سیدی سید کی مسجد احمدآباد

جالی والی مسجد (لال دروازہ) احمدآباد گجرات 

"معروف بہ"سیدی سید کی مسجد"


ناقل: محمد مظاہری ندوی

از کتاب: مشایخ احمد آباد



یہ مسجد بہت قدیم اینٹ کی بنی ہوئی سیدی سعید کے مکان سے متصل تھی جس کو ایک مجذوب شیخ ابّن نے بنوانا شروع کیا تھا کہ وفات پاگئے۔ اور اسی مسجد میں دفن کئے گئے۔ ان کے بعد شیخ سعید اس کے متولی ہوئے، اور انہوں نے بھی اس کی تعمیر جاری رکھی ۔ ان کا جب انتقال ہوا تو وہ بھی اسی میں دفن کئے گئے، شیخ سعید نےاس کی بنیاد بہت مضبوط اور بلند کر دی، اسکی چھت قبہ نما بنوائی پتھروں کی جالیاں خاص اہتمام سے بنوا کر اس میں لگوائیں مسجد کو پہلے سے زیادہ نہ صرف وسیع کر دیا بلکہ آس پاس کی تمام زمینیں بھی خرید کر مسجد میں شامل کر دیں۔ صحن کے ساتھ ایک چبوترہ بھی بنوایا۔ اور اس کے داہنے طرف اپنے لئے پتھر کی قبر بنوائی وہ اس سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ پیام اصل آپہنچا اور مسجد نامکمل رہ گئی۔


مسجد کا جاۓ وقوع اور اس کا طول وعرض



قلعہ سے کچھ ہی فاصلہ پر لال دروازه سے متصل یہ مسجد واقع ہے ۔ یہ سیدی سعید کی مسجد کہلاتی ہے ، عمارت کی حیثیت سے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے طول میں ٦٨ اور عرض میں ۳۷ فٹ ہے . پہلے زمانہ میں ہندوؤں کے مندر کی طرح آٹھ گوشے بنا کر ان پر گنبد بنانے کا رواج تھا ۔ اس میں کمانوں کے اوپر گنبد بنا کر سائبان بنایا گیا ہے۔ ایک ایک ستون پر چار چار کمانیں رکھی ہیں۔ مینارے آٹھ گوشے اور سادے ہیں، زینہ کی دیواروں پر نقش و نگار بنا ہوا ہے ۔ ساری دنیا میں اس کی شہرت کا سبب اس کی حسین و جمیل جالیاں ہیں، جن کی کہیں مثال نہیں ہے،

بعض جالیوں پر درخت اور پتیوں کی تصویریں ہیں جو بہت خوبصورت اور نادر، نیز احمدآباد ور گجرات کے آثار قدیمہ کے لئے باعث زینت ہیں، یہ درخت اورپتیاں اس تناسب اور خوبی کے ساتھ نقش کی گئی ہیں کہ ایک چھوٹے سے باغ کا منظر بن گیا ہے ۔ کھجور اور ناریل کے درختوں کی پتیاں اس نزاکت سے بنائی گئی ہیں کہ انسان انہیں دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔


اسکے متعلق غیرملکیوں کی آراء


 مسٹر ہوپ نے لکھا ہے کہ دنیائے مشرق میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، فرگوسن کا بیان ہے کہ دہلی اور آگرہ کہیں بھی ایسی جالیاں نظر نہیں آئیں، ازمنۂ وسطی میں بھی یونان وغیرہ میں اسکی نظیر نہیں ملتی، زار روس اپنی شاہزادگی کے زمانے میں جب احمدآباد آیا تو اس نے ان جالیوں کو دیکھ کر کہا کہ ان میں مختلف درختوں اور ان کی پتیوں کو اس حسن و نزاکت کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ ان کو دیکھ کر لوگ گرد آباد اور ریگستان کو بھول جاتے ہیں، (جہانگیر نے احمد آباد کا نام گرد آباد رکھا تھا) حالانکہ اس وقت احمدآباد تقریبا ویران ہو گیا تھا، اور اس کی ساری رونق ختم ہوگئی تھی، سرجان مارشل یسا نکتہ چین بھی اقرار کرتا ہے کہ یہ مسجد اپنی خوبصورت جالیوں کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہے، خصوصا اس کی دو جالیوں میں پھول، پھل ، درخت اور بیل جیسا خوبصورت نقش و نگار کہیں دوسری جگہ دیکھنے میں نہیں آیا، فرگوسن نے کہا کہ یہ مصنوعی نہیں بلکہ اصلی معلوم ہوتا ہے، ان کا بنانے والا اپنے فن کا ماہر بلکہ موجد تھا ۔ اس نے اپنے دماغ اور فکر سے نئے نئے نقشے بنائے اور ان کو عمل میں لایا، اس نے پتھروں پر اس طرح کے نقش و نگار بنائے ہیں کہ گویا وہ پتھر پر نہیں کپڑے پر بنے ہیں ۔ ان میں زرگر مصور سنگ تراش معمار نجار سب کی روحیں جمع ہوگئی ہیں۔ ایک نمونہ پہلے لکڑی کے تختہ پر بنایا گیا ، جس پر ایک ہزار خرچ ہوا، پھر اس نمونہ کو پتھر پر اتارا گیا ۔ لندن اور نیو یارک کے عجائب خانوں میں اس کی نقلیں موجود ہیں ۔ اس زمانہ میں اس نقش و نگار کی نقل فرنیچر میں بھی کرنے لگے تھے سچ یہ ہے کہ یہ نقش و نگار اس وقت کے باکمال کا ریگروں کا ایک معجزہ تھا۔


مرہٹوں کے زمانہ میں قلعہ بھدر کے قریب ہونے کی وجہ سے اگرچہ اس عمارت کو سخت نقصان پہنچا مگر خوش قسمتی سے اصل مسجد بچ گئی ۔ اور اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچا ۔


مسجد کی موجودہ حالت



مرہٹوں اور انگریزوں کے ابتدائی عہد میں اس مسجد کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی اس میں چونا وغیرہ لگا کر بہت گندہ کر دیا گیا تھا ۔ انگریزوں نے اس میں معاملت دار کی عدالت قائم کر دی ۔ اور ایک سرکاری محکمہ کا دفتر بنادیا عرصہ تک وہ اسی حالت میں رہی اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ کہتے ہیں کہ جالی اکھاڑ کر لندن لے آے جو لارڈ کزن کو آثار قدیمہ سے بڑی دلچسپی تھی ۔ وہ جب وائسرائے مقرر ہو کر ہندوستان آیا تو اس نے آثار قدیمہ کے نام سے ایک مستقل محکمہ قائم کیا اور اس کے قانون کی رو سے مسجد سے عدالت اور دفتر خالی کرا لیے گئے اور اس کی حفاظت کا باقاعدہ انتظام کیا گیا۔


اس کے بعد محکمۂ آثار قدیمہ کے تحت سنی وقف بورڈ نے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔ اس نے مسجد کے لئے امام ، مؤذن وغیرہ

مقرر کئے ، وضو کے لئے پانی کا حوض اور روشنی کا انتظام کیا،اب یہ مسجد آباد ہوگئی ہے اور پانچوں وقت باجماعت نماز ہونے لگی ہے، 


(مشایخ احمد آباد ص ١٦٢- تا ١٦٤) 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت