چائے کے فوائد اور نقصانات

*چائے کے فوائد ونقصانات*



افادات از: حکیم دوست محمد صابر ملتانی رحمہ اللہ 


نشہ کی اقسام


نشہ آور اشیاء کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں تک پائی جاتی ہے۔ لیکن ان سب کے افعال و اثرات ایک جیسے نہیں ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ:

ایک شے کے استعمال کے بعد نیند غنودگی اور مسکن صورت بلکہ شدت کی صورت میں بے ہوشی تک ہو جاتی ہے تو

دوسری نشہ آور شے اس کے بالضد علامات ظاہر کرتی ہے۔ جن کا خاصہ ہے کہ جن کے استعمال سی بے خوابی جسم میں سرور کی لہریں ، لذت و مسرت کی شدت ، جذبات بے قابو، نفسیاتی خواہشات کی کثرت ، شدت کی صورت میں انسان بے قابو ہو کر ہنسنے لگتا ہے۔ کبھی روتا ہے الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتا ہے۔ کبھی اپنے آپ کو پیر فقیر سمجھنے لگتا ہے۔ کبھی بادشاہ بن بیٹھتا ہے۔ غرض نفس امارہ کی تمام علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ 


اول نشہ کی علامات اعصابی ادویہ کی ہیں اور دوم عضلاتی نشہ آور ادویہ کی ہیں۔


ایک تیسری صورت بھی ہے جسے غدی نشہ آور ادویہ پیدا کرتی ہیں۔ ان ادویہ کا زیادہ خاصہ یہ ہے کہ غشی طاری کر دیتی ہیں۔ یا ان کے استعمال سے انسان نفسانی خواہشات سے اس قدر بچتا ہے کہ اپنے آپ کو تنہائی میں رکھنا پسند کرتا ہے۔ عضلاتی نشہ کی تمام علامات کے بالکل برعکس علامتیں پیدا ہوتی ہیں۔ نشہ کی تین اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔ 


۱۔ اعصابی نشہ میں بیش، بھنگ، افیون وغیرہ شامل ہیں۔ 


۲۔ عضلاتی نشہ میں شراب، تمباکو، دھتورا، کچلہ، چائے وغیرہ شامل ہیں۔ 


۳۔ غدی نشہ میں لفاح وغیرہ شامل ہیں۔ 


*چائے*

نام: فارسی چائے خطائی۔ سندھی چاتھ۔ پنجابی چاہ۔ انگریزی ٹی TEA


تعارف: مشہور عام ہے۔ چھوٹے چھوٹے درختوں کی پتیاں ہیں۔ اس کا درخت بڑی کوشش اور حفاظت سے پرورش پاتا ہے۔ اول ایک قطعہ میں اس کے بیج بوکر پودے تیار کئے جاتے ہیں۔ جسے پوئی کہتے ہیں۔ پھر ان کو اکھیڑ کر بڑے وسیع قطعوں میں برابر فاصلے پر قطار در قطار لگا دیتے ہیں۔ جب اس کا درخت تین سال کا ہو جاتا ہے تو پتے چننے شروع کر دیتے ہیں۔ سال میں تین بار پتے توڑے جاتے ہیں۔ پھر سبز پتوں کو کڑاہوں میں ڈال کر بھونتے ہیں۔ جب بھون کر خشک ہو جاتے ہیں تو انہیں ڈبوں میں بند کرکے برآمد کرتے ہیں۔ 


چائے کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ حقیقت میں ان کے پودوں میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ بلکہ جو اختلاف ہمیں رنگ اور ذائقہ وغیرہ میں محسوس ہوتا ہے ۔ وہ ان پتیوں کے جمع کرنے کے وقت کے اختلاف سے ہوتا ہے۔ یعنی جب چھوٹی چھوٹی پتیوں کو جمع کرکے بھونتے ہیں تو سبز چائے ہوتی ہے۔ جب بڑی پتیوں کو جمع کرکے بھونتے ہیں تو یہ سیاہ چائے ہو جاتی ہے۔ 


چائے کا پھول نہایت خوشبو دار اور سفید جنگلی گلاب کا سا ہوتا ہے۔ جب پھول لگتے ہیں تو دور دور تک جنگل معطر ہو جاتا ہے۔ 


رنگ: چائے رنگت کے لحاظ سے تین قسم کی ہوتی ہے۔ (۱) سفید (۲) سبز اور (۳) سیاہ۔ پھول سفید خوشبودار۔ 


بو: خوشبو دار۔ پتوں اور پھولوں میں خوشبو ہوتی ہے۔ 


ذائقہ: قدرے تلخ۔ خشکی لئے ہوئے۔ 


مقام پیدائش: بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) ۔ کانگڑہ۔ دارجلنگ۔ دکن، آسام۔ نیپال۔ چین۔ یورپ۔ 


مزاج: عضلاتی اعصابی۔ سرد خشک۔ 


افعال و اثرات: عضلاتی اعصابی ہے۔ یعنی محرک قلب۔ محلل اعصاب اور مسکن جگر ہے۔ کیمیاوی طور پر خون میں خشکی و سودا کی زیادتی کرتی ہے۔ چونکہ سرد خشک ہے اس لئے اسے عام طور پر بصورت جوشاندہ ابال کر پیتے ہیں۔ 


خواص: محلل و مسکن اعصاب۔ ہاضم۔ مسکن عطش کاذب۔ معرق۔ مقوی قلب و اعصاب اور مفرح ہے۔ 


فوائد: محلل و مسکن اعصاب اور محرک قلب ہونے کی وجہ سے فالج عصبی۔ سرفہ۔ ضیق النفس بلغمی کے لئے بہترین دوا ہے۔ 


مقوی و محرک قلب ہونے کی وجہ سے کئی نفسیاتی امراض کے لیے اعلیٰ درجے کی دوا ہے۔ جن میں خوف پریشانی اور غم و اندوہ قابل ذکر ہیں۔ جب دل خوف یا پریشانی سے ڈوب رہا ہوتو اس کے ایک پیالہ قہوہ سے فوراً قرار پکڑ لیتا ہے۔ چائے سے تیار کردہ ایک پیالہ قہوہ پینے سے جونہی قلب و عضلات میں تحریک ہوتی ہے۔ فوراً ان میں نچوڑ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایک دم سارے جسم پر پسینہ آجاتا ہے۔ جس سے تمام جسم مکمل کھل جاتا ہے۔ اعصاب و پٹھے گرم ہو کر نرم ہو جاتے ہیں۔ ان میں کھچاوٹ، درد، بے چینی اور تکان دور ہوتی ہے۔ اس کے اسی اثر کی وجہ سے اسے معرق یعنی پسینہ آور کہتے ہیں۔ 


رحم کے عضلات کو تحریک دے کر احتباس حیض کو دور کرتی ہے۔ چائے کی پتی کو پکا کر اورام صلبہ پر باندھنے سے درد کو تسکین دیتی ہے۔ 


موجود ہ زمانے میں چائے کا استعمال بعد از غذا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر امیر و غریب اسے غذا یعنی کھانا کھانے کے بعد ضرور پیتے ہیں۔ ہوٹلوں اور قہوہ خانوں میں سب سے زیادہ چائے ہی استعمال ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ چائے میں کسی قسم کی کوئی غذائیت نہیں ہوتی۔ 


*چونکہ اپنے اندر خشکی کے اثرات رکھتی ہے اس لئے اس کی کثرت سے نیند کی کمی ہو جاتی ہے اور بیداری بڑھ جاتی ہے۔ دیہاتی لوگ اس کے اس نقص کو دودھ کی آمیزش سے دور کرتے ہیں۔* 


جب مریض ضعف قلب کی وجہ سے نزع کی حالت میں ہوتو چائے سے تیار کردہ ایک پیالہ قہوہ (جس میں چند لوگ اور تھوڑی سی دار چینی ابال دی گئی ہو) مریض کے لئے آب حیات ثابت ہوتا ہے۔ ایک دم جسم گرم ہو جاتا ہے۔ ضعف قلب دور ہو کر مفرح صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ 


اسی طرح رقیق بلغم سے جب دم کشی کی صورت پیدا ہو جائے اور بلغم خارج ہونے کا نام نہ لیتی ہوتو ایسی صورت میں بھی اس کے قہوہ کا استعمال آب حیات سے کم نہیں ہے۔ چند منٹوں میں بلغم کے غلغلے خارج ہوکر سانس کی تنگی دور ہو جاتی ہے۔ آشوب چشم میں چائے کی پتی کو گرم کرکے پوٹلی بنا کر آنکھوں پر باندھنے سے فوراً درد دور ہو جاتا ہے۔ اور تڑپتا ہوا مریض سو جاتا ہے۔ 


*جہاں چائے کے اتنے فوائد ہیں وہاں اس کی کثرت سمی علامات پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ غشی، خارش، کسل مندی، چڑچڑا پن اور خون کا دباؤ بڑھا دیتی ہے۔*


چائے یا قہوہ تیار کرتے وقت اسے زیادہ نہیں ابالنا چاہیے۔ صرف دو تین جوش یا ابال کافی ہوتے ہیں۔ ورنہ چائے سے ٹے نین خارج ہو کر قہوہ میں شامل ہو جاتی ہے جو صحت کے لئے بے حد مضر ہے۔انتہی


نوٹ:

کسی بھی چیز زیادتی یا حد سے زیادہ کمی باعث نقصان ہے. ل


ہذا اعتدال میں رہ کر مباح اشیاء سے فائدہ اٹھانا مومن کی شان ہے. 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت