مولانا سعد چشتی ندوی

رفیق خاص مولانا سعد چشتی ندوی

                                  Saad Chishti Nadwi



مولانا سعد چشتی صاحب اور ہماری رفاقت بچپن ہی سے ہے، ہماری رفاقت کی ابتدا جامعۃ النور رختاواڑہ پٹن سے شروع ہوئی، جب ہم شعبۂ حفظ میں تعلیم حاصل کرتے تھے، وہاں سے مدرسہ مفتاح العلوم پٹن میں منتقل ہوئے، مولانا سعد چشتی نے یہاں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا، اور وہاں حفظ مکمل کیا، حفظ کی تکمیل کے بعد معہد سکروری اور ندوۃ العلماء میں آپ نے مکمل تعلیم حاصل کی، اس کی مدت گیارہ سال پر محیط ہے، مولانا سعد چشتی سے دوسری بار رفاقت اس وقت نصیب ہوئی جب بندۂ ناچیز جامعہ مظاہر علوم سہارنپور سے تخصص فی الحدیث کی تکمیل کے بعد سنہ ٢٠٠٧ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں تخصص فی الادب العربی کے لئے حاضر ہوا، مولانا سعد چشتی اس وقت عالیہ رابعہ میں زیر تعلیم تھے، اور پھر دوسرے سال فضیلت حدیث کے پہلے سال میں انجمن الاصلاح کے ناظم بھی رہے، یہ دو سال رفاقت رہی، مولانا نے ان دو سالوں میں بڑی رہبری اور تعاون فرمایا، اور ہمیں ندوہ کے حالات اور۔ یہاں کے اصول و ضوابط سے واقف کرایا، اور اسفار میں بھی معیت و رہبری حاصل رہی۔

ندوہ سے فراغت کے بعد بندۂ ناچیز کا تقرر جامعہ کنز العلوم احمد آباد میں بحیثیت مدرس حدیث وادب عربی ہوا، ایک سال گذرنے پر جب مولانا سعد نے ندوہ سے فضیلت حدیث کا کورس مکمل کرلیا، تو حضرت مولانا احمد حسین صاحب مظاھری نے آپ کو بھی جامعہ کنز العلوم میں تدریس کے لئے بلایا، مجھ سے مشورہ کرنے کے بعد آپ نے جامعہ میں آنے کا فیصلہ کیا، یہاں آمد کے بعد اس رفاقت میں اضافہ ہوا،اب یہ سفر و حضر کی رفاقت ہوگئی، شروع میں کمرہ اور دار المطالعہ میں معیت رہی،بعد میں مولانا کو اسٹاف کواٹرز میں گھر، ہمارے گھر کی بالائی منزل میں ملا۔

 جامعہ کنز العلوم میں بہت سے امور میں رفاقت رہتی ہے،طلبہ سے جداری پرچوں کی تیاری میں، امتحانات کے انتظام میں، نتائج امتحان کی تیاری میں، انجمن کے جلسوں کے اسٹیج سجانے میں، ندائے حرم کے کاموں میں، سالانہ اجلاس اور انعامی اجلاس کی تیاریوں میں، غرض جامعہ کنز العلوم کے ثقافتی پروگرام کی تیاری میں اکثر وبیشتر ساتھ رہنا ہوتا ہے، نیز عصر بعد کی تفریح اور گھر کے سامان لانے میں بھی معیت رہتی ہے۔

مولانا سعد چشتی پٹن کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، خوش مزاج اور مرنجا مرنج طبیعت کے مالک ہیں، شعر و شاعری کا لطیف ذوق رکھتے ہیں، عربی انشاء میں عمدہ دسترس رکھتے ہیں، اردو مضمون نگاری میں بھی اچھی صلاحیت کے مالک ہیں، علوم دینیہ کی تکمیل کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ ہیں، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ سے گریجویشن مکمل کیا ہے، عربی انگلش ترجمہ نگاری میں بھی تجربہ ہے، عربی سے اردو ترجمہ نگاری بھی کرتے ہیں، ماہنامہ ندائے حرم میں مشائخ گجرات پر مستقل تین چار سالوں سے مسلسل مضمون تحریر کررہے ہیں،آپ کا یہ کالم مقبول خواص و عوام ہے، یہ کالم ناچیز کے ایماء پر شروع کیا تھا، لہذا بندہ اس کے ثواب میں شامل مانا جائے گا ( من دل علی خیر فلہ مثل أجر فاعلہ) اس کے علاوہ ترجمان مومن رسالہ میں بھی "اسلام کا نوجوان" کے عنوان سے بھی مستقل کالم تحریر کرتے ہیں، نیز پٹن میں اپنی برادری اور محلہ ثقافتی امور میں دلچسپی کے ساتھ شرکت کرتے ہیں، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی معلومات کے عنوان سے کوئز کے مسابقے منعقد کراتے رہتے ہیں، اور ثقافتی پروگرام میں اکثر اناؤنسر کے فرائض انجام دیتے ہیں، اناؤنسر کی حیثیت سے بھی کافی شہرت رکھتے ہیں،


اللہ تعالیٰ اس رفاقت کو قائم و دائم رکھے، دینی کاموں میں فروغ کا ذریعہ بنائے، الحب فی اللہ کا نمونہ بنائے، اور اس کے اجر سے مالامال فرمائے آمین 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت