رثاء الأندلس نظم کا ترجمہ

رثاء الأندلس

(صالح بن شریف الرندی)


ترجمانی از: محمد مظاہری ندوی

جامعہ کنزالعلوم جمالپور احمدآباد



١- ہر چیز کو عروج کے بعد زوال ہے، تو انسان کو خوشگوار زندگی سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔


۲۔ وہ چیزیں جن کا بہت سی سلطنتوں نے مشاہدہ کیا، یہ ہے کہ اگر لمحوں نے کسی کو ہنسایا ہے،تو صدیوں تک اس کو رلایا بھی ہے۔


۳- یہ دنیا کسی کو باقی نہیں چھوڑتی، اور اچھی حالت ہمیشہ باقی نہیں رھتی۔


٤- حوادثِ زمانہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں، زمانہ میں خوشیاں اور غم دونوں ہیں۔


۵- حادثات کو تسلیاں اور دلاسے آسان کردیتے ہیں، مگر جو مصیبت اسلام پر آئی ہے اس کیلئے کوئی تسلی کی چیز نہیں ہے۔


٦- جزیرۂ اندلس کو ایسی مصیبت پیش آئی جس کیلئے کوئی تسلی کی چیز نہیں ہے، اس پر احد اور ثہلان نامی پہاڑ گر پڑے ہیں۔


٧- زمانۂ اسلام میں اس کو نظرِبد لگ گئی، تو وہاں اسلام میں ایسی کمی آئی کہ شہر کے شہر اور ملک کے ملک اسلام سے خالی ہوگئے۔


٨- بلنسیہ سے پوچھو، مرسیہ کا کیا حال ہوا؟ اور شاطبہ یا جیّان کہاں گئے؟


٩- اور علوم کا مرکز قرطبہ کہاں گیا؟! جہاں کثیر ذیشان علماء پیدا ہوئے!!


١٠- اور حمص اور اس کی تفریح گاہیں؟! اور اس کی بھری ہوئی اور جوش مارتی نہریں کہاں ہیں؟!


۱۱- دینِ حق رنج و ملال میں ایسے رو رہا ہے، جیسا کہ عاشقِ زار اپنے محبوب کے فراق پر روتا ہے۔



۱۲- ملک کا ملک اسلام سے خالی ہوکر ویران ہوگیا، اور کفر سے آباد ہوگیا۔


۱۳- اور وہاں مسجدیں گرجاگھروں میں تبدیل ہو چکیں، اس میں سوائے ناقوس اور صلیب کے کچھ نہیں رہا۔


١٤- یہاں تک کہ محراب جامد ہونے کے باوجود آنسو بہارہے ہیں، اور لکڑی کے بھی منبر نوحہ کناں ہیں۔


١٥- اے اکڑکر چلنے والے انسان!جس کو وطن نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے، (سوچ!)کیا حمص کے بعد بھی وطن انسان کو دھوکہ میں ڈال سکتا ہے؟!


١٦- اس مصیبت نے پچھلی تمام مصیبتوں کو بھلا دیا، اور یہ ایسی مصیبت ہے کہ عرصہ گزرنے کے بعد اس کو نہیں بھلایا جا سکتا۔


۱۷۔ کیا تمہیں اندلس والوں کی خبر ہے؟! کہ بہت سے سوار راتوں رات قوم کی بات لیکر چل پڑے ہیں۔


۱۸۔ ہم میں سے کتنے لوگ ان کمزوروں کی فریاد رسی کریں گے جو قتل کیے جارہے ہیں اور قید کیے جارہے ہیں؟! لیکن کوئی شخص حرکت نہیں کر رہا ہے۔


١٩۔ وہ کونسی چیز ہے جس نے اسلام کے معاملہ میں تم کو جدا جدا کر دیا، حالانکہ اے اللہ کے بندو! تم تو آپس میں بھائی بھائی ہو۔


٢٠- کیا ایسے خوددار لوگ نہیں ہے جن کے پاس ہمت وحوصلہ ہو؟! کیا وہ بھلائی کے کاموں میں مددگار نہیں بنیں گے؟!


۲۱۔ ہائے رے عزت کے بعد قوم کی پستی!! کیا ان کے درمیان ظلم و جور کا دور دورہ ہوگا؟!


٢٢- کل وہ اپنے علاقوں کے بادشاہ تھے!! اور آج کا فروں کے ملک میں غلام بنے ہوئے ہیں؟!


٢٣۔ تم ان کو حیران وپریشاں دیکھوں گے، ان کا کوئی رھبر نہیں ہے، اور ان پر مختلف قسم کی ذلتیں مسلط ہیں۔


٢٤- اگر آپ انکے گرجاگھروں کے قریب ان کی چیخ وپکار سنو تو یہ چیز تمہیں خوفزدہ کردیگی،اور غم چھاجائیگا۔


٢٥- اے خدا! ( کیا عالم ہے؟!)کہ ماں اور بچوں کے درمیان ایسے جدائی ڈال دی گئی، جیسے جسم اور روح کو جدا کر دیا جاتا ہے۔


٢٦- بہت سی بچیاں جو اگتے سورج کے مانند حسین وجمیل تھیں، اور لعل و گوہر معلوم ہوتی تھیں۔


٢٧- ایک بدطینت شخص زبردستی برائی کے لئے انہیں گھسیٹتا جارہاہے، (اس حادثہ پر) آنکھیں اشکبار ہیں، اور دل پریشان ہے۔


٢٨- اس جیسے حادثہ پر دل مارے غم کے پگھل جائیگا، اگر دل میں اسلام و ایمان کی ذرا سی بھی چنگاری موجود ہو۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت