حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کی دینی خدمات قسط (3)

 حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کی دینی خدمات


(قسط ثالث)


از: محمد مظاہری ندوی



*اداروں کا قیام*


 ١)جامعہ ابن عباس سرخیز احمدآباد


 حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رحمۃ اللہ علیہ نے دین کی نشرواشاعت کے لئے تدریس کے ساتھ ساتھ مدارس اسلامیہ بھی قائم فرمائے، اس فہرست میں سب سے پہلا نام جامعہ ابن عباس سرخیز احمد آباد کا ہے، آپ اس مدرسے کے بانی تو نہیں تھے، البتہ اس کا آغاز کرنے والےاور اس کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے والے تھے، جا معہ ابن عباس کے بانی مبانی حضرت مولانا عبدالاحد صاحب تاراپوری رحمۃ اللہ علیہ تھے، حضرت مولانا عبدالاحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مدرسہ ہذا کی تعمیر کے بعد حضرت مولانا عبد القادر صاحب ندوی دامت برکاتہم سے اس جامعہ کو چلانے کے لیے ذی استعداد علماء تلاش کرنے کے لئے کہا، آپ نے حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری اور حضرت مولانا شریف صاحب مظاہری رحمہا اللہ تعالیٰ کا مشورہ دیا، حضرت مولانا عبدالاحد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے قبول فرمایا، اور مجلس شوریٰ کی تشکیل کے بعد سنہ١٩٩٨ء میں حضرت مولانا عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ امیر تبلیغ، گجرات کی دعا سے تعلیم کا آغاز ہوا، آپ دونوں حضرات نے اس جامعہ کی ترقی کے لیے دن رات انتھک محنتیں کیں، اور شہر احمدآباد و پٹن اور پالنپور کے طلبہ یہاں تعلیم کے لئے آنے لگے، فارسی اول کی کلاس سے تعلیم کا آغاز ہوا، اور جامعہ کے آغاز کے پانچویں سال ہی دورۂ حدیث (صحاح ستہ) کی تعلیم شروع ہوگئی، واضح رہے کہ شہر احمدآباد کے اداروں میں سب سے پہلے اسی جامعہ میں صحاح ستہ کی تعلیم شروع ہوئی، اس کے بعد جامعہ الفضل جوہاپورہ، اور جامعہ فیضان القرآن سرسپور میں بھی دورۂ حدیث کی تعلیم شروع ہوئی، اب بشمول جامعہ کنزالعلوم جمالپورکے، احمدآباد کے چار مدارس میں دورۂ حدیث کی تعلیم ہوتی ہے، اس زمانہ میں جامعہ میں حدیث کے اساتذہ میں حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کے ساتھ مولانا شریف صاحب مظاہری رح، مولانا اسماعیل صاحب بھلونی رح، مولانا زکریا صاحب اعظمی رح، مفتی کوثر صاحب مظاہری دامت برکاتہم العالیہ( حال استاذ حدیث جامعہ مظاہر علوم سہارنپور وقف) بھی شامل تھے، حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح سنہ ٢٠٠٤ء تک اس ادارے کو پروان چڑھانے میں مصروف رہے، تا آنکہ سنہ ٢٠٠٤ء میں ایک قضیہ نامرضیہ کے پیش آنے پر جمالپور آگئے۔


(٢) جامعہ کنزالعلوم جمالپور،احمدآباد


جامعہ ابن عباس سرخیز سے رابطہ ختم ہونے کے بعد آپ جمالپور تشریف لے آئے، اور یہاں کی ایک شاہی مسجد جو خان جہان مسجد کے نام سے موسوم ہے، اس سے متصل جگہ پر ١٧/رمضان المبارک سنہ ١٤٢٦ھ مطابق ١/نومبر سنہ ٢٠٠٤ء کو جامعہ کنزالعلوم کی سنگ بنیاد رکھی، اور تعمیر کا کام شروع فرمایا، اللہ جزائے خیر عطا فرمائے حاجی عبد الغفور صاحب کو، سلیم خان صاحب کو، حاجی عمران صاحب کو، اور دیگر خدمت کرنے والےحضرات کو، انہوں نے اس مدرسہ کی تعمیر وترقی کے لئے اپنا وقت جان مال سب قربان کیا، جس کی بدولت تین ماہ کی قلیل مدت میں ١٣/کمرے، مطبخ ،مطعم، اور استنجاء خانے بن کر تیار ہوگئے، واضح رہے کہ جامعہ کنزالعلوم میں میں شوال ١٤٢٦ء سے ہی تعلیم کا آغاز ہوگیا تھا، البتہ تین مہینے تعلیم اور قیام مسجد میں رہا، پھر ذی الحجہ میں اساتذہ و طلبہ اس نوتعمیر جامعہ میں منتقل ہوگئے،

جامعہ کنزالعلوم میں ابتدا ہی سے سے مکمل تعلیم کا نظم ہے، یہاں دینیات اور شعبۂ حفظ کے ساتھ ساتھ عالمیت کا مکمل کورس بھی روز اول سے جاری و ساری ہے، بلکہ اسی کے ساتھ یہاں شعبۂ بالغان بھی قائم ہے، جس میں شہر کے تاجر حضرات، ڈاکٹر حضرات اور اسکول کے طلبہ وغیرہ صبح اشراق کے بعد اپنا وقت فارغ کرکے آتے ہیں، اور یہاں نورانی قاعدہ،قرآن مجید، اردو عربی لکھنا پڑھنا سیکھتے ہیں،اور ضروری دینی مسائل کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں، ان میں سے بعض حضرات ایسے بھی ہوئے ہیں،جنہوں نے شعبہ بالغان سےابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسے میں باقاعدہ داخلہ لیا، اور مکمل تعلیم حاصل کی اور سند فضیلت سےسرفراز ہوئے۔

اسی طرح آپ نے یہاں خصوصی کا پانچ سالہ کورس بھی قائم فرمایا، جس میں دسویں پاس اور وہ حافظ جس کی عمر سترہ سال سے زیادہ ہوگئی ہو، اس کو کچھ شرائط کے ساتھ داخلہ دیا جاتا ہے،صوبۂ گجرات میں خصوصی کا کورس بھی سب سے پہلے آپ ہی نے قائم فرمایا، اس کے بعد دیگر مدارس میں بھی یہ کورس جاری ہوا،

حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح اور حضرت مولانا شریف صاحب مظاہری رح اور کارکنان کی محنتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مختصر سی مدت میں یہ جامعہ احمدآباد کے قابل ذکر اداروں میں شمار ہونے لگا، اور طالبان علوم نبوت بڑی دلچسپی کے ساتھ اس جامعہ کا رخ کرنے لگے،اور علمی پیاس بجھانے لگے، رفتہ رفتہ اس جامعہ میں تعمیراتی لحاظ سے اور ترقی ہوئی، اور مسجد سے متصل اور مسجد کے دائیں بائیں جانب تین نئی عمارتیں بھی قائم ہوئی،جس میں دار الحدیث، طلباء کی رہائش گاہ، دو کتب خانے، ایک ہال، اور مہمان خانہ قائم ہے، جامعہ کا کتب خانہ احمدآباد کے بڑے کتب خانوں میں شامل ہونے کے قابل ہے، اس کتب خانے میں تفسیر،حدیث، فقہ، عربی اور اردو ادب پر مشتمل کتابوں بڑا ذخیرہ ہے،جو مولانا کی علم دوستی کی شہادت دے رہا ہے،آج اس جامعہ کو قائم ہوئے 16 سال گزر چکے ہیں، اور سینکڑوں طلبہ حافظ و عالم ہوکر امت میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، راقم الحروف کو بھی اس جامعہ کے فاضل ہونے کا شرف حاصل ہے،اور گیارہ سال سے زائد عرصے سے اسی مدرسےمیں تدریسی خدمات انجام دے رہا ہے،اللہ تعالی قبول فرمائے، آمین۔


(٣)جامعۃ الایمان،ویرمگام،احمدآباد


شہر احمدآباد سے 60 کلومیٹر کی دوری پر ایک قدیم بستی "ویرمگام" کے نام سے واقع ہے، آپ نے ٣٠/ربیع الاول سنہ ١٤٣٣ھ مطابق ٢٤/مارچ سنہ ٢٠١٢ء کو یہاں حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب کاکوسی مدظلہ العالی کے بدست ایک مدرسہ کی سنگ بنیاد رکھوائی، اور اس کا نام "جامعۃالایمان" تجویز فرمایا،اس موقع پر جامعہ کنزالعلوم کے اساتذۂ حدیث اور شہر احمد آباد کے متعدد مفتیان کرام بھی موجود رہے، یہاں جامعہ قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ علاقہ علم کی روشنی سے منور ہو، جہالت دور ہو، اور فرق باطلہ کی طرف سے گمراہ کرنے کی جو محنت ہو رہی ہے، اس کو روکا جاسکے، اور نئی نسل صحیح علم دین سے آراستہ پیراستہ ہو، تاکہ وہ ان باطل فرقوں کی گمراہی سے خود بھی بچیں، اور دوسرے لوگوں کو بھی بچانے کی فکر کریں،

 سنگ بنیاد رکھنے کے بعد جامعہ کی تعمیر کا کام مسلسل جاری رہا،حضرت مولانااحمد صاحب اور حضرت مولانا شریف صاحب اس کی نگرانی کے لیے بار بار احمدآباد سے ویرمگام کا سفر فرماتے رہے،اور وہاں شیر خان بھائی اور حافظ مشتاق صاحب کو بھی اس کی نگرانی کے لیے طے کیا، اللہ کے فضل و کرم سے تین سال کی قلیل مدت میں جامعۃالایمان کی دومنزلہ عظیم الشان عمارت تیار ہوگی،

اور ذی القعدہ سنہ ١٤٣٦ھ مطابق اگست ٢٠١٥ء سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوگیا،شروع میں دینیات اور شعبۂ حفظ کی تعلیم ہوا کرتی تھی، اب ترقی کرتے کرتے عربی دوم تک تعلیم ہوگئی ہے، اور عصری تعلیم میں بھی دسویں کلاس تک کی تعلیم دی جاتی ہے، اور طلباء کی تعداد بھی ڈھائی سو سے تجاوز کر گئی ہے، مولانا رح نے تعلیم کے آغاز کے بعد تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی، بار بار تعلیم کی نگرانی کے لئے خود بھی تشریف لے جاتے،اور جامعہ کنزالعلوم سے بھی اساتذہ کو بھیجتے،

 جامعۃ الایمان میں آپ نے مولانا صلاح الدین صاحب مظاہری سیدھپوری کو صدر مدرس مقرر فرمایا، مولانا صلاح الدین نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا،اور اور جامعہ کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی، آج ویرمگام اور اطراف میں یہ جامعہ اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے، طلبہ کی تعداد روز افزوں بڑھتی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ اس جامعہ کو مزید ترقیات سے نوازے،آمین۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت