*مخدوم ومکرم حضرت مولانا عبد السّتار صاحب دامت برکاتہم*
*و حضرت مولانا اختر الاسلام صاحب پٹنی*
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
٢٢/جمادی الاولی سنہ ١٤٤٣ھ مطابق ٢٧/دسمبر ٢٠٢١ء بعد نماز فجر متصلا یہ صاعقہ اثر اطلاع ملی کہ صوبۂ گجرات کی ایک عظیم شخصیت زہد وتقوی اور سادگی کے پیکر، اکابر کے سچے جانشین، فناء فی العلم کی صفات سے متصف شخص حضرت مولانا مفتی ابراہیم صاحب آچھودی قدس سرہ اس دار فانی سے دار بقاء کی جانب رحلت فرما گئے، خبر سن کر بہت افسوس ہوا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
احقر کو حضرت سے اس وقت شناسائی ہوئی جب ٢٠٠٠ء کے قریب جامعہ ابن عباس سرخیز احمدآباد میں زیر تعلیم تھا، مفتی صاحب کی وہاں آمد ہوتی رہتی تھی، طلبہ کے مابین آپ کا بیان ہوتا، حضرت مفتی صاحب طلبہ کو بڑے مشفقانہ انداز میں تعلیم حاصل کرنے میں محنت کرنے کی ترغیب دیتے، اور جسمانی صحت کی حفاظت کی طرف بھی توجہ دلاتے، نیز حفظانِ صحت پر مشتمل مفید نسخے بھی بتلاتے، رات بھر بھیگے ہوئے چنے صبح کو کھانے کا نسخہ بتلانا اور اس کے فوائد سے آگاہ کرنا اب بھی یاد ہے، نیز آپ کے پاس ایسے سادہ کم خرچ بالا نشین نسخے بہت سے تھے، ایک مرتبہ والد مرحوم حضرت مولانا محمد شریف صاحب کی طبیعت خراب تھی، کمزوری زیادہ تھی، تو آپ گھر عیادت کے لیے تشریف لائے اور مزاج پرسی کے بعد فرمایا کہ ایسی کھچڑی پکواؤ جس میں دال اور چاول برابر برابر مقدار میں لیے گئے ہوں ۔۔
اور اس کو کھاؤ، اس سے آپ کو تقویت ملے گی،
بعد میں احقر جب جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد سے منسلک ہوا، اس وقت والد صاحب اور مولانا اختر صاحب کے تعارف کرانے کے بعد آپ سے تعلق میں اضافہ ہوا، جب بھی جامعہ میں آپ کی آمد ہوتی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا، اور آپ کے علمی جواہر حاصل کرنے کا موقع نصیب ہوتا، نیز ان ملاقاتوں میں جو چیز آپ میں سب سے زیادہ محسوس ہوئی وہ آپ کی سادگی تھی، یقیناً آپ عبدیت کے بلند مقام پر فائز تھے آپ کے اندر تواضع کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور اس کا یہ عالم تھا کہ نووارد کے لئے حضرت کو پہچاننا مشکل ہوجاتا، اسی طرح زہد میں بھی بہت اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔
یقیناً آپ کی وفات نہ صرف جامعہ رحمانیہ گودھرا کے لئے خسارہ ہے، بلکہ پورے صوبۂ گجرات اور علمی دنیا کا خسارہ ہے،
اراکین جامعہ دارالسلام، کالی بازار، پٹن غم میں برابر کے شریک ہیں، اور خدا تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ حضرت مفتی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، جامعہ رحمانیہ کو آپ کا بدل نصیب فرمائے، اور تمام شاگردوں اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے
آمین یارب العالمین
از: محمد بن مولانا شریف صاحب مظاہری
واراکینِ جامعہ دارالسلام پٹن، گجرات
1 تبصرے
محمد بن مولوی شریف کے بڑے ماموں اقبال پٹنی حضرت کے جنازہ میں شریک تھے۔ ایک جم غفیر تھا۔ جو حضرت مولانا ابراہیم آچھودی کی مقبولیت اور مغفرت پر دلالت کرتا ہے۔
جواب دیںحذف کریں