تاریخ جامعہ رحمانیہ کتاب کا تعارف

نام:تاریخ جامعہ رحمانیہ وناکپور گودھرا

مصنف: محمد ادریس بن محمد یوسف گونیا گودھرا

صفحات: ٢٥٣ سن اشاعت: ٢٠٢٠ء
ناشر: جامعہ رحمانیہ عربیہ اسلامیہ دار العلوم وناکپور گودھرا

تعارف از: محمد مظاہری ندوی

یہ کتاب جامعہ رحمانیہ عربیہ اسلامیہ دار العلوم وناکپور گودھرا کی تاریخ پر مشتمل ہے،اوردستاویزی حیثیت رکھتی ہے، اس کتاب میں مدرسہ ہذا کی سن تأسیس ١٩٨٢ء سے ٢٠٢٠ء تک کے حالات ذکر کیے گئے ہیں، کتاب کے آغاز میں مدارس اور دینی علم کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے بعد شہر گودھرا کی تاریخ اختصار کے ساتھ تحریر کی گئی ہے، جس میں گودھرا کا محل وقوع اور وجہ تسمیہ، یہاں مقیم قاضی برادری اور گھانچی برادری کا تعارف،تنظیم المسلمین اور تبلیغ کے کام کا تعارف، شہر گودھرا میں پیش آمدہ حالات وغیرہ ذکر کیے گئے ہیں، بعدہ جامعہ رحمانیہ کے آغاز اور اس کے لئے حاجی عبد الستار صاحب کی جانب سے چار ایکڑ زمین وقف کیا جانا، اور دوسری ١٧/ایکڑ زمین کی خریداری وغیرہ کا تذکرہ کیا گیا ہے، واضح رہے کہ جامعہ رحمانیہ کا سنگ بنیاد حضرت مولانا شیخ رضا اجمیری رحمۃ اللہ علیہ (والد ماجد حضرت قاری رشید احمد اجمیری مدظلہ) کے بدست بانئ جامعہ حضرت مولانا عبد الرحمن گونیا ودیگر عمائدین گودھرا کی موجودگی میں سنہ ١٩٨٢ء کو رکھا گیا،
 کتاب ہذا کےمرکزی مضامین میں جامعہ رحمانیہ کو قائم کرنے اور ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے والے پانچ درخشاں ستاروں ( مولانا عبد الرحمن صاحب گونیا رح، مفتی ابراہیم صاحب آچھودی مدظلہ، مولانا عبد الستار صاحب مدظلہ،مولانا یوسف بڈھا مدظلہ، مولانا اسحاق عمر جی رح) کی خدمات کا تذکرہ اور حالات زندگی ہے، ان پانچ شخصیات میں سب سے مفصل تذکرہ حضرت مفتی ابراہیم صاحب آچھودی دامت برکاتہم کا کیا گیا ہے، جس مفتی صاحب کی سادگی، تواضع، سخاوت، طلبہ سے وابستگی، ان کی امداد، مفتی صاحب کا تعلیم و تعلم سے لگاؤ، انداز تدریس، معمولات، اجازت وخلافت کو فاضل مصنف نے بڑی وضاحت اور خوش اسلوبی سے کیاہے، اور مدرسہ ہذا کے اساتذہ کے مضامین بھی شامل کتاب کیے ہیں،
 اس کے علاوہ مدرسہ کے موجودہ مہتمم حضرت مولانا عبد الستار صاحب بھاگلیا دامت برکاتہم کے حالات کو بڑی تفصیل سے تحریر کیا ہے، جس میں آپ کے زمانۂ اہتمام میں مدرسہ کی تعمیر وترقی، اور مدرسہ کو مستحکم بنانے میں آپ کی گرانقدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، نیز اس کتاب کو پڑھ کر یہ معلوم ہوا کہ شہر گودھرا کے لحاظ سے بھی آپ کی عظیم خدمات ہیں، آپ نے بدعات کو فرو کرنے اور معاشرہ کی اصلاح میں بڑی محنتیں کی ہیں، الغرض جامعہ رحمانیہ کی تعلیمی لائن کو آغاز سے اب تک جہاں مفتی ابراہیم صاحب آچھودی نے سنبھالا اور مستحکم بنایا ہے، وہیں مہتمم صاحب نے انتظامی لائن کو سنبھالا اور مستحکم کیا ہے،
 اس کے علاوہ اس کتاب میں مدرسہ ہذا کے تمام شعبہ جات کی تفاصیل تحریر کی گئی ہے، اور مدرسہ ہذا کے اساتذہ اور فضلاء کے اسماء گرامی کو محفوظ کردیا گیا ہے، نیز کتب خانہ کی اہمیت اور مدرسہ میں موجود کتابوں کی بھی نشاہدہی کی ہے، نیز جامعہ ہذا کے آئی۔ٹی۔آئی کے شعبہ اور اسکالر شپ کے بارے میں بھی قارئین کو واقفیت دی گئی ہے، البتہ اس کتاب میں مدرسہ ہذا کے وہ اساتذہ و منتظمین جو ایک طویل عرصہ سے مدرسہ میں خدمت انجام دے رہے ہیں اور جن کا جامعہ کی ترقی میں اہم کردار ہے، ان کے مختصر حالات اور خدمات سے بھی اگر قارئین کرایا جاتا تو بہت فائدہ ہوتا۔
اخیر میں ہم اپنے بزرگ اور محنتی ساتھی اور فاضل مصنف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، جنہوں نے اس کتاب کے ذریعہ ہمیں جامعہ رحمانیہ کے حالات سے واقف کرایا، اللہ تعالیٰ آپ کی اس کتاب کو سابقہ کتابوں کے مانند قبول عام نصیب فرمائے، اور نجات کا ذریعہ بنائے۔آمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت