*« القراءة الراشدة» كا تعارف*
از: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنز العلوم، جمالپور، احمدآباد
"القراءة الراشدہ" علامہ سید ابوالحسن علی الحسنی ندوی رح کی تصنیف ہے، اس کتاب کی تصنیف کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ھندوستان میں اس کتاب اور قصص النبيين پہلے عربی زبان وادب سیکھنے کیلئے یا تو مصر کے نصاب کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں جس میں مصر کی ثقافت وہاں کی تاریخ وہاں کی عظیم شخصیات کا تذکرہ ہوتا تھا۔ اور ایک ہندوستانی کو ان سب چیزوں کی کیا ضرورت؟! یا ایسی کتابوں کی تعلیم ہوئی تھی جس میں کتے بلی بندر کے واقعات تھے، یا ایسی کتابیں جس میں مقفع مسجع عبارتیں تھیں، جس سے طالب علم صحیح انداز نثر نہیں سیکھ سکتا۔
الغرض یہ سب کتابیں ایک ہندوستانی طالب علم اور ایک مسلمان عربی زبان کے طالب علم کیلئے غیر موزوں تھیں، لہذا مولانا ابوالحسن علی ندوی نے سب سے پہلے قصص النبیین تصنیف کی جس کو پڑھ کر عربی زبان کے طالب علم کارشتہ انبیاء اور دین اور اصول دین سے جڑ جائے، اب قصص کے بعد دیگر ایسی ہی ادبی واسلامی کتابوں کی ضرورت باقی تھی چنانچہ آپ نے «مختارات من أدب العرب» تحریر کی، لیکن اس کا معیار بہت اعلیٰ تھا، اب بھی متوسط طلبہ کیلئے عربی زبان وادب پر مشتمل کتاب کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی چنانچہ اسے اسی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے «القراءة الراشدة» نامی کتاب کی تصنیف شروع کی، اس کتاب کی زبان آسان اور عمدہ ہے، نیز اس کتاب میں اسلامی آداب کو واقعات کی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اسی طرح اسلامی تاریخ سے ایسے واقعات منتخب کیے گئے ہیں جو قاری کے اندر اسلامی جذبہ کو بیدار کرنے والے ہوں، اور نثر کے ساتھ ساتھ بہترین نظمیں اور گیت بھی شامل کتاب ہے۔
نیز هندوستانی تاریخ کے عظیم بادشاہوں کے حالات بھی تحریر کیے ہیں، خصوصاً ان سلاطین کے حالات کو تحریر کیا گیا ہے جنہوں نے اسلام کی نشر واشاعت میں کیلئے
جدو جہد کی ہے، الغرض کتاب میں موضوعات کا تنوع پایا جاتا ہے، کتاب کی زبان کو بتدریج اعلیٰ معیار تک پہونچایا گیا ہے، مثلاً پہلے حصہ کی زبان آسان اور مبتدی طلبہ کیلئے موزوں ہے، تو دوسرے حصہ کی زباں قدرے اعلی ہے، اور تیسرے حصے کی زبان پہلے دونوں حصوں کے مقابلہ میں اعلیٰ معیار رکھتی ہے۔
کتاب ہذا میں اسلامی آداب، تواریخ کے ساتھ ساتھ جدیدایجادات، حیوانات، نباتات کے بارے میں بھی معلوماتی دروس ہے،
من جملہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کا قاری عربی زبان وادب سیکھنے کے ساتھ ساتھ علمی، دینی اور تاریخی مضامین سے واقفیت حاصل کرے گا ، روز مرہ کے مضامیں کو لکھنا سیکھے گا واقعات کو قلمبند کرنا، کسی نئی ایجاد اور جانوروں کے بارے میں معلومات کو مضمون کی شکل دینا اس کیلئے آسان ہو جائیگا، اس طرح سے یہ کتاب قاری کیلئے عربی زبان سیکھنے کے بہت سے مقاصد کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
.jpeg)
0 تبصرے