مؤلف: مفتی محمد کوثرعلی صاحب سبحانی مظاہری دامت برکاتہم العالیہ
تبصرہ نگار: محمد مظاہری ندوی
اس کتاب کے مصنف ہمارے استاذ حدیث حضرت مولانا مفتی محمد کوثر علی سبحانی مظاہری دامت برکاتہم العالیہ ( استاذ حدیث مدرسہ مظاہر علوم قدیم سہارنپور) ہیں، ہم نے مؤقر مؤلف دامت برکاتہم سے جامعہ ابن عباس سرخیز احمدآباد میں مشکوۃ المصابیح کا درس حاصل کیا ہے، کتاب ہذا میں مؤلف نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس صاحب جونپوری نور اللہ مرقدہ کے احوال زندگی کو اختصار کے ساتھ تحریر فرمایا ہے، اور کتاب میں متعدد مقام پر مفصل کتاب تحریر کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، در اصل یہ حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ کے حالات پر ایک طویل مضمون ہے، جس کو آئینۂ مظاہر علوم (ماہنامہ) کے حضرت شیخ رح کے خاص نمبر کے لئے تحریر کیا گیا تھا، لیکن حضرت مولانا محمد سعیدی ناظم مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارنپور کی ایماء پر مستقل کتاب کی شکل میں شائع کیا گیا، یہ کتاب حضرت شیخ رحمہ اللہ کی وفات کے صرف ٢٠/ روز بعد منظر عام پر آچکی تھی،کتاب کی زبان بڑی عمدہ ہے، اور مؤلف نے اپنے استاذ و شیخ کے احوال کو، علم حدیث میں آپ علو منزلت کو،اور علوم دینیہ میں وسعت مطالعہ کو، خوش اسلوبی کے ساتھ قلمبند کیا ہےکہ قاری اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ مؤلف بھی اس فن کے بحر ذخار کا غوطہ خور ہے، کتاب میں مؤلف کی اپنے استاذ و شیخ کے ساتھ نسبت و تعلق اور محبت جگہ جگہ عیاں ہے، مؤلف نے حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ کے ابتدائی احوال بیان کرنے کے ساتھ مظاہر علوم سہارنپور میں مسند حدیث پر فائز ہونے کے واقعات اختصار کے ساتھ تحریر کیے ہیں، اس کے بعد قلم کی جولانی میں اضافہ ہو گیا ہے، اور آپ کے علمی ذوق، درس حدیث کی امتیازی خصوصیات، اسماء الرجال اور علم جرح و تعدیل میں آپ کی مہارت تامہ، علوم حدیث کے مطالعے میں آپ کا انہماک، آپ کا فقھی رجحان وغیرہ کو تحریر کرنے کے ساتھ آپ کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کی مجلسِ ذکر، مجلسِ اصلاح و تربیت کی بھی منظر کشی فرمائی ہے، اسی طرح آپ سے تعلق رکھنے والے مریدین کی تربیت آپ کیسے فرماتے تھے اس کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے،
اخیر میں کتاب ختم کرنے سے قبل مؤلف نے اپنے مختصر حالات، اور حضرت شیخ رحمہ اللہ سے اپنے تعلقات اور اپنی تربیت کے واقعات کو بھی بے کم و کاست سپرد قرطاس فرمایا ہے، حتیٰ کہ مؤلف نے ان مواقع کو بھی لکھ دیا ہے جس میں حضرت شیخ سے آپ کو ڈانٹ ڈپٹ سننی پڑی ہو، اس طرح بے کم و کاست اپنے واقعات تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سالکین طریقت کو معلوم ہو جائے کہ یہ راستہ کیسے طے کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد حضرت شیخ رحمہ اللہ کے مرض الوفات کے حالات بھی تحریر فرمائے ہیں، اور آپ کے جنازے کی بھی منظر کشی فرمائی ہے
کتاب میں جو نئی معلومات حاصل ہوئی وہ درج ذیل ہے
١) حضرت شیخ رح کو چہرے پر پسینہ نہیں آتا تھا
٢) حضرت شیخ عمامہ استعمال نہیں فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ حضور صلی اللہُ علیہِ وسلم سے عمامہ دوام کے طور پر ثابت نہیں ہے،
٣) حضرت شیخ نے شادی اس وجہ سے نہیں کی کہ آپ پچپن سے مسلسل امراض کے شکار رہے ہیں، آپ کو یہ ڈر لگتا تھا کہ شادی کرنے کے بعد اہلیہ اور بچوں کے حقوق صحیح طور سے ادا نہیں کر پاؤں گا، اس ڈر سے شادی نہیں فرمائی
٤) حضرت مولانا عاقل صاحب دامت برکاتہم العالیہ(حال شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور جدید) آپ کے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں سے ہے۔
٥) سنہ ١٣٨٨ھ میں جب حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب نوراللہ مرقدہ نے آپ کو صحیح بخاری کی تدریس سپرد کی، تو اس وقت حضرت شیخ جونپوری رح ٣٣ سال کے نوجوان تھے، اس لیے طلبہ آپ سے بخاری پڑھنے پر رضامند نہیں تھے، تو اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے حضرت شیخ مولانا محمد زکریا کاندھلوی رح نے اعلان آویزاں کروایا، جس کا مضمون یہ تھا: میں نے اپنے ضعف اور اعذار کی بناء پر بخاری شریف پڑھانا موقوف کیا ہے، اور مولانا یونس صاحب کو منتقل کیا ہے، جسے پڑھنا منظور ہو وہ پڑھے، ورنہ کسی اور مدرسہ میں داخلہ لے لے۔
اس اعلان کے بعد طلبہ تیار ہوگئے۔
٦) مؤلف جب زیارت بیت اللہ کے سفر کی سعادت حاصل ہوئی تو سفر سے قبل آپ نے اپنے شیخ سے نصیحت طلب کی تو ارشاد فرمایا: حب مکہ میں رہو تو کثرت سے قرآن کی تلاوت کرو، اور جب مدینہ حاضری ہو تو تو درود شریف میں مواظبت اختیار کرو۔
0 تبصرے