جلسۂ دستار بندی جامعہ کنز العلوم احمدآباد

 *سالانہ جلسہ اور ایک مبارک اور نیک صالح انسان کی تشریف آوری*


             *محمد عیاض ندوی*





            وقت کی اہمیت تمام کے نزدیک مسلم ہے، زندگی وقت ہی کا نام ہے، *الوقت هو الحياة* وقت ہی وہ نعمت ہے جس کے صحیح استعمال سے انسان ترقی کی راہیں طے کرتے ہوئے ثریا تک پہنچ سکتا ہے، اور غلط استعمال سے قعرِ مذلت میں جا گرتا ہے پھر وہ  کف افسوس ملتا رہتا ہے لیکن *تب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔* 

*سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں* 


*گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں*

         

          وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سال مہینوں کی طرح اور مہینے ہفتوں کی طرح اور ہفتے دنوں کی طرح گزر رہے ہیں۔

       کل ہی کی بات ہے کہ نئے سال کی آمد آمد تھی اور اب یہ بھی ختم ہو چکا ، 

         کچھ وقت پہلے کسی ساتھی کے ذریعے اطلاع موصول ہوئی کہ سالانہ دستاربندی کے مبارک موقع پر حضرت مولانا مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی دامت برکاتہ العالیہ تشریف لانے والے ہیں,اور ختم بخاری شریف کی مجلس کے صدر نشین بھی آپ ہی ہونگے۔

          زمانہ طالب علمی میں درجہ عربی ششم میں اصول تفسیر میں ایک کتاب پڑھنے کا شرف حاصل ہوا تھا *نفحات العبیر* اور اس کتاب کے مصنف کا نام اسی وقت سے دل و دماغ پر ثبت ہوچکا تھا، اور ان کی عقیدت و محبت میں اضافہ کرنے والا ایک اور سبب ان کا حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی سے اصلاحی تعلق تھا لیکن کبھی اس بات کا وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ان سے براہ راست استفادہ کا موقع میسر آسکے گا لیکن محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی زیارت کا بھی شرف حاصل ہوا اور خصوصی و عمومی استفادہ کا بھی، اللہ تعالیٰ حضرت کے سایہ عاطفت کو تا دیر قائم و دائم رکھے۔  آمین یارب العالمین۔

         سالانہ امتحان کے بعد ١٢ مارچ سنیچر کو ظہر کی نماز کے بعد بخاری شریف کی آخری روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے آخرت کی جانب توجہ مبذول کرنے کی تاکید کی۔

          اور ١٣ مارچ اتوار کو جامعہ کنز العلوم واقع جمالپور احمد آباد کا اس کی کشادہ اور وسیع مسجد کے صحن میں سالانہ دستاربندی جلسہ کا انعقاد عمل میں آیا۔

          سالانہ اجلاس کو کامیاب بنانے میں تمام اساتذہ اور طلبہ کمر بستہ تھے، فجر کی نماز کے بعد ناشتہ سے فارغ ہوتے ہی اساتذہ اور طلبہ اپنی مفوضہ خدمات بڑی تندہی سے انجام  دینے لگے۔

         کچھ دیر کے بعد تلاوتِ کلامِ مقدس سے باضابطہ جلسے کا آغاز ہوا، پھر اللہ تعالیٰ کی شان میں مدحیہ اشعار پڑھے گئے، پھر طلبہ نے اردو، عربی اور انگریزی زبان میں جوش وخروش کے ساتھ مؤثر اسلوب میں تقریریں پیش کیں۔

          پھر مولانا مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی دامت برکاتہ العالیہ نے مساہمین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مدارس کے قیام کی ضرورت کو بیان کیا، علم دین کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کیا، درمیان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاشرتی پہلو کو بیان کرتے ہوئے ان اوصاف حمیدہ کو اپنانے کی ترغیب دی۔

         مزید یہ بھی ذکر کیا کہ اگر ہم دنیا میں انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان طریقوں کو حرز جاں بنانا پڑے گا انہیں سینے سے لگا کر غیروں کے طریقوں کو خیرآباد کہنا پڑے گا۔

         پھر فارغ ہونے والے طلبہ کی دستاربندی کی گئی اور انہیں سند فضیلت سے نوازا گیا ،اور تکمیل حفظ کرنے والے طلبہ کو بھی سند حفظ قرآن عطا کی گئی ۔

        اناؤنسری کا فریضہ انجام دینے والے مولانا سعد صاحب ندوی کی اناؤنسری بھی قابل تعریف رہی، اشعار کے انتخاب نے سونے پہ سہاگہ کا کام کیا۔

       آخر میں حضرت ہی کی دعاء مستجاب پر جلسہ مکمل ہوا.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت