حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاہری رح کی دینی خدمات قسط (5)

*حضرت مولانا احمد حسین مظاہری رح کی دینی خدمات*


(قسط خامس)


از: محمد مظاہری ندوی



*دعوت و تبلیغ*


حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نےتبلیغ کے حوالے سے بھی قابل قدر خدمات انجام دی ہے، آپ نے سنہ ١٩٧٨ء میں جامعہ مظاہر علوم سہارنپور سے فراغت کے بعد دعوت و تبلیغ کی محنت میں ایک سال لگایا، اس دوران آپنے ہندوستان کے لوگوں میں پھیلی ہوئی بے دینی کو دیکھا، جس سے آپ کے دل میں امت کے درمیان کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوا، اسی بنا پر وطن تشریف لانے کے بعد دیگر دینی خدمات میں مصروفیت کےساتھ ساتھ دعوت و تبلیغ میں بھی آپ لگے رہے،آپ انفرادی ملاقاتیں کرتے، گشت کرتے،مسجدوار جماعت کو مضبوط کرنے کی فکر کرتے، ماہانہ مشوروں میں شرکت فرماتے، ہفتہ واری اجتماع میں آپ کام کو مضبوطی سے تھامنے کی ترغیب دلاتے، اور ان پر خدا تعالی کی جانب سے فرائض کردہ احکامات سے واقف کراتے، آٹھ نو سال تک آپ پٹن میں رہے،اور خوب محنت کی، آج پٹن جو دینی بیداری ہے، اس میں آپ کا بھی وافر حصہ ہے، اس کے بعد دارالعلوم چھاپی تشریف لے گئے،پھر جامعہ ابن عباس اور جامعہ کنزالعلوم جمالپور آنا ہوا، آپ ویسے تو درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ تھے، لیکن تبلیغ کی محنت سے ربط کبھی ختم نہیں ہوا، کسی نہ کسی شکل میں آپ اس مبارک محنت سے جڑے رہے، جمالپور آنے کے بعد جب خان جہان مسجد میں جماعتیں آتیں، تو آپ کبھی فجر بعد اور کبھی عصر بعد ان جماعتوں کے درمیان خطاب فرماتے، اور ان کو جماعت میں نکلنے کے مقاصد،اور ایمان کی حقیقت سے واقف کراتے، اسی طرح آپ احمد آباد کے مرکز (دادا میاں مسجد، دریا پور) جمعرات کو تشریف لے جاتے، اور حیاۃ الصحابہ کی تعلیم فرماتے، آپ کی تعلیم لوگوں کے درمیان مقبول تھی، لوگ بڑا فائدہ محسوس کرتے تھے، نیز آپ موقع بموقع تین روزہ جماعت میں تشریف لے جاتے، اور تبلیغی اجتماعات میں بھی شرکت فرماتے، اکابر تبلیغ سے والہانہ محبت فرماتے، اور تبلیغ کی محنت کو تمام دینی محنتوں کے لیے سرچشمہ تصور فرماتے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ تمام دینی کاموں اس محنت سے پانی پہونچتا ہے،

اسی طرح ہم نے دیکھا ہے کہ اپنی حیات کے آخری چند سالوں میں آپ مہینے میں دو تین روز فارغ کرکے پٹن تشریف لے جاتے، اور اپنے محلہ اور قبیلہ میں دعوت و تبلیغ کی محنت فرماتے، آپ مکھات واڑہ مسجد میں قیام فرماتے، اور اہل محلہ کو جوڑ کر اصلاحی خطاب فرماتے، اور انفرادی ملاقاتیں کرتے، اور بندگان خدا کو ایمان کی اہمیت بتلاتے، آخرت کی فکر دلاتے، آپ کی اس محنت سے خوب فائدہ ہوا، اور دینی بیداری پیدا ہوئی۔


*اصلاحی بیانات*


آپ رح پابندی سے ہر جمعہ جامع مسجد خان جہان میں بیان فرماتے، آپ کے بیان کے مرکزی مضامین میں ایمان کی اہمیت، اراکین اسلام کی اہمیت دلانا، دنیا کی بے ثباتی بیان کرنا، آخرت کی تیاری کی فکریں دلانا، رسومات کو چھوڑنے کی ترغیب دلانا، اولاد کی تربیت کی فکر دلانا، سود کی مذمت بیان کرنا، اور اسلامی مہینوں کے لحاظ سے اس کی فضیلت بیان کرنا ہوتا تھا،

آپ جمعہ کے بیان کے علاوہ ہفتہ واری تبلیغی اجتماع میں بیان فرماتے، دینی اجلاسوں میں خطاب فرماتے، مدارس میں اساتذہ و طلبہ کے مابین تقریر کرتے، نیز محرم الحرام کے مہینے میں اور دیگر مواقع پر آپ ناصحانہ وعظ بھی فرماتے،رمضان کے مہینے میں آپ کے خصوصی خطاب ہوتے، اسی طرح آپ دونوں عیدوں میں پٹن عید گاہ پر خطاب فرماتے تھے، آپ کا خطاب جامع اور قرآن و حدیث کی روشنی میں ہوا کرتا تھا، آپ نے تقاریر کے ذریعہ بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو بخوبی انجام دیا ہے


*تحفظ سنت احمدآباد*


اس شعبہ کا قیام سنہ ٢٠١٠ء میں ہوا، اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ شہر احمدآباد میں غیر مقلدیت اور قادیانیت کے رونما ہونے اور پھیلنے کی خبریں موصول ہونے لگی، تو اس کی روک تھام کی فکروں کو لے کر حضرت مولانا رح اور دیگر علماء احمدآباد خان جہان مسجد میں جمع ہوئے، اور اس سلسلہ میں مشورہ کیا، مشورہ میں یہ طے پایا کہ اس کام کے لئے *تحفظ سنت* کے نام سے ایک مستقل دفتر اور کام کرنے والے افراد کا ہونا ضروری ہے، چنانچہ حضرت مولانا رح کی سرپرستی میں شاہ عالم میں دفتر کا قیام عمل میں آیا، اور اس شعبہ میں کام کرنے کے لئے مولانا منیر صاحب قاسمی کا تقرر ہوا، واضح رہے کہ حضرت مولانا رح کے ساتھ مفتی یحییٰ صاحب، مولانا رضوان صاحب سوداگر، مولانا عبدالعزیز صاحب بھی ذمہ دار طے پائے، 

 اس شعبہ کے ذریعہ غیر مقلدیت اور قادیانیت کے فتنہ کو فرو کرنے کے لئے شہر میں اصلاحی بیانات ہوتے ہیں، جس میں غیر مقلدیت اور قادیانیت کے فتنہ سے لوگوں کو واقف کرایا جاتا ہے، غیر مقلدین سے مناظرے ہوتے، انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ ان کی جال میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے،نیز مدارس کے طلبہ کے مابین رد فرق باطلہ کے عنوان سےمحاضرات پیش کیے جاتے ہیں، اسی طرح مہینے دو مہینے میں میٹنگ ہوتی ہے، کام کی کارگذاری پیش کی جاتی ہے، اور آئندہ کا لائحہ عمل طے پاتا ہے، اسی طرح مولانا منیر صاحب شہر کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک میں اس قسم کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں، اور وہاں کام کی کارگذاری پیش کرتے ہیں، اور کام کرنے کے نئے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتے ہیں،


*تنظیم علماء احمدآباد*


دو تین سال قبل بشمول گجرات کے اور علاقوں کے، شہر احمدآباد میں بھی چاند کے سلسلہ میں اختلاف رونما ہوا، اس اختلاف کو فرو کرنے کے لئے اور آئندہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے شہر احمدآباد کے مختلف مسالک کے علماء کا مشورہ ہوا، اور دو تین میٹنگ کے بعد ایک کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی، جس کا نام *تنظیم علماء احمدآباد* تجویز ہوا، اس کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد رمضان وعید کےچاند میں ہونے والے اختلاف کے وقت امت کی رہنمائی کرنا ہے، اس کمیٹی میں ہر مسلک کے علماء کو رکن بنایا گیا، حضرت مولانا رح بھی اس کمیٹی کے اہم رکن تھے، اور بہت سی مجالس میں آپ کو فیصل مقرر کیا جاتا تھا، آپ کے فیصلے بڑے جامع اور قابلِ قبول ہوا کرتے تھے، اس کمیٹی کا اصل مقصد تو وہی تھا جو اوپر مذکور ہوا، البتہ مشورہ سے یہ بات طے ہوئی کہ جب بھی عمومی تقاضا پیش آئے تو یہ کمیٹی امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے گی، چنانچہ اس کے قیام کے بعد اس نے بہت سے مواقع پر امت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیا، خصوصاً لاک ڈاؤن کے زمانے میں اعلانات کے ذریعہ رہنمائی کا فریضہ انجام دیا گیا، اور امت ان رہنمائی کو قبول کرتی، اور اس پر عمل پیرا ہوتی۔ (جاری) 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت