جامعہ کنز العلوم احمدآباد کا تعارف

 جامعہ کنزالعلوم جمالپور،احمدآباد

از: محمد مظاہری ندوی


جمالپور احمدآباد کی شاہی مسجد جو خان جہان مسجد کے نام سے موسوم ہے، اس سے متصل جگہ پر ١٧/رمضان المبارک سنہ ١٤٢٦ھ مطابق ١/نومبر سنہ ٢٠٠٤ء کو جامعہ کنزالعلوم کی سنگ بنیاد رکھی، اور تعمیر کا کام شروع فرمایا، اللہ جزائے خیر عطا فرمائے حاجی عبد الغفور صاحب کو، سلیم خان صاحب کو، حاجی عمران صاحب کو، اور دیگر خدمت کرنے والےحضرات کو، انہوں نے اس مدرسہ کی تعمیر وترقی کے لئے اپنا وقت جان مال سب قربان کیا، جس کی بدولت تین ماہ کی قلیل مدت میں ١٣/کمرے، مطبخ ،مطعم، اور استنجاء خانے بن کر تیار ہوگئے، واضح رہے کہ جامعہ کنزالعلوم میں میں شوال ١٤٢٦ء سے ہی تعلیم  کا آغاز ہوگیا تھا، البتہ تین مہینے تعلیم اور قیام مسجد میں رہا، پھر ذی الحجہ میں اساتذہ و طلبہ اس نوتعمیر جامعہ میں منتقل ہوگئے،

جامعہ کنزالعلوم میں ابتدا ہی سے سے مکمل تعلیم کا نظم ہے، یہاں دینیات اور شعبۂ حفظ کے ساتھ ساتھ عالمیت کا مکمل کورس بھی روز اول سے جاری و ساری ہے، بلکہ اسی کے ساتھ یہاں شعبۂ بالغان بھی قائم ہے، جس میں شہر کے تاجر حضرات، ڈاکٹر حضرات اور اسکول کے طلبہ وغیرہ صبح اشراق کے بعد اپنا وقت فارغ کرکے آتے ہیں، اور یہاں نورانی قاعدہ،قرآن مجید، اردو عربی لکھنا پڑھنا سیکھتے ہیں،اور ضروری دینی مسائل کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں، ان میں سے بعض حضرات ایسے بھی ہوئے ہیں،جنہوں نے شعبہ بالغان سےابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسے میں باقاعدہ داخلہ لیا، اور مکمل تعلیم حاصل کی اور سند فضیلت سےسرفراز ہوئے۔

اسی طرح  یہاں خصوصی کا پانچ سالہ کورس بھی قائم ہے، جس میں دسویں پاس اور وہ حافظ جس کی عمر سترہ سال سے زیادہ ہوگئی ہو، اس کو کچھ شرائط کے ساتھ داخلہ دیا جاتا ہے،صوبۂ گجرات میں خصوصی کا کورس بھی سب سے پہلے آپ یہیں قائم ہوا، اس کے بعد دیگر مدارس میں بھی یہ کورس جاری ہوا،

حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح اور حضرت مولانا شریف صاحب مظاہری رح اور کارکنان کی محنتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مختصر سی مدت میں یہ جامعہ احمدآباد کے قابل ذکر اداروں میں شمار ہونے لگا، اور طالبان علوم نبوت بڑی دلچسپی کے ساتھ اس جامعہ کا رخ کرنے لگے،اور علمی پیاس بجھانے لگے، رفتہ رفتہ اس جامعہ میں تعمیراتی لحاظ سے اور ترقی ہوئی، اور مسجد سے متصل اور مسجد کے دائیں بائیں جانب تین نئی عمارتیں بھی قائم ہوئی،جس میں دار الحدیث، طلباء کی رہائش گاہ، دو کتب خانے، ایک ہال، اور مہمان خانہ قائم ہے، جامعہ کا کتب خانہ احمدآباد کے بڑے کتب خانوں میں شامل ہونے کے قابل ہے، اس کتب خانے میں تفسیر،حدیث، فقہ، عربی اور اردو ادب پر مشتمل کتابوں بڑا ذخیرہ ہے،جو مولانا کی علم دوستی کی شہادت دے رہا ہے،آج اس جامعہ کو قائم ہوئے 16 سال گزر چکے ہیں، اور سینکڑوں طلبہ حافظ و عالم ہوکر امت میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، راقم الحروف کو بھی اس جامعہ کے فاضل ہونے کا شرف حاصل ہے،اور گیارہ سال سے زائد عرصے سے اسی مدرسےمیں تدریسی خدمات انجام دے رہا ہے،اللہ تعالی قبول فرمائے، آمین۔

۔

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت