وصف قلم (نظم کا ترجمہ)

 وصف قلم 



(١) مجھے میرے حضرت نے دکن کا ایک خوبصورت قلم ہدیہ کیا۔


(۲) اس بلندی کے کیا کہنے! جو زمانہ کے ایک بزرگ عالم کی طرف سے ہے۔


(۳) وہ ایک بہترین چیز ہے جو علوم وفنون کے طالب کو ھدیہ کی جائے۔


(٤) وہ اپنے لعاب سے بندوں کو سیراب کرتا ہے، اور اپنے خون سے سنتوں کو زندہ کرتا ہے۔


(٥) کتنے گم نام ہے! جنہوں نے اس کے ذریعہ وطن میں بڑی شہرت حاصل کی۔


(٦) کتنے ہی مفلس ہے! جنہوں نے اس کے ذریعہ آزمائشوں میں خوب مال جمع کیا۔


(٧) اسکی کوشش سے فتنوں کو ختم کیا جاتا ہے، اور اسکی بزرگی کے سامنے زمانہ جھک جاتا ہے۔


(٨) وہ جنگ میں چمکتی ہوئی تلوار ہے، اور تختۂ دار پر جلد موت لانے والا ہے۔


(٩) وہ اپنے تیر سے باغیوں کو مارتا ہے، اور اسکی نوک سے فتنہ دب جاتے ہیں۔


(۱۰) کتنے ہی بے بس ہیں! جنہوں نے اس کے ذریعہ ذلت و رسوائی کے بعد قوت حاصل کی۔


(١١) کتنے ہی ذلیل ہیں! جنہوں نے اس کے ذریعہ خوب عزت اور انعام حاصل کیا۔


(۱۲) یہ ڈسے ہوئے آدمی کا اپنی پھونک سے علاج کرتا ہے تو وہ بیہوشی کے بعد اٹھ کر چلنے لگتا ہے۔


(۱۳) اسکا شیریں پانی پیاسوں کو سیراب کرتا ہے، گویا کہ ایسا بادل ہے جو برس رہا ہے۔


(١٤) وہ اپنے علاج سے بیمار کو شفا دیتا ہے، اور اپنے جادو سے فتنوں کو ختم کرتا ہے۔


(١٥) کتنے ایسے غیر قادر الکلام ہے! جنہوں نے اس کے ذریعہ فصیح سحبان کے مانند خطبات پیش کئے۔


(١٦) وہ قحط زدہ زمین کو اپنے چشمہ سے سیراب کرتا ہے تو گھنا باغ ہوجاتا ہے۔


(١٧) میں نے اس کو بابرکت جانتے ہوئے اس کو چوم لیا، اور اس کو ایک اچھا انعام شمار کیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت