فاکھة الھند (نظم) کا ترجمہ

*فاكهة الهند*


ترجمہ از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنز العلوم جمالپور احمدآباد 



١- اگر آپ لذید چیزوں میں سب سے عمدہ چیز چاہتے ہیں، تو میرے دوست! آم کے پھل کو اختیار کرو۔


٢- (کیونکہ) وہ دیکھے میں حسین اور سیرت کے اعتبار سے عمدہ ہے، اور ذات کے اعتبار سے نفیس اور صفات کے اعتبار سے بلند ہے۔


٣- باغات میں درختوں پر اس کی سرخی، سبزی اور پیلاپن کیا ہی خوشنما معلوم ہوتا ہے۔


٤- تم پھلوں کو ڈالیوں پر لٹکا ہوا دیکھو گے۔ وہ پلانے والوں کے ہاتھوں میں سر بمہر شراب ہے۔


٥- رنگوں، ذائقوں ، اور شکل و صورت میں کوئی پھل اسی مانند مختلف طرح کا نہیں ہوتا ہے۔


٦- اسی کے ساتھ ساتھ تم اسے صرف ایک ہی قسم مت سمجھو، بلکہ جملہ اقسام مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔


٧- پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے فضل و کرم سے تمام لذیذ کھانے والی چیزوں اور سونگھی جانے والی چیزوں پر اس کو برتری عطا کی۔


٨- وہ اپنی جامعیت کی بنیاد پر تمام پھلوں پر فوقیت رکھتا ہے، جیسے انسان تمام جانوروں پر فوقیت رکھتا ہے۔



٩-بلند و بالا ہے وہ قدرت والی تنہا ذات جس نے اپنی کا ریگری سے ایک پھل میں تمام پھلوں کو جمع کر دیا ہے ۔


١٠- جب وہ ٹہنیوں میں ظاہر ہوتا ہے تو تم اسے دیکھو گے کہ صفات کے اعتبار سے قریب ہے، ذات کے اعتبار سے دور ہے۔


١١- اس کی خوبصورتی اور وفاداری کے کیا کہنے! کہ وہ اپنی ڈالی سے آنسوؤں کے ساتھ جدا ہوتا ہے۔


١٢- لوگوں کیلئے اس میں ضرورتوں کی تکمیل ہے ،جو اس کو کھانے اورپانی سے بے نیاز کر دیتی ہے۔


١٣- جب اللہ تعالیٰ اس کے ختم ہونے پر مطلع کردے، تو اس کے ختم ہونے سے پہلے اس سے لطف اندوز ہولو۔


 ١٤- کیونکہ جب اس کا موسم بجلی کی طرح تیزی سے گزر جائیگا، تو اس وقت سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہ ہو گا-


١٥- اگر اس کی مدت کم ہے،تو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ خوشی کے دن گھنٹوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔


١٦- اے دوست! یہ حمود کیسا؟! چلو ہمارے ساتھ ہم نہروں اور درختوں کی طرف نکلیں۔


١٧- بادل آواره عاشق کے مانند رو رہا ہے، اور بجلی مسکرانے والی لڑکیوں مائند ہنس رہی ہے، (بارش برس رہا ہے اور بجلی کوند رہی ہے) 



۱۸- اور پتے ڈالیوں سے مل کر تالیاں بجا رہے ہیں، اور پرندے بھانت بھانت کے سر میں چہچہارہے ہیں۔


۱۹- کیا آپ نے مبارک پانی نہیں دیکھا، اس نے تمام پھولوں اور غلہ کو کیسے آگا دیا ہے؟!


 ٢٠- کچھ دیر کیلئے خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے زہد وتقوی کو چھوڑ دو، تا کہ ہم ان اوقات کے کاموں کو انجام دیں-


٢١- ہم کھیلیں اور ایک دوسرے پر پھلوں کی گٹھلیاں اور چھلکے عجیب انداز سے پھینکیں۔

٢٢- ہم آج اپنی ذات سے حوادث زمانہ کو دور کردیں، اور اس انداز سے گائیں کہ بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑجائے ۔

٢٢- اگر ملامت کرنے والے تمہیں ملامت کرے، تو ان سے کہہ دو: " مجبوری ممنوع چیزوں کو جائز کردیتی ہے"۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت