مولانا محمد بن مولانا احمد حسین صاحب مظاہریؒ
کچھ یادیں۔ کچھ باتیں
از: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنزالعلوم جمالپور احمدآباد
پھیلی ہیں فضاؤں میں اِس طرح تِری یادیں
جس سمت نظر اُٹّھی آواز تِری آئی
مولانا محمد بن مولانا احمد حسین صاحب مظاہری قریشی سے ہماری پہچان اس وقت ہوئی جب ہم نے آپ کے والد صاحب قائم کردہ مکتب "مدرسہ مفتاح العلوم، مکھات واڑہ، پٹن" میں حفظ کے لئے ہم نے داخلہ لیا، اس وقت وہاں حفظ کلاس نیا نیا شروع ہوا تھا، ہم مولانا محمد، مولانا صدیق، مولانا صابر، وغیرہم حافظ نعمان صاحب بھیلونی سے حفظ کررہے تھے، ہم نے اسی مکتب سے حفظ مکمل کیا، لیکن مولانا محمد صاحب کسی وجہ سے یہاں سے رسولپور گاؤں میں حفظ کے لئے چلے گئے تھے، پھر واپس مکھات واڑہ آگئے تھے اور یہاں تکمیل ہوئی،
حفظ قرآن کریم کی تکمیل کے بعد ہم نے جامعہ ابن عباس سرخیز احمدآباد کا رخ کیا، یہاں آپ کے والد اور ہمارے والد صاحب مولانا محمد شریف صاحبؒ مظاہری مل کر جامعہ کو پروان چڑھا رہے تھے، اور یہ جامعہ بھی بالکل ابتدائی دور میں تھا، ہم دونوں یہاں بھی ساتھ ہوگئے، اور فارسی اول سے مشکوۃ تک کی تعلیم یہاں ساتھ رہ کر حاصل کی، اور اس دوران ساتھ پڑھنا ساتھ کھیلنا، اور اسباق بھی مل کر ہی یاد کرنے ہوتے تھے، اور ساتھ میں اپنے والد کا مطبخ سے ٹفن لانا، اور بچا ہوا کھانا ساتھ میں کھانا سب اچھی طرح یاد ہے، نیز رات کو عشاء کی نگرانی کا وقت ختم ہونے کے بعد اکثر آپ کے والد صاحب ہم دونوں کو اپنی آفس بلایا کرتے تھے، اور تمام کتابوں کے اسباق سنتے، آگے کے سبق کی عبارت خوانی کراتے، غلطی کرنے پر اچھی خاصی تنبیہ کرتے، اردو خوشخطی کی تعلیم دیتے، اور یہ سب کام مکمل ہونے کے بعد ہی اجازت ملتی تھی، اور ہمارے حضرت کو کام میں گھڑی کی طرف نظر کرنے کی عادت نہیں تھی، اس لیے کبھی بارہ بجتے، کبھی ایک، اور بسا اوقات دیڑھ دو بجنا بھی یاد ہے، آفس کے سامنے ہی دونوں حضرت کا روم تھا، اس لیے رات دیر ہوجانے پر کبھی ہمارے والد صاحب کی آنکھ کھلتی تو آکر مولانا کو اطلاع دیتے تب ہمیں چھٹی ملتی، اسی کے ساتھ ساتھ دونوں حضرت کا گھر بھی آمنے سامنے تھا، تو گھریلو تعلقات بھی خوب رہے۔ پھر خدا کی مرضی جامعہ ابن عباس سرخیز احمدآباد کو خیرآباد کہہ کر جمالپور آگئے، یہاں حضرت مولانا احمد صاحب اور حضرت مولانا شریف صاحب مظاہری نے اہالیان جمالپور کے تعاون سے خان جہان مسجد سے متصل زمین پر جامعہ کنزالعلوم کے نام سے ادارہ کی بنیاد رکھی، اور جامعہ ابن عباس کے اکثر طلبہ و اساتذہ یہیں منتقل ہوگئے، اور شوال المکرم سے یہیں تعلیمی سلسلہ شروع ہوگیا، مولانا محمد اور ہم نے ساتھ ہی میں دورۂ حدیث شریف میں داخلہ لیا، اور جامعہ کنزالعلوم کی بنیاد کے پہلے ہی سال ساتھ میں فضیلت کی تکمیل کی، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ یہاں بھی پڑوس میں رہنا ہوا، بلکہ یہاں ہماری اور مولانا کی دیوار بھی ایک ہی ہے، بڑے خوشگوار تعلقات رہے، ایک دوسرے کے کام آنا، ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہوتا ہے، ہمارے بچے ان کے گھر کھیلتے ہیں، ان کے بچے ہمارے گھر کھیلنے آتے ہیں، طٰہ اور حمزہ کی خوب اچھی دوستی ہے، اور ہماری اہلیہ اور ان کی اہلیہ کی بھی خوب بنتی ہے۔
جامعہ کنزالعلوم میں مولانا محمد اور ہماری رفاقت پندرہ سال کے قریب رہی، اس دوران خوب آپسی تعاون رہا، مولانا محمد کی خورد نوازی تھی کہ وہ بہت سی مرتبہ مشکل مقامات میں ناچیز سے رجوع کرتے، مفوضہ تدریسی کتب میں اگر کوئی نئی کتاب ہوتی تو اس کا طریقۂ تعلیم معلوم کرتے، اور ہم بھی ان سے تعاون لیا کرتے تھے۔
مولانا احمد صاحب کے انتقال کے بعد مولانا محمد کو آفس میں بہت سی ذمہ داریاں سپرد ہوئیں اور ہمارے ذمہ بھی آفس کے بہت سے کام متعلق ہوئے، بنا بریں آخری تین سال خوب ہمنشینی رہی، بہت سے تعلیمی کام جیسے رجسٹر اطلاعات میں اساتذہ کے لئے پیغام لکھنا، امتحان کے چارٹ تیار کرنا، نقشۂ ترتیبِ اسباق تیار کرنا وغیرہ ساتھ میں کرتے تھے۔
شوال کے مہینے سے ہی مغرب بعد آفس میں حج کے تذکرے شروع ہو گئے تھے، مولانا آصف صاحب، عبد الحمید چاچا اور مولانا غلام رسول صاحب، اور ہم سب ملکر مولانا محمد کے حج کا تذکرہ کرتے، کبھی مولانا آصف چھیڑتے اور عبد الحمید چاچا ان کی طرف داری کرتے، کام کے ساتھ ساتھ بڑی اچھی محفل جمتی تھی،
لیکن آہ!
اب آفس سونی معلوم ہوگی، اب کس سے حج کے تذکرے کریں گے؟ کس سے حرم کے تذکرے سنیں گے؟ کس سے منی و عرفات کے احوال معلوم کریں گے؟
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے
شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
اخیر ہم بارگاہِ ایزدی میں دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل نصیب فرمائے، اور غیب سے ان کی مدد فرمائے، خدا ان کا معاون و کفیل بن جائے، ان کے بچوں کو حافظ عالم بنائے، اور جامعہ کو ان کا نعم البدل نصیب فرمائے۔
آمین یارب العالمین


4 تبصرے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جواب دیںحذف کریںچلو ایک اچھی خاصی دوستی کا سفر جامعہ ابن عباس سے شروع ہو کر جامعہ کنز العلوم ہوتے ہوے مکہ مکرمہ پر ختم ہوا آپکا دوست مسمی محمد ابن مولانا احمد صاحب اپنی منزل پر اتر گئے ۔ بندہ کی دعا ہے کہ ایک اور رفیق سفر مولوی سعد چشتی آپ کے ساتھ ہے۔دونوں کی کاوشوں سے کنز العلوم کی تعلیم میں اور رنگ بھرےگا آپ دونوں ککو بھی اللہ حج بیت اللہ کی سعادت سے نوازے آمین اقبال پٹنی
جزاک اللہ خیرا ماموں جان! آمین
حذف کریںاللہ تبارک و تعالیٰ مولانا محمد صاحب ک کی مغفرت فرمائیں،
جواب دیںحذف کریںآپ کی اس دوستی کو رجلان تحابا فی اللہ اجتماعا علیہ وتفرقا علیہ کی فضیلت میں شامل فرمائیں اور عرش کا سایہ نصیب فرمائیں
آمین یارب العالمین
حذف کریں