بسم الله الرحمن الرحیم.
على لسان الندوة- نظم کا اردو ترجمہ
الشاعر: احمد بن عبد القادر الکوکنی (م: ١٣٢٠م)
مترجم: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنزالعلوم جمالپور احمدآباد
١- پچھوا اور مخالف سمت چلنےوالی تیز ہواؤں نے سبھی علوم دینیہ کے مراکز کو مٹا دیا۔
٢- ہائے افسوس! مدارس کا نام ونشان مٹ گیا،
ہائے افسوس! مکاتب علم اور علماء پر رو رہے ہیں۔
٣- کیا تم نے ان کی آہ و بکا کو نہیں سنا، جو اس عورت کے مانند رو رہے ہیں جس کا بچہ مرگیا ہو۔
٤- اللہ تعالیٰ رحم فرمائے دین کی اس سر زمین پر، جس کو گردشِ زمانہ کا تیزوتند سیلاب نے ختم کردیا۔
٥- اے پروردگار! رحم فرما اس دین پر جس کی جماعت سے مضبوط اور راسخ القدم حمایت کرنے والے کم ہوگئے۔
٦- اے پروردگار! رحم فرما اس دین اور علمائے دین پر جس کے افسوس کرنے والے کم ہوگئے اور تلوار اور قلم پر بھی
٧- اے باقی ماندہ لوگو! دین اسلام کی حفاظت کرو، تو تمہیں کامیابی حاصل ہوگی، اور دین تمہاری حفاظت کریگا، اور جاہ و حشم کو واپس کریگا۔
٨- میں تم کو ایسے حادثہ کے پیش آنے سے ڈراتا ہوں جس دن نومولود بچہ خوف کی وجہ سے بوڑھا ہوجائیگا۔
٩- سنو! ہر وقت ہوشیار اور چوکنا رہو، کیونکہ آگ (جہنم) سے عقلمند اور دور اندیش شخص ہی بچ سکے گا-
١٠- اور اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، جس کو تمہارے آپسی اختلافات نے کمزور کردیا، اور جو زوال کے قریب ہے۔
١١- یہ کتنے ہی اختلافات ہیں جو سامنے نظر آرہے ہیں، اور جس نے عرب و عجم کے مسلمانوں کو بے وقوف ٹھہرادیا ہے۔
١٢- کیا تمہارے رب نے اس دین کو کامل نہیں بنایا؟ کیا اس نے اپنی نعمت کی تکمیل کیذریعہ تم پر احسان نہیں کیا؟!
۱۳- کاش! مجھے یہ معلوم ہوتا کہ تمہارے آپسی اختلافات اور جھگڑے کس سبب سے ہیں؟
اور اس کے بعد اور کس کو تم حکم کے طور پر قبول کرو گے؟
١٤- بہت سے صاحب فتوی اور بہت سے اپنے بھائیوں کی تکفیر کرنے والے اور گالی گلوچ کرنے والے ہیں ہائے افسوس! اور ہائے شرمندگی!
١٥- یہی وہ چیز ہے جس نے اسلام کی ترقی کو روک دیا ہے، یہی وہ چیز ہے جس نے عزم و حوصلہ کو پست کر دیا ہے۔
١٦۔ اللہ سے ڈرو، اور آپس میں دوست ہوجاؤ، جیسے ہمارے اسلاف اور بزرگوں کا معاشرہ تھا۔
١٧- اللہ سے ڈرو، اگر واقعی تم ان کے جانشین ہو، اور لازمی طور پر حسنِ سلوک میں ان کی پیروی کرو۔
۱۸- اور کج نو عمروں کی تربیت کرکے ان کو مہذب بناؤ، اور ان کو علومِ دینیہ اور حکمت کی باتیں سکھاؤ۔
١٩- تم نے انہیں برباد کردیا جبکہ دوسری قوموں نے علوم فنون حاصل کیے اور عقل و دانش میں بہت سی قومیں فوقیت لے گئیں۔
٢٠- کل (قیامت کے دن) ہر ایک سے اس کے ماتحت کے متعلق پوچھ ہوگی، تو اے علماء کی جماعت! اس وقت تمہارا کیا جواب ہوگا؟


0 تبصرے