین صاحب رح
مفتی عبد العزیز صاحب رح
مفتی یحییٰ صاحب رح
مولانا وقار علی صاحب رح
مولانا سلمان صاحب مظاہری رح
مولانا عاقل صاحب دامت برکاتہم
یہ سب مظاہر علوم سہارنپور کے اساتذہ ہیں
مولانا عبد القادر صاحب ندوی دامت برکاتہم
مولانا عبد الرحمن صاحب کھریاسنوی دامت برکاتہم
مولانا افضل حسین صاحب بستوی رح
*تلامذۂ کرام*
آپ کے تلامذہ کی تعداد سینکڑوں میں ہے، ان میں چار نام آپ نے اپنے مضمون میں خود تحریر کیے ہیں
مولانا صدیق صاحب ندوی (برادر اصغر، وحال مہتمم جامعہ کنز العلوم احمدآباد)
مولانا صلاح الدین صاحب سیدھپوری(صدر مدرس، جامعۃ الایمان ویرمگام)
مولانا عارف صاحب ایلولوی، مہتمم جامعہ امداد العلوم وڈالی گجرات
مولانا اختر الاسلام صاحب، استاذ تفسیر وادب دار العلوم گودھرا
*بیعت واجازت*
آپ کے استاذ مولانا افضل حسین صاحب رح مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خاں صاحب سے بیعت تھے، اور بعد میں حضرت نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرمایا،آپ کو بھی مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب سے بیعت جوڑا اور اصلاحی تعلق قائم کرایا، مظاہر علوم قیام کے دوران حضرت والا کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل ہوتی رہی، اور خط وکتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا، مظاہر علوم سہارنپور سے فراغت کے بعد بھی خط وکتابت ہوتی رہی، البتہ حضرت کے وصال کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا، اس کے بعد احوال کے متعلق خود اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں کہ" اس کے بعد باقاعدہ کسی بزرگ سے بیعت کا تعلق نہیں رہا، البتہ اپنے مخصوص امور میں حضرت مولانا عبدالقادر صاحب پٹنی ندوی سے رجوع کرلیا کرتا ہوں، اس کے بعد ساتھیوں کے اصرار پر ارادہ کرلیا کہ کسی اللہ والے سے رجوع کرلوں، بیعت کے لیے عقیدت ضروری ہے، اور سب سے زیادہ عقیدت موجودہ اہل اللہ میں حضرت الاستاذ حضرت مولانا محمد یونس صاحب رح سے تھی، اور پھر حضرت اقدس مولائی مولانا محمد رابع حسنی ندوی دامت فیوضہم سے، اتفاق سے ہمارے ایک عزیز شاگرد مولوی اختر الاسلام پٹنی ندوی جو اس وقت دار العلوم گودھرا میں درس و تدریس میں مشغول ہیں، وہ اپنے چچا محمد یونس بھائی پٹنی کو لیکر لکھنؤ حضرت والا سے بیعت کے لیے جارہے تھے، انہیں کسی طرح معلوم ہوگیا کہ میں بھی بیعت ہونا چاہتا ہوں، ان کے ہمراہ یہ مختصر قافلہ لکھنؤ پہونچا، اور حضرت والا سے بیعت و ارشاد کی درخواست کی، الحمدللہ حضرت والا نے قبول فرمالی، اس کے بعد ہرسال رمضان المبارک میں ہفتہ عشرہ کےلئے خانقاہ رائے بریلی میں جانا ہوتا رہا، حضرت والا سے رائے بریلی قیام میں ازحد شفقت ومحبت اور توجہات سے الحمدللہ بڑا فائدہ ہوتا رہا، رائے بریلی قیام کے دوران حضرت والا کے درس تفسیر اور حضرت مولانا عبد اللہ صاحب حسنی ندوی رح کے درس حدیث اور دیگر خانقاہ کے اجتماعی اور اپنے انفرادی اعمال میں بڑی دلچسپی سے لگنا ہوتا رہا، سنہ ١٤٤٠ھ رمضان المبارک میں چونکہ حضرت والا علیل تھے، بار بار ڈاکٹر صاحب کو معاینہ کرنا پڑتا تھا، اس لیے رمضان المبارک میں حضرت والا لکھنؤ میں ہی قیام پذیر تھے، اور مجھے بھی حضرت والا کی طرف سے یہ رہنمائی ہوئی کہ لکھنؤ ہی میں حضرت کے پاس ٹھہروں، چنانچہ پورا ہفتہ بلکہ نو دن تقریباً لکھنؤ ہی ٹھہرنا ہوا، علالت کی وجہ سے مستقل کوئی مجلسِ نہیں ہوتی تھی، جب حضرت کی طبیعت بہتر ہوتی، تو کسی بھی نماز کے بعد مسترشدین جمع ہوجاتے، بعد تراویح عامۃ آدھ گھنٹہ مجلس رہتی،جس میں اکثر خاموشی رہتی، کبھی کوئی سوال کرتا تو حضرت اس کا جواب مرحمت فرمادیتے، اس وقت لوک سبھا الیکشن قریب تھا تو حضرت مولانا نذر الحفیظ صاحب کچھ حالات ذکر فرماتے حضرت جواباً کچھ فرمادیتے، آخری دن جس دن ہماری واپسی تھی، اس دن حضرت کی طرف سے بلاوا آیا،اور بیعت وسلوک کی اجازت مرحمت فرمائی اور یہ قبل الظہر ہوا، بعد الظہر پھر بلایا اور کافی دیر اپنے پاس بٹھا کر بہت نصیحتیں فرمائیں اور پھر اجازت کا تذکرہ فرمایا۔
*صفات عالیہ*
آپ کی صفات عالیہ میں سب سے اہم صفت جو احقر نے آپ کی حیات مستعار کے آخری چند سالوں میں محسوس کی، اور بغور معائنہ کیا وہ آپ کا تعلق مع اللہ اور اس کے لئے مجاہدہ کرنا، آپ تلاوت قرآن کریم کے بڑے عادی تھے، رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں خصوصاً رات بھر جاگتے، اور تلاوت قرآن میں مصروف رہتے، اور سال کے دوسرے حصے میں کسی بھی نماز سے پہلے جلد حاضر ہوجاتے، اور قرآن کریم کی تلاوت فرماتے، نیز نمازوں کے بعد آپ طویل دعائیں فرماتے، اور دیر تک خاموشی کے ساتھ خدا کے سامنے آہ و زاری فرماتے،
اس کے علاوہ استغناء کی کیفیت ہر کس و ناکس کو معلوم ہے، آپ کسی سے بھی ادنیٰ درجہ کی امید نہیں لگاتے تھے، حتی کہ اپنے جامعہ کے اخراجات کے لئے بھی کسی سے تذکرہ کرنا آپ کے لئے بار گراں ہوا کرتا تھا، بلک آپ کے متعلق بارہا سنا ہے کہ بہت سے اصحاب خیر جامعہ کے لئے بڑی رقمیں لے کر حاضر ہوتے تو آپ فرماتے کہ ابھی جامعہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے،
نیز خاموشی بھی آپ کی ضرب المثل تھی، آپ طویل الصمت تھے، بہت سی مرتبہ حاضرین وواردین کو اس سے پریشانی بھی ہوتی تھی، اور اس کی بنیاد پر آپ سے نالاں رہتے تھے۔
اسی طرح آپ کی زندگی میں عیاں وبیاں تھی، آپ سادہ سا لباس زیبِ تن فرماتے تھے، سادہ وضع فرماتے تھے، سادہ اور معمولی لباس پہن کر بڑے سے بڑے اجتماعات اور محفلوں میں شریک ہونے سے آپ کو کوئی عار محسوس نہیں ہوتی تھی، آپ کے لباس میں ایک سفید کرتا، سفید تہبند،کالی دوپلی ٹوپی، اور سر پر ایک سفید رومال ہوا کرتا تھا، آپ بڑے پروقار اور بارعب معلوم ہوتے تھے، آپ کی طویل اور گھنی داڑھی آپ کے رعب میں اضافہ کا باعث ہوتی تھی،
آپ اپنے جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے بڑی شفقت فرماتے ان کی تعلیم کی فکر فرماتے، جو بیمار ہوجاتے ان کے علاج معالجہ کی فکر فرماتے، مدرسہ میں موجود دوائیں مہیا کرائی تھی، اگر اس سے شفایابی نہ ہوتی تو ملازمین اور اساتذہ میں کسی کو بھی ساتھ روانہ کرتے،
آپ اپنے اساتذہ کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرتے تھے، کوتاہی پر تنہائی میں نصیحت فرماتے، البتہ تعلیمی کمزوری پر سخت گرفت فرماتے تھے۔
وفات: آپ کی وفات 4/ رمضان 1441ھ مطابق 28/ اپریل 2020ء کو ہوئی ، آپ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد میں ہی مقیم تھے ، چند روز بخار رہا ، اور بخار بھی اتنا سخت نہیں تھا کہ جان لیوا ثابت ہوتا ، لیکن مرضی مولی از ہمہ اولی، خدا نے اپنے مقرب بندے کو اپنے پاس بلایا ، اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے ، اعلی علیین میں جگہ نصیب فرمائے ، آپ کی نماز جنازہ حضرت مفتی عبد الروف صاحب منصوری دامت برکاتہم العالیہ نے پڑھائی ، آپ کی تدفین جمالپور علاقے کے قبرستان بابا لولوی میں ہوئی ۔

0 تبصرے