سلام آداب و احکام

 #سلام_آداب_واحکام


محمد مظاہری ندوی

استاذ: جامعہ کنز العلوم، جمالپور احمدآباد



عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ أنّ رسول اللہ ﷺ قال: يسلم الراكب على الماشي، والماشي على القاعد، والقليل على الكثير(متفق عليه) وفي رواية للبخاري: والصغير على الكبير“۔ 


تـرجـمـه: حضرت ابو ھریرہ رض فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: سوار آدمی پیدل چلنے والے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے،

اور بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے ۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الاستئذان:٦٢٣٢)


تشریح : حضورﷺ نے سلام کرنے کے آداب بھی اپنی امت کو سکھلائے ہیں منجملہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ راستے میں دو آدمی ملاقات کر رہے ہیں ان میں سے ایک پیدل ہے اور دوسرا گھوڑے یا اسکوٹر یا کسی اور سواری پر سوار ہے تو ادب یہ ہے کہ سوار آدمی پیدل چلنے والے کو سلام کرے، اس کی وجہ یہ ہے سوار ہونے کی بنیاد پر اسے برتری حاصل ہے جس کی بناء پر کبر و غرور پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے، لہذا اس کو سلام کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ اسے اپنی بڑائی کا احساس ختم ہو جاۓ۔ اور تواضع پیدا ہو جاۓ، اسی طرح ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے اور دوسرا وہاں سے گزر رہا ہے تو چونکہ گزرنے والا آنے والے کے حکم میں ہے جیسے کوئی آدمی مکان میں داخل ہو تو داخل ہونے والے کو چاہئے کہ جو لوگ مکان میں پہلے سے موجود ہیں ان کو سلام کرے، اسی طرح چلنے والا بھی بیٹھنے والے کے حق میں ایسا ہی ہے کہ وہ آ رہا ہے اور یہ پہلے سے موجود ہے، اس لئے اس کو چاہئے کہ وہ بیٹھے ہوۓ کو سلام کرے، اور چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے، اور جو شخص عمر یا مقام و مرتبہ کے اعتبار سے چھوٹا ہو تو ظاہر ہے کہ اس کا فرض ہے کہ بڑے کی تعظیم اور ادب کے طور پر اس کو سلام کرے لیکن اگر چھوٹے نے سلام نہیں کیا تو بڑے کو چاہئے کہ وہ چھوٹے کو سلام کرے۔


 بـار بـار سـلام کـرنـا:


اسی طرح اگر کسی سے بار بار ملاقات ہو تو بار بار سلام کرنا چاہئے ،مثلا ایک آدمی کسی ضرورت سے گھر سے باہر نکلا اور پانچ منٹ بعد واپس آگیا تو اس کو چاہئے کہ پھر گھر والوں کو سلام کرے، یوں نہ سوچے کہ ابھی تو یہاں سے گیا تھا اور فورًا ہی واپس آگیا، اب سلام کی کیا ضرورت؟ نہیں بلکہ بار بار سلام کرنا مستحب ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشادفرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص اپنے بھائی کی ملاقات کرے تو سلام کرے، اگر درمیان میں درخت، دیوار یا کوئی پتھر آڑے آ جائے پھر دوبارہ ملاقات ہو تو پھر سلام کرے۔(ابو داود: ۵۲۰۰)


گھرمیں داخل ہوتے وقت سلام کرنا:


 گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا مستحب ہے ، ارشاد باری ہے: فإذا دخلتم بيوتا فسلّموا على انفسكم تحية من عـنـد الـلـه مباركة طيبة (سورۂ نور) جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو سلام کرو اپنے لوگوں پر، یہ اللہ کی طرف سے برکت والی اور پاکیزہ دعا ہے، اور حضورﷺ نے بھی اپنے خادم خاص حضرت انس رض کو اس کی تاکید فرماتے ہوۓ بھی فرمایا تھا: اے بیٹے ! جب تم گھر والوں کے پاس جاؤ تو ان کو سلام کرو، یہ تمہارے اور گھر والوں کے لئے برکت کا ذریعہ ہوگا۔

(سنن ترمذی: ۲۲۹۹)


چھوٹے بچوں کو سلام کرنا:


 چھوٹے بچوں کوسلام کرنا مسنون ہے، اس سے تواضع پیدا ہوتی ہے، اور اس سے بچوں کی تربیت بھی ہوتی ہے ، نبی کریم ﷺ اپنی عظمت اور مقام ومرتبہ کے باوجود اس کا اہتمام فرماتے تھے، حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ چند بچوں کے پاس سے گزرے وہ کھیل رہے تھے، حضور ﷺ نے ان کو سلام کیا۔ ( بخاری: ٦٤٧ مسلم: ٢١٦٨)


بڑے مجمع کو سلام کرنا: 


اگر بڑا مجمع ہوتو ایک مرتبہ دائیں طرف سلام کرے، ایک مرتبہ بائیں طرف اور ایک مرتبہ سامنے کی طرف سلام کرے، اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ جب مجمع میں سلام کرے تو تین مرتبہ سلام کرے چاہے جس طریقے سے کرے، اس کی دلیل یہ ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب کوئی بات کہتے تو اس کو تین مرتبہ دوہراتے تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور جب کسی قوم اور مجمع کے پاس تشریف لاتے اور ان کو سلام کرتے تو تین مرتبہ سلام کرتے ۔(صحیح بخاری:۹۵)


غیر مسلم کو سلام کرنا:


 کافر کو سلام کرنے اور ان کو جواب دینے کے سلسلہ میں علماء کی آراء مختلف ہیں۔

(۱) ان کو ابتداءًا سلام کرنا حرام ہے، البتہ اگر وہ خود سلام کریں تو صرف علیکم کے لفظ سے جواب دیدیں یا ھداک اللہ وغیرہ سے جواب دیدیں۔ابتداء بالسلام کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے ابتداء بالسلام کو منع فرمایا ہے ، ارشاد گرامی ہے: لا تبـدأوا اليهـود ولا الـنـصـاری بـالسـلام فـإذا لـقـيتـم احدهم في طريق فاضطروه إلى أضيـقـه۔(صحیح مسلم: ٢١٦٧) یہود و نصاری کو سلام کرنے میں پہل مت کرو اور جب راستے میں ان سے ملو تو ان کے لئے راستہ مت چھوڑو۔ (۲) صحابہ میں سے حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت ابو امامہ، اور ابن محیریز سے منقول ہے کہ کافرین کو ابتداء بالسلام درست ہے، البتہ اتنا خیال رہے جمع کے بجاۓ واحد کا صیغہ استعمال کیا جائے، ان حضرات کی دلیل وہ روایات ہیں جن میں افشاء سلام کا حکم دیا گیا ہے۔(شرح کتاب الأدب : ٦٧٥ ) لیکن اگر کوئی مسلمان ایسی جماعت کے پاس سے گزرے یا کسی ایسی مجلس میں پہنچے جس میں مسلمان بھی ہوں اور غیر مسلم بھی تو مسلمانوں کا ارادہ کر کے سلام کرنا مسنون ہے، اس کی دلیل آپ ﷺ کا عمل ہے، حضرت اسامہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک ایسے مجمع کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان، مشرکین، بت پرست اور یہود سب مخلوط تھے، تو نبی کریم ﷺ نے اس مجمع کو سلام کیا۔ (صحیح مسلم : ۱۷۹۸)


عورتوں کو سلام کرنا:

 آدمی اپنی بیوی یا محرم عورتوں مثلا ماں، بہن، خالہ، پھوپھی ، نانی ، دادی کو سلام کر سکتا ہے، لیکن اجنبی عورتوں کو سلام کرنے کے سلسلہ میں یہ قید لگائی گئی ہے کہ جب کسی قسم کے فتنہ کا ڈر اور اندیشہ نہ ہو یا ایسی بوڑھی عورت ہو کہ اس کی طرف دل میں شہوت پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہو تو اس کو سلام کرنا جائز ہے ،لیکن اگر اجنبی عورت جوان ہے اور اس کو سلام کرنے سے شہوت یا فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے تو سلام کرنا جائز نہیں ہے، اور اگر عورت نے سلام کیا تو دل میں جواب دے، زبان سے جواب نہ دے، ہاں اگر اس کے محارم وہاں موجود ہوں اور اس نے سلام کیا ہو تو اس صورت میں اس کو جواب دینے میں فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو جواب دے سکتے ہیں۔

(حدیث کے اصلاحی مضامین: ۲۲۳:۱۰)


حضراتِ صحابۂ کرام بوڑھی عورتوں کو سلام کرتے تھے، حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں ایک عورت تھی، دوسری روایت میں ہے کہ وہ بہت بوڑھی تھی، وہ ایک ہانڈی کے اندر چقندر اور جو کے دانے پیس کر پکاتی تھی، جب ہم جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس کے پاس جاتے اور سلام کرتے تھے، تو وہ ہمارے سامنے پیش کر دیا کرتی تھی۔(صحیح بخاری: ۹۳۸)


ھاتھ کے ذریعہ سلام کرنا :


 جس کو سلام کرنا ہے اگر وہ کچھ دوری پر ہے اور اندازہ یہ ہے کہ ہماری آواز وہاں تک نہیں پہنچے گی اس صورت میں اگر ہاتھ سے اشارہ کر دیا جاۓ۔ اور اشارہ کے ساتھ سلام کے الفاظ بھی ادا کر دے تو سلام کی سنت ادا ہو جاۓ گی اور اگر صرف اشارہ کرے اور سلام کے الفاظ ادا نہ کرے تو سلام کی سنت ادا نہ ہوگی ، اس کی دلیل حضرت اسماء بنت یزید کی حدیث ہے وہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ مسجد سے گزرے، اور عورتوں کی ایک جماعت وہاں بیٹھی ہوئی تھی ، تو آپ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے زبان سے سلام کیا۔


رخـصـت هـوتے وقت سلام کرنا:


 مجلس میں آنے کے وقت سلام کرنے کی شرعاً جو حیثیت ہے ٹھیک وہی حیثیت اور ثواب رخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا ہے، حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو پھر سلام کرے، اس لئے کہ پہلے والا سلام آخری والے سلام سے زیادہ اہم نہیں ہے ۔(سنن ترمذی:۲۷۰٦)


جب کوئی سلام کہلائے:


 اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے سلام پہنچاۓ، تو سلام پہنچانے والے اور جس کی طرف سے اس نے سلام پہنچایا ہے دونوں کو جواب دینا مسنون ہے، اور جواب میں یوں کہ علیک و علیہ السلام“ چنانچہ سنن ابی داؤدحدیث:۵۲۳۱ میں غالب بن خطاف البصری سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مجھ سے میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے بیان کیا، میرے والد کہتے ہیں کہ مجھ کو میرے والد نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ آپ ﷺ کے پاس جاؤ، اور میرا سلام کہو، وہ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس گیا اور کہا میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر سلام ہو ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت