حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کی دینی خدمات قسط (4)

 حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاھری رح کی دینی خدمات


قسط رابع


از: محمد مظاہری ندوی



*مکاتب دینیہ کا قیام*

 

آپ نے علمی مشاغل اور مدارس کے قیام کے ساتھ مکاتب بھی قائم فرمائے ہیں، جس سے امت کا ایک بڑا طبقہ مستفید ہو رہا ہے، اس سلسلہ کی سب سے پہلی کڑی مدرسہ مفتاح العلوم ہے۔


*مدرسہ مفتاح العلوم مکھات واڑہ پٹن*


یہ مدرسہ شہر پٹن کے مکھات واڑہ علاقہ میں واقع ہے، آپ نے اس مدرسہ کا قیام اس وقت فرمایا جب آپ والد صاحب کی علالت کی وجہ سے دار العلوم چھاپی سے سبکدوش ہو کر والد صاحب کی خدمت کے لئے پٹن تشریف لے آئے تھے، یہ اپریل سنہ ١٩٩٣ء کا سال تھا، آپ نے اپنے محلے کے جماعت خانہ میں اس مکتب کا قیام فرمایا، اور دیگر اساتذہ کے ساتھ آپ بھی خدمات انجام دینے لگے، اور بڑی محنتوں اور کاوشوں سے اس کو پروان چڑھانے میں مصروف ہوگئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی سالوں میں یہ مدرسہ شہر پٹن میں قابل تحسین نظروں سے دیکھا جانے لگا اور طلبہ کی تعداد میں خوب اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے یہ مدرسہ جماعت خانہ سے مکھات واڑہ کی مسجد میں منتقل ہوگیا، آپ نے اس مدرسہ میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ شعبۂ حفظ بھی شروع فرمایا، جس کے پہلے مدرس حضرت مولانا حافظ نعمان صاحب بھلونی دامت برکاتہم تھے، آپ نے شب و روز کی انتھک محنت سے اس شعبہ کو پروان چڑھایا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پٹن کے ہر محلہ سے طلبہ حفظ کے لئے یہاں آنے لگے، اور یوں بھی یہ وہ زمانہ تھا جب جامعۃ النور، مدرسہ کنز مرغوب کے علاوہ شاید ہی پٹن میں کہیں شعبۂ حفظ ہو، اب تو ماشاءاللہ ان تینوں مدارس سے فارغ ہونے والے حفاظ و علماء کی وجہ سے پٹن کے محلہ محلہ شعبۂ حفظ قائم ہو گئے ہیں، مدرسہ مفتاح العلوم سے اب تک سو سے زائد طلبہ حفظ کی تکمیل کر چکے ہیں، اور شہر پٹن میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، بلکہ ان میں سے کئی ایک دینی اداروں میں اعلی کتابوں کی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں


فی الحال اس مدرسہ میں ٢٠٠ سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں، اور پانچ مدرسین خدمت انجام دے رہے ہیں، جن میں مولانا اقبال صاحب پٹنی اور مولانا شاہد صاحب چاٹاواڑی سب سے قدیم ہے، مولانا شاہد صاحب چاٹاواڑی دامت برکاتہم ٢٢ سال سے شعبۂ حفظ قرآن مجید میں اپنی گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں، جن کے ہاتھوں حفاظ کرام کی ایک جماعت فارغ ہو کر دینی خدمت میں مصروف ہے، الغرض مدرسہ مفتاح العلوم سنہ ١٩٩٣ء سے آج تک پوری آب وتاب کے ساتھ اپنا فیض پہونچا رہا ہے۔


*شہر پٹن واطراف کے مکاتب کی نگرانی*


آپ رح نے اس مکتب کے قیام کے ساتھ ساتھ سنہ١٩٩٣ء سے سنہ ١٩٩٧ء کے اواخر تک حضرت مولانا شریف صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مل کر شہر واطراف شہر میں جو مکاتب قائم تھے اس کی نگرانی کے فرائض انجام دیے، آپ نے اس عرصہ میں ان مکاتب کی ترقی کے لئے خوب جدوجہد فرمائی اور اس کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش فرمائی، اسی طرح آپ ایک طویل عرصے تک جامعۃ النور رختاواڑہ پٹن کی مجلسِ شوریٰ میں بھی شامل رہے،اور اس مکتب کی ترقی میں بھی آپ کی خدمات شامل ہیں


*خانجہاں مسجد جمالپور کا مکتب*


آپ رح نے جامعہ کنز العلوم جمالپور آنے سے قبل ہی اس مکتب کی جانب اپنی توجہ مرکوز فرمائی، آپ ہی اس مکتب کے اساتذہ کا تقرر فرماتے، تعلیم کی نگرانی فرماتے، امتحان کا انتظام فرماتے، اور اس کی ترقی کے لئے ہر ممکن سعی فرماتے، جامعہ کنز العلوم تشریف آوری کے بعد اس میں اور اضافہ ہوا، اور اس کے معیار کو بلند کرنے میں خوب محنت کی، اس مکتب کے قابل ذکر اساتذہ میں مولانا عیسی محمد صاحب رنوجوی، مولانا محمد صاحب ابن مولانا احمد صاحب پٹنی، مولانا شکیل صاحب پٹنی، مولانا صلاح الدین صاحب مظاھری، مولانا لقمان صاحب رنوجوی، مولانا صفوان صاحب کمال پوری ہیں،

اسی کے ساتھ آپ نے اپنی حیات کے آخری سالوں میں جمالپور میں بابا لولوی کی مسجد (جہاں حضرت مدفون ہیں) کے قریب مکتب قائم فرمایا،وہاں کے مدرس مولانا عمران رنوجوی ھیں، جس سے اس علاقے میں خوب فائدہ ہوا، اور دینی بیداری پیدا ہوئی،

نیز مسجد فاطمہ بہرام پورا کا مکتب، جامعہ تقویۃ الایمان (شاہ عالم،احمدآباد) اور مدرسہ تقویۃ الایمان (ننداسن) کی ترقی میں آپ کی قابل قدر خدمات ہیں، اس کے علاوہ احمد آباد کے کئی مکاتب دینیہ کی سرپرستی فرماتے تھے۔


*ویرمگام میں مکاتب کا قیام*


آپ رح نے احمدآباد کے قریب ویرمگام کے علاقے کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بنایا، اور وہاں ایک عظیم ادارہ جامعۃ الایمان قائم فرمایا، جس سے آج اہل ویرمگام اور قرب وجوار کے علاقے اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں، اور تین سو کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں،

اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے ویرمگام میں ہی البدر، ریاپور، اور قاسم پورا، ان تین محلوں میں مکتب قائم فرمائے، اور اس کو پروان چڑھانے کی ہر ممکن سعی فرمائی، جس سے وہاں کے تقریباً ایک ہزار سے زائد مقامی بچے قرآن مجید اور اسلام کی بنیادی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نیز ویرمگام کے قریب ایک چھوٹی سی بستی کوکتا کے نام سے ہے، آپ نے وہاں مکتب قائم فرمایا، جس اس بستی میں خوب فائدہ ہوا،

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا رح کی کاوشوں کو بے انتہا قبول فرمائے،جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے، اور ہم شاگردان کو آپ کے جاری کردہ کاموں کو پروان چڑھانے کی توفیق عطlا فرمائے آمین یارب العالمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت