حاجی یوسف صاحب جنتا ایسے تھے

 ★حاجی یوسف صاحب ایسے تھے★


از: محمد مظاھری ندوی



بچھڑا کچھ اس ادا سے رت ھی بدل گئی

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا


۲۷/جنوری ٢٠١٩ء اتوار کا دن اھل پٹن کے لیے بڑے غم و اندوہ کا دن تھا اور کیوں نہ ھو کہ اس دن شہر پٹن کی عظیم شخصیت ھم سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر راھئ ملک بقا ھوگئی، اور یقینا حاجی یوسف صاحب نوراللہ مرقدہ کی وفات شہر پٹن کے لیے ایک عظیم حادثہ ھے آپ کی وفات پر سارا شہر ماتم کناں ھے سب کو ایسا محسوس ھورھا ھے کہ اس نے اپنا عزیز کھودیا ھو اور ایسا کیوں نہ ھو کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی خدا کے راستہ میں قربان کردی تھی جو خدا کے بندوں خدا سے ملانے کی فکر کرتا تھا اور اس کے لیے ھر وقت کوشاں رھا کرتا تھا، آپ کی ذات فناء فی التبلیغ تھی آپ امیر گجرات حضرت مولانا عبد الغنی صاحب نوراللہ مرقدہ کے تربیت یافتہ تھے آپ نے جوانی کا بیشتر حصہ ان کی خدمت میں صرف کیا ھے اور ان کے درد کو اپنے اندر سمویا ھے اور اسی کی برکت تھی کہ دعوت و تبلیغ آپ کے رگ و پے میں سرایت کرگئی تھی، آپ پابندی سے وقت لگاتے تھے، گشت کا خوب اھتمام فرماتے جمعرات کے اجتماع کی پابندی اخیر عمر تک رھی، آنے والی جماعتوں کا اکرام اور اور ان کے راحت و آرام کی فکر کرنا آپ کی گھٹی میں پڑا ھوا تھا جماعتوں کی خدمت کے لیے آپ اپنے کاروبار کی بھی فکر نھیں فرماتے تھے اپنے راحت وآرام کو تج دیا کرتے تھے، بنجر بستیوں میں اس مبارک محنت کی احیاء کی فکر فرماتے اور خدا سے بچھڑے ھوئے بندوں کو خدا سے ملانے کے لیے ھر ممکن کوشش فرماتے ان کو دعوت دیتے ان کی مدد فرماتے، اسی کی برکت ھے کہ کالی بازار محلہ میں خصوصا اور شہر پٹن میں عموما ایک بڑی جماعت اس کام سے منسلک ھوئی،

ضعیفی اور پیرانہ سالی کے باوجود اس محنت میں فرق نہ آیا تھا بلکہ لیل و نھار اسی فکر میں صرف ھوا کرتے تھے،

نیز قرآن کریم سے آپ کو بے انتہاء شغف تھا دعاؤں کا خصوصی اھتمام تھا علماء اور بزرگان دین سے بے انتہاء محبت فرماتے، اپنے چھوٹوں کا بھی اکرام کیا کرتے تھے والد مرحوم حضرت مولانا محمد شریف صاحب نوراللہ مرقدہ سے بے انتہاء محبت فرماتے، ان کے قائم کردہ مکتب جامعہ دار السلام کی ترقی کے حددرجہ فکر مند رھا کرتے تھے اور اس کے لیے دعائیں فرمایا کرتے تھے اور مفید مشوروں سے نوازا کرتے تھے


*بیماری اور وفات*

آپ کو اخیر عمر میں مہلک بیماری لاحق ھو گئ تھی، لیکن اس بیماری میں بھی آپ نماز باجماعت کا اھتمام فرمایا کرتے تھے اورتلاوت قرآن اور ذکر اذکار کی پابندی فرماتے 

اسی کا ثمرہ یہ ھوا کہ خدا نے آپ کو موت اس مبارک دن میں عطا فرمائی جب پٹن میں دینی اجتماع جاری تھا آپ کی نماز جنازہ مدرسہ اسلامیہ کنز مرغوب پٹن کے احاطہ میں بعد نماز عصر ادا کی گئی 

حضرت مولانا قاری ھارون صاحب بھاگلوی استاذ جامعہ نذیریہ کاکوسی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور ھزاروں کا مجمع شریک ھوا،آپ کی تدفین آپ کے آبائی قبرستان بابا دھلوی میں عمل میں آئی،

آپ کے پسماندگان میں پانچ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ھے، آپ کے پانچوں صاحبزادے ماشاء اللہ عالم حافظ ھیں اور سب دین کی خدمت میں مصروف عمل ھے، 

اللہ تعالی آپ کی مغفرت فرماۓ، پسماندگان کو صبر جمیل نصیب فرماۓ، اللہ تعالی آپ کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، اعلی علیین میں آپ کو ٹھکانہ نصیب فرمائے، ان کا نعم البدل شہر پٹن کو نصیب فرمائے، اور ھم سب کو اس مبارک محنت میں لگنے کی توفیق عطا فرماۓ، آمـــیـــن


*آتی ھی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو*

*گلشن تیری یادوں کا مہکتا ھی رھیگا*

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. عزیزم مولوی محمد سلمہ مؤدبانہ گذارش ہے کہ نیک لوگوں کی سوانح کے ساتھ ان کے انتقال کے بعد مرحوم کی تصویر شائع نہ کریں اس پر بہت سے فتاوی میں اشکال ظاھر کیا ہے۔ لہذا اپنے بلاگ سے مرحومین کی تصاویر ہٹا دیں۔

    جواب دیںحذف کریں

نماز کی سنتیں اہمیت و فضیلت