#قـنـاعـت_کـی_حقیقت_وفضیلت
محمد مظاہری ندوی
استاذ: جامعہ کنز العلوم احمدآباد
عـن عبـد الـلـه بن عمرو رضي الله عنهما أن رسول الله ﷺ قال: قد أفلح من أسلم ورزق كفافا وقنّعه الله بما آتاه ( رواه مسلم في الزکوۃ، رقم :۲٤٢٦)
تـرجـمـه: حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص کامیاب ہے جو اسلام لایا اور بقدر کفاف روزی سے نوازا گیا اور اللہ تعالی نے جو دیا اس پر قناعت کی توفیق عطا فرمائی۔(صحیح مسلم)
تشریح : مندرجہ بالا حدیث میں تین صفات سے متصف شخص کو کامیاب بتلایا گیا ہے، ان میں سب سے پہلی صفت اسلام ہے اور ظاہر بات ہے کہ اسلام ہی کامیابی کی شرط اول ہے، اور اسلام میں دخول کے بعد ہی ایک شخص کامیابی کی منازل طے کرنا شروع کرتا ہے اور اسلام کے بغیر دنیا و آخرت میں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہے، اسلام لانے کے بعد دوسری کامیابی یہ ہے کہ خدا تعالی بندے کو اس کی ضرورت کے مطابق روزی عطا کرے، اور تیسری کامیابی یہ ہے کہ خدا تعالی نے جو کچھ دیا ہے اس پر قناعت کی دولت سے مالا مال کر دے ، آج کے اس مضمون میں ہم اسی صفت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے، تو آئیے ! سب سے پہلے ہم یہ معلوم کرتے ہیں کہ قناعت کسے کہتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قناعت وہ چیز ہے کہ انسان کو جائز اور مناسب تدبیر کے بعد جو کچھ مل جاۓ، اس پر راضی ہوجاۓ اور زیادہ کی حرص و ہوس نہ کرے، ورنہ انسان کی حرص تو اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ ساری دنیا بھی اس کو مل جائے تب بھی اس کی خواہشات اور تمنائیں پوری نہ ہوں، اسی فطرت سے آگاہ کرتے ہوۓ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں کہ اگر ابن آدم کو سونے سے بھری ہوئی ایک وادی مل جائے تو وہ چاہے گا کہ میرے پاس سونے کی دو وادیاں ہوجائیں، اور اگر سونے سے بھری ہوئی دو وادیاں مل جائیں تو وہ یہ تمنا کرے گا کہ مجھے تیسری وادی مل جاۓ، اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ (صحیح بخاری، رقم:۵۹۵۹) اس لئے حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمیں یہ بتلاتی ہیں کہ راحت و سکون اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب قناعت کی صفت پیدا کی جاۓ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالی نے تمہاری قسمت میں جو لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جاؤ تو تم دنیا کے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے (سنن ترمذی، رقم:۲۲۲۷)
اب یہاں ذرا ٹھہر کر معلوم کرتے ہیں کہ "غنی" کیا چیز ہے؟ غنی کا ترجمہ عام طور پر مالداری سے کیا جا تا ہے، حالانکہ "غنی“ کی اصل حقیقت ہے دوسروں سے بے نیاز ہو جانا، اب جو شخص دوسروں سے بے نیاز ہو جاۓ وہ غنی یعنی مالدار ہے، چونکہ مالدار اور دولت مند شخص کے پاس روپیہ پیسہ ہوتا ہے اس واسطے وہ دوسروں سے مانگنے کا محتاج نہیں ہوتا اس لئے اس کو بھی غنی کہہ دیا جاتا ہے، ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں "غنی روپے پیسے اور سامان کی کثرت سے نہیں ہوتا بلکہ اصل غنی نفس کا غنی ہے“ (صحیح بخاری ، رقم: ۹۵۶۵) کہ انسان کے دل میں اللہ تعالی کی دی ہوئی چیز پر قناعت حاصل ہو جاۓ اور وہ دوسروں سے بے نیاز ہو جاۓ ، جب یہ خیال پیدا ہو جائے تو وہ انسان غنی ہے، ورنہ پیسے سے انسان غنی نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کے پاس مال و اسباب زیادہ ہو اس کے اندر بے نیازی کی صفت بھی پیدا ہو جاۓ ، بارہا دیکھا اور سنا گیا ہے کہ روپیہ پیسہ اور مال و اسباب کی فراوانی کے باوجود انسان کے اندر اور زیادتی کی طلب ہوتی ہے، اس کے بالمقابل ایک آدمی کے پاس مال و اسباب کی کمی ہے لیکن خدا نے جتنا دیا ہے، اس پر قناعت کرتا ہے اور زیادتی کا طالب نہیں ہے تو وہ قلت مال کے باوجود غنی ہے، اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنی قسمت پر راضی ہو جاؤ تو ساری دنیا میں سب سے زیادہ غنی تم بن جاؤں گے۔(سنن ترمذی)
قناعت کیسے پیدا کی جاۓ؟
قناعت پیدا کرنے کے لئے کوئی محنت اور مجاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ یہ کہ انسان سوچے کہ دل میں خواہشات تو بے شمار پیدا ہوتی ہیں، اور دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کی ہر خواہش پوری ہو جاتی ہو، لہذا ایسی صورت میں اس کے پاس دو راستے ہیں یا تو پوری زندگی خواہشات پوری کرنے کی تگ و دو میں لگا رہے اور سب خواہشات پوری نہ ہونے پر کف افسوس ملتا رہے اور پریشان ہوتا رہے یا اللہ تعالی کی جانب سے جو مل رہا ہے اس کو ہنسی خوشی قبول کر لے اور قانع ہو جاۓ، اب عقلمند انسان یہی صورت پسند کرے گا اور اسی کو اختیار کرے گا۔
قناعت پیدا کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دنیا کے معاملات میں اپنے سے اونچے آدمی کو نہ دیکھے، بلکہ اپنے سے نیچے آدمی کو دیکھے ،اس لئے کہ اگر اپنے سے اونچے آدمی کو دیکھے گا تو ہر وقت دل میں یہ حسرت رہے گی کہ اس کے پاس جیسی گاڑی ہے میرے پاس بھی ویسی ہی گاڑی ہونی چاہئے، اس کے پاس جیسا مکان ہے، میرے پاس بھی ویسا ہی مکان ہونا چاہئے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہوس بڑھتی چلی جائے گی، اس کے برخلاف اگر دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے آدمی کو دیکھے گا تو اس کے اندر شکر کے جذبات پیدا ہوں گے کہ اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں بہت کچھ نعمتوں سے نوازا ہے، مجھے تو اس پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے، یہ سوچنے سے انسان کے اندر قناعت پیدا ہوگی۔
حضرت عبد اللہ بن عون کا واقعہ
ایک محدث عون بن عبداللہ بن عقبہ فرماتے ہیں: میں نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ مالداروں کے ساتھ گزارا (حضرت خود بھی مالدار تھے) صبح سے شام تک مالداروں کے ساتھ رہتا تھا لیکن جب تک مالداروں کے ساتھ رہا غمزدہ رہتا تھا، کیونکہ جہاں جاتا یہ دیکھتا کہ اس کا گھر میرے گھر سے اچھا ہے، اس کی سواری میری سواری سے اچھی ہے، اس کا کپڑا میرے کپڑے سے اچھا ہے، ان چیزوں کو دیکھ دیکھ کر میرے اندر کڑھن پیدا ہوتی کہ مجھے تو نہیں ملا اور اس کو مل گیا، اس کے بعد کم مال والوں کی صحبت اختیار کی اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگا تو مجھے راحت حاصل ہوگئی کیونکہ جس کو بھی دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ میں تو بہت خوشحال ہوں ، میرا کھانا بھی اس کے کھانے سے اچھا ہے، میرا کپڑا بھی اس کے کپڑے سے اچھا ہے، میرا گھر اور سواری بھی اس کے گھر اور سواری سے اچھے ہیں۔(اسلام اور ہماری زندگی٢٧٤/٩ )
قناعت پیدا کرنے کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی سے قناعت مانگنی چاہئے اور اس سلسلہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی دعائیں منقول ہیں، ان میں سے ایک دعا یہ ہے ۔ الـلـهـم قـنِّـعـنـى بـمـا رزقتنى و اخلف على كل غائبة لي منك بخير (مستدرک حاکم: ٣٣٦٠) اے اللہ! جو کچھ آپ نے مجھے رزق عطا فرمایا ہے اس پر مجھے قناعت عطاء فرما دیجئے اور جو نعمتیں مجھے حاصل نہیں ہیں ان کے بدلے مجھے اپنی طرف سے میرے حق میں جو بہتر ہو وہ عطا فرما دیجئے۔
تجارت کو ترقی دینا قناعت کے خلاف نہیں ہے:
حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ بعض لوگ قناعت کا یہ مطلب سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جو شخص تاجر ہے اس کو تجارت آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، قناعت کا یہ مقصد نہیں ہے بلکہ میں نے قناعت کی تعریف میں تین باتیں کہی ہیں، ایک یہ کہ مال کمانے کا طریقہ جائز ہو، دوسرے وہ مال حلال ہو، تیسرے یہ کہ اعتدال کے ساتھ ہو، اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے"أجـمـلـوا فـي الطلب" لہذا اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کمانے کو اپنے اوپر سوار نہ کرو، مال کے خادم نہ بنو، اب اگر ایک شخص جائز طریقہ سے اور اعتدال کے ساتھ اپنے کاروبار کو بڑھا رہا ہے تو شریعت نے اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی اور نہ عمل قناعت کے منافی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے کاروبار کو ناجائز اور حرم طریقہ سے بڑھا رہا ہے وہ تو بالکل ہی حرام ہے، دوسرا یہ کہ اگر چہ ناجائز کا ارتکاب نہیں ہورہا ہے، لیکن اعتدال سے بڑھا ہوا ہے کہ رات دن مال بڑھانے کے علاوہ کوئی فکر ہی نہیں ہے یا اس کاروبار کے نتیجے میں دوسروں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، یہ بھی اعتدال کی حد سے تجاوز ہے، تیسرے یہ کہ آدمی کا روبار میں ایسا مشغول ہوگیا ہے کہ اب اس کو کسی دینی محفل میں جانے کی فرصت ہی نہیں ہے، یہ بھی اعتدال سے خارج ہے اور قناعت کے خلاف ہے۔
بہر حال! اعتدال کے ساتھ جائز طریقے سے دنیا کماؤ، اور جو ملے اس پر راضی رہو، بس اسی کا نام قناعت ہے، اور اس دنیا میں قناعت کے علاوہ راحت حاصل کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے، اللہ تعالی ہم سب کو قناعت کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔ آمین (اسلام اور ہماری زندگی ٢٧٩/٩)

0 تبصرے