دوستی کے حقوق و آداب

*دوستی کے حقوق وآداب*


محمد مظاہری ندوی

استاذ: جامعہ کنز العلوم، جمالپور احمدآباد


)

 عن أبي موسى الأشعري:] مَثَلُ الجَلِيسِ الصّالِحِ والسَّوْءِ، كَحامِلِ المِسْكِ ونافِخِ الكِيرِ، فَحامِلُ المِسْكِ: إمّا أنْ يُحْذِيَكَ، وإمّا أنْ تَبْتاعَ منه، وإمّا أنْ تَجِدَ منه رِيحًا طَيِّبَةً، ونافِخُ الكِيرِ: إمّا أنْ يُحْرِقَ ثِيابَكَ، وإمّا أنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً.

البخاري (ت ٢٥٦)•  أخرجه البخاري (٥٥٣٤)

ترجمہ : حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: بہترین ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال مشک رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے آدمی کی طرح ہے کہ مشک والا یا تو تجھے مشک لگا دیگا، یا تو اس سے خرید لے گا ، یا تجھے اس کی اچھی خوشبو تو پہو نچے گی ہی، اور برے ہم نشین کی مثال آگ کی بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے کہ وہ یا تو تیرے کپڑے جلا دیگا، یا تو اس کی بد بو پاۓ گا۔(صحیح البخاری)


تشریح : انسان لفظ اُنس سے ماخوذ ہے، اس کو انسیت حاصل کرنے کے لئے اپنے علاوہ دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے، بچپن میں وہ والدین سے انس حاصل کرتا ہے، پھراپنے بھائی بہنوں سے، پھر رشتہ داروں سے لیکن جب اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے تو انسیت کے لئے اوراپنی روز مرہ کی ضرورت کے لئے اسے دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے، دوستی کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے، البتہ دوستی کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے، ہر کس و ناکس سے دوستی کر لینا نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو بھی دوست بنانے سے پہلے اس کے طور طریق اور اخلاق و عادات معلوم کرنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ دوست انسان کی زندگی اور اس کے اخلاق وعادات پر کافی اثر انداز ہوتا ہے، مذکورہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اچھا دوست اور اچھا ساتھی مشک رکھنے والے کے مانند ہوتا ہے، اس کے پاس بیٹھنے، اس کے ساتھ رہنے سے، ان کے عمدہ اخلاق منتقل ہوتے ہیں ،اس کی مفید عادتیں دوست پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس کے برعکس برادوست آگ کی بھٹی جلانے والے کی طرح ہوتا ہے، اس کے اخلاق رذیلہ کی سیاہی اس کے ساتھ رہنے والوں کو متأثر کرتی ہے، اور رفتہ رفتہ اس کے برے اخلاق دوست کے اندر سرایت کر جاتے ہیں۔


ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہذا اس کو خوب غور کر لینا چا ہے کہ وہ کس کو دوست بنارہا ہے؟ ( سنن ترمذی:۲۳٧٨) اسی طرح حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کو ہی دوست بناؤ اور چاہئے کہ تمہارا کھانا متقی لوگ ہی کھائیں۔(سنن ترندی ۲۳۹۵)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف مومنوں سے دوستی رکھے، کافروں سے دوستی نہ رکھے، اور متقی اور پر ہیز گارلوگوں کے ساتھ میل جول رکھے، کیونکہ ان سے میل جول رکھے گا تبھی وہ متقی لوگوں کو اپنے یہاں بلاۓ گا اور ان کو کھانا کھلائے گا، اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صرف متقی لوگوں کو ہی کھانا کھلانا ہے اور ان ہی کی دعوت کرنی ہے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جیسے لوگوں سے میل جول رکھتا ہے، اٹھتا بیٹھتا ہے، انہی کو اپنے گھر کھانے کے لئے بلاتا ہے ، اگر متقی لوگوں سے تعلق رکھے گا تبھی تو ان کو کھانے پر بلائے گا ۔


*دوستی میں اعتدال ضروری ہے*


دوستی کرنے میں اعتدال بے حد ضروری ہے، دوستی میں حد تجاوزی کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں: "زر غبا تزدد حبّا" وقفہ وقفہ ملاقات کیا کرو، محبت میں اضافہ ہوگا۔ ( المعجم الا وسط : ۲/ ۲۱۰) دوستی کرنے میں انسان اتنا آگے نہ بڑھ جائے کہ اپنے اہل وعیال کے حقوق پامال ہونے لگے، جیسا کہ موجودہ زمانے میں ہور ہا ہے کہ لوگ صبح سے شام تک اپنے کاروبار اور دوسرے کاموں میں مصروف رہتے ہیں، اور رات کے وقت جب گھر لوٹتے ہیں،تو صاحب کھانا تناول فرماتے ہی دوستوں کی محفل کی طرف سرپٹ دوڑے چلے جاتے ہیں، اور گھنٹوں ان کے ساتھ فضول باتوں،غیبتوں اور بےہودہ کاموں میں وقت گزار دیتے ہیں، اور بالکل نڈھال ہوکر اور رات کا ایک بڑا حصہ گزرجانے کے بعد اس وقت گھر لوٹتے ہیں جب بیوی، بچے، والدین سب انتظار کرکے نیند کی آغوش میں جاچکے ہوتے ہیں، اس طرح دوستوں پر لوگ بے دریغ روپیہ صرف کر دیتے ہیں اور اہل وعیال کو ضروری نفقہ دینے میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں، نیز دوستوں کے ساتھ سبھی راز کی باتیں ساجھا کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے مستقبل میں پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں، یہ سب حد تجاوزی کی مثالیں ہیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس بے اعتدالی پر تنبیہ کرتے ہوۓ ارشادفرمایا ہے: اپنے دوست کے ساتھ تھوڑی محبت کرو ہوسکتا ہے کسی دن وہ تمہارا دشمن بن جائے ،اوراپنے دشمن سے تھوڑی دشمنی کرو ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہارا دوست بن جاۓ۔(سنن ترمذی: ۱۹۹۷)


*دوست کے حقوق*

(۱) جان و مال سے مدد کرنا: دوستی کا حق یہ ہے کہ آپ کا دوست جب بھی پریشان حال ہو، تکلیف میں مبتلا ہو، تب اس کی تکلیف اور پریشانی دور کر نے کے لئے، جان ومال صرف کرکے، اس کی ہرممکن مدد کی جاۓ، اس کے مدد مانگنے اور سوال کرنے کا انتظار نہ کیا جاۓ۔


(۲) دوست کو محبت کی اطلاع کرنا: جب دوست سے محبت ہو تو اس محبت کا اس سے اظہار کرنا چاہئے، اور محبت لوجہ اللہ ہونی چاہئے،صرف دنیوی اغراض کے لئے نہ ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں: جب کسی شخص کو اپنے بھائی سے محبت ہو جاۓ تو اس کو اس محبت کی اطلاع کر دے۔(سنن ابی داؤد:٥١٢٤) ایک دوسری حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: جب تم میں سے کسی شخص کو اپنے بھائی سے محبت ہو جاۓ تو اسے چاہئے کہ اس کے گھر جاۓ اور اسے اطلاع دے کہ وہ اس سے اللہ سبحانہ وتعالی کے لئے محبت کرتا ہے۔(مسند احمد ٢١٢٩٤)

(۳) غلطیوں سے چشم پوشی کرنا: دوست کی غلطیوں سے صرف نظر کرے اور چشم پوشی سے کام لے بھی دوستی باقی رہ سکتی ہے، حضرت امام شافعی ارشادفرماتے ہیں: جو شخص اپنے بھائی کی محبت میں سچا ہو، وہ اس کے اعذار قبول کرے اور اس کے عیوب کی اصلاح کرے اور اس کی غلطیوں سے درگزر کرے۔(سنن و آداب ص:۲۷۹) 

(٤) دوست کے راز اور عیوب چھپانا: دوستی کا ایک حق یہ بھی ہے کہ اس کے راز اور عیوب دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرے، بلکہ اگر کبھی دوستی ختم ہو جائے تب بھی اس کے راز فاش نہ کرے قطع تعلق کے بعد اس کے راز اور عیوب ظاہر کرنا کمینہ پن ہے۔

(۵) دوست کے لئے دعا کرنا: دوست کے لئے اس کی زندگی میں اور اس کی وفات کے بعد بھی اس کے لئے دعائے خیر کرتار ہے،

حضرت ابوالدرداء رض سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کوئی بھی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں اس کے لئے دعائیں کرتا ہے تو ایک فرشتہ اس دعا کرنے والے کے لئے کہتا ہے کہ خدا تجھے بھی ویسے ہی عطا کرے (صحیح مسلم :۲۷۳۲)


(٦) وفاداری اور اخلاص: وفاداری اور اخلاص بھی دوستی کے لئے ضروری ہے، جس کسی سے دوستی کرے، مخلصانہ دوستی کرے، دنیوی مفاد حاصل کرنے کے لئے دوستی نہ کرے، اور دوستی کرنے کے بعد اس کو نبھاۓ ،حتی کہ اگر دوست کا انتقال ہو جاۓ تب بھی اس دوستی کا حق ادا کرتے ہوۓ اس کے اہل وعیال کی خبر گیری کرے اور موقع بموقع تعاون کرتار ہے۔

(۷) بے تکلفی کا معاملہ کرنا: دوست کے ساتھ تکلف کا معاملہ نہ کرے، نہ اس سے تکلف کا طالب بنے، امام شافعی فرماتے ہیں: تیرادوست وہ نہیں ہے جس سے دل جوئی کی ضرورت تجھے پیش آۓ۔(سنن و آداب: ۲۷۹)


(۸) اس کے انتقال کے بعد اس کے اہل وعیال اور متعلقین کے ساتھ حسن سلوک کرنا: حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات بکری ذبح فرماتے پھر اس کے اعضاءالگ الگ کاٹ لیتے اور حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کو بھیجا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۳۸۱۸ ) 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت